LOADING

Type to search

بلاگ تجزیہ جمہوریت حکومت سیاست فيچرڈ

آنکڑوں کے ڈاکو

تحریر: (ڈی اصغر) ہمارے انقلابی شاعر، جناب مرحوم احمد فراز کے صاحب زادے، جناب شبلی فراز حال ہی میں ٹی وی پر بہت اعتماد سے کچھ کہتے نظر آئے۔ جس کا لب لباب یہ تھا کہ "پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست۔”

ادھر حزب مخالف کے رہنما، ہم خیال سیاستدان اور مبصرین قہقہے لگاتے، کہتے پائے جاتے تھے کہ "جناب کی خوش فہمی کو سلام پر آنکڑے ہمارے حق میں۔” گزشتہ جمعرات کو مملکت خداداد کی ایوان بالا میں موجود چئیرمین سینیٹ، جناب محمد صادق سنجرانی کے خلاف ایک تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی۔ کہنے کو یہ کوئی ایسا بڑا معرکہ نہ تھا۔ پر کوئی سال بھر قبل ہی، جناب کو ایک معرکے کے ذریعے اس نشست پر پیپلز پارٹی کے جادوگر اور سابق صدر، جناب آصف علی زرداری کی تراکیب کے ذریعے، براجمان کروایا گیا تھا۔

ہر انتخابی دنگل کی طرح، یہاں بھی حکومتی اور اپوزیشن کے بڑے بڑے سورما، ایک دوسرے کو پچھاڑنے کے دعوے کرتے نظر آئے۔ بھلا ہو وزیر اعظم محترم کا جنہوں نے سنجرانی صاحب کو قصر بنی گالہ مدعو کر کے ببانگ دہل، اپنے مخصوص انداز میں صرف یہ تین الفاظ مرحمت فرمائے، "گھبرانا نہیں ہے۔”

ایوان زیریں کے قائد ایوان کی آواز میں ایسا اعتماد یقینا انہیں ایمپائر کی انگلی نے بخشا تھا۔ جبھی موصوف اور ان کے زیر ان کے کارندے اسی گردان کی مالا پڑھتے مصروف نظر آئے۔ پیپلز پارٹی کے جواں سال رہنما بلاول بھٹو زرداری نے بھی اپنی "عددی اکثریت” پر ناز اور افتخار کیا۔ انہوں نے بار بار اس دلیل کو دہرایا کہ، موجودہ چئیرمین سینیٹ اس ایوان میں اپنا اعتماد کھو بیٹھے ہیں۔ خدا جانے ان چئیرمین کے ذمے ایسی کونسی "اگنی پریکشا” تھی جس پر بے چارے پورے نہ اتر پائے۔ اور وہ بھی سال بھر کے قلیل سے عرصے میں۔ جناب بلاول نے کئی بار حاضرین اور اپنے مداحین کے آگے گزشتہ برس کے "آزادانہ اور منصفانہ” انتخابات کی تفصیلات بیان کی تھیں۔ ان کی شفافیت پر جو ناقدین انگلیاں اٹھایا کرتے تھے، ان کے لیے سلیس زبان میں جناب نے سمجھا دیا۔ آخر میں لوگ اتنا سمجھ پائے کہ ہر طرف جادو چلا اور بولا وہ بھی سر چڑھ کے۔

کمال ہے ان کی اور آج کل کی "باغی” جماعت نون لیگ پر جو اس جادو اور ٹونے کو بالکل فراموش کر بیٹھے تھے۔ ان بے چاروں کا وقت ظہرانوں اور عشائیوں میں معدوں کو تقویت پہنچانے میں گزرا۔ سوچا تھا کہ مرغ مسلم اور قورمہ کباب جب بریانی یا پلاو بمعہ رائتہ پیٹ کی اندرونی جھلیوں سے ٹکرائیں گے، تو ان کو اپنی اپنی جماعت کا نظریہ یاد رہے گا۔ لیجیے پھر آن پہنچا روز امتحان۔ ٹی وی کے چینلز پر، ہر طرح کے چھ آنے پاو سے لے کے سو روپے کلو کے حساب سے تجزیہ نگار بمعہ کسی حسین میزبان کے جمع کردئیے گئے۔

ان ماہرین کو ویسے لب کشائی کا کشٹ کرنا ضروری نہیں کیونکہ ان کے لب ہلائے بنا ہی لوگ باگ یہ بتا سکتے ہیں کہ یہ دگج موصوف کیا تبصرہ فرماویں گے۔ اس ایوان بالا کے نوشہ بیرسٹر سیف تھے، جن کے آگے ایک عدد درخواست عدم اعتماد رکھی گئی۔ انہوں نے بھی کسی سکول کے معلم کی طرح اس تحریک کے حق میں ووٹ دینے والوں سے ہاتھ کھڑے کروائے۔ گنتی پر چونسٹھ ارکان اس تحریک کے حق میں تھے۔ حزب مخالف کے حمایتی چینلوں نے بغلیں بجانا شروع کر دیں، حالانکہ کھیل تو ابھی شروع بھی نہ ہوا تھا۔ اس کثیر تعداد کے حامیوں کو دیکھ کر مجبورا خفیہ رائے شماری کروانی ہی پڑ گئی۔

اب جتنے خواب خرگوش کے مزے لوٹتے ضمیر تھے، اچانک ان سب کو بیداری نصیب ہوئی۔ دشمنوں نے اڑا دی کہ لگ بھگ چودہ اراکین کے ضمیر کو گلوکوز کے ٹیکے مل چکے تھے۔ سو اس خفیہ رائے شماری میں انہوں نے اپنی جماعت سے بغاوت کرتے ہوئے جناب صادق سنجرانی کے حق میں ووٹ دیے۔ حقیقت اگر بغور دیکھی جائے تو یہ بات بھی مکمل طور پر درست نہ تھی۔

قومی نشریاتی ادارے پر جناب بیرسٹر سیف کی آواز صاف سنائی دی گئی۔ موصوف علی الاعلان فرماتے سنائی دیے "54 اس موشن کے فیور میں ہیں، یہ تو اڑ گیا” خیال رہے کہ اس موشن کو پاس کرنے کے لیے 53 ووٹ درکار تھے۔ پھر کیا بس انتر منتر ہوا اور وہی ہوا جو جادو 2018 کے عام انتخابات میں چلایا گیا۔ اس ایک لفظ کا استعمال بے دردی سے ہوا، جس سے کبھی شعبہ تعلقات عامہ کے جرنیل صاحب خفت اٹھا چکے تھے۔ وہ جادوئی لفظ تھا "ریجیکٹڈ۔”

ترکیب نمبر 420 کا استعمال اور کہنے کو پانچ ووٹ خارج کردیے تکنیکی بنیادوں پر اور اللہ اللہ خیر صلا۔ خالصتا ریاضی کے اصولوں کے عین مطابق گو تعداد 49 ہوتی مگر چونکہ یہاں ریاضی کا کوئی عمل دخل نہ تھا، ایک اضافی جوڑا گیا۔

شائد پورے پچاس کا نمبر پانے کی خاطر یا حکم کے عین مطابق، یوں پانسہ پلٹا دیا گیا۔ حسب مخالف کے جواں سال رہنما چراغ پا ہوئے کہ یہ دھاندلی ہوئی ہے، سب کی آنکھوں کے سامنے ہوئی ہے۔

پہلے صرف وزیر اعظم سیلیکٹڈ تھے اب سینیٹ کے چئیرمین بھی۔ اب کون انہیں یا ان کے والد محترم کو قومی زبان کی مشہور کہاوت یاد دلاتا۔ وہ کیا ہے کہ "جیسی کرنی ویسی بھرنی۔” صوبہ بلوچستان کا احساس محرومی دور کرنے کے لیے جناب سنجرانی کو لایا گیا تھا۔صوبے کا تو پتہ نہیں پر جناب نے خود کو کرسی گرم رکھنے کی عادت سے محروم نہ ہونے دیا۔

پس اس کے بعد "باخبر ذرائع” کے ذریعے یہ اڑائی گئی کہ ایک عدد اراضی کے مشہور زمانہ سرمایہ کار کی ایک عدد نظربند اہم سیاسی رہنما سے کوئی اس تحریک عدم اعتماد کے اڑتالیس گھنٹے قبل ملاقات ہوئی اور وہاں تمام معاملات طے پا گئے۔ اس میں یہ طے پایا کہ حکومت کا ساتھ دیا جائے گا اور سنجرانی صاحب کو قائم رکھا جائے گا۔ پھر کیا تھا، طبلچی میڈیا جو پہلے ہی شاداں تھا اب اس کے ہاتھ ایک نئی طوطا کہانی آگئی۔

قیاس آرائیاں جنم لینے لگیں کہ کس نے کس کو دھوکہ دیا وغیرہ وغیرہ۔ چونکہ اپنا درباری میڈیا وہی دھن بجاتا ہے جس کا اس کو حکم ہوتا ہے۔ تفصیلات یا ان کو کسی کی پھوڑی بھونڈی سی کہانی کے حقائق سے کیا لینا دینا۔ چلیے لمحے بھر کو تسلیم کیے لیتے ہیں کہ اس الف لیلوی داستان میں سچائی ہی سچائی ہے۔ بھائی یہ تو صرف ایک سیاسی جماعت کے رہنما ہیں، ان کے کہے کا اثر دوسری سیاسی جماعت کے اراکین پر کیسے ہوا؟ جنہوں نے تحریک عدم اعتماد پر پھر بھی نفی کی مہر ثبت کی۔ پھر ایسے اہم نظر بند سیاستدان سے میل ملاقات والے بھی عام تو ہوتے نہیں۔ ان کی آمد پر ٹی وی کے خبریں سنسنی پھیلاتی "بریکنگ نیوز” پھوڑنے سے غافل ۔۔۔۔۔، صاحب یہ بات جمی نہیں۔

دو بڑی سیاسی جماعتوں یعنی نون لیگ اور پیپلز پارٹی میں ہمیشہ اعتماد کا فقدان پیدا کیا جاتا رہا ہے اور اس بار بھی بالکل ویسا ہی ہوا ہے۔ میڈیا کی بدولت ایک دوسرے کے لیڈران کی گفتگو کو نمک مرچ لگا کر ان پر تبصرے کئے جارہے ہیں جو اس ممکنہ اتحاد کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ طبلچی میڈیا بھی حسب حکم اسی بے وفائی کی داستان کو بار بار چلا رہا ہے۔ کوئی بھی سب سے اہم نکتے پر اپنی نگاہ ناز کو ٹکنے ہی نہیں دیتا۔

آئیے آپ کی آسانی کے لیے اس اہم ترین نکتے کو بھارت کی ایک تاریخی فلم "شعلے” کے ادا کردہ مکالمےکی زبان میں ایک بار پھر بتلائے دیتے ہیں۔

ملاحظہ فرمائیے:

"ارے او سانبھا!

جی سردار

ای سب گڑ بڑ گھٹالے کے بعد، کتنے آدمی بچے تھے۔

سردار چوون

ارے او سانبھا تیرے کو چاہئیے کتنے تھے

سردار ترپن

ارے او سانبھا! ای آخر میں کونو نمبر میں بات رکی جا کر بول!

سردار پچاس

ارے او بھیجے سے پیدل سانبھا تو یہ حساب ہم کا سمجھائی دے کہ سسرا چوون سے پچاس کا آنکڑا کون بناوے ہے۔

ای تو ہم سے بھی کوئی بڑا ڈاکو ہے جو دن دہاڑے، لوگن کے سامنے، چھاتی ٹھونک کے آنکڑے کھا جاوے ہے۔”

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *