تاریخ کا میلا کفن، آکاش انصاری اپنی ہی دھرتی پر جلاوطن لوگوں کا شاعر

لمبی جدائی جسے میں نے اپنی ایک نظم ”تاریخ کی خونی گلی میں رات وہ مجھ کو ملی“ میں ”فوجی آمر کی خدائی کی طرح“ سے تعبیر کیا ہے۔ آمریتیں فوجی ہوں کہ سول، لمبی ہوں یا چھوٹی، آکاش انصاری ان کے لئے ہر وقت اپنی شاعری میں ایک للکار بنا ہوا تھا

09:20 PM, 19 Feb, 2025

حسن مجتبیٰ

کس کو پتہ تھا کہ یہ شبنم جیسا شاعر، ہمارا دوست ڈاکٹر آکاش انصاری شقی القلب قاتل یا قاتلوں کے ہاتھوں جسم پر چھریوں کے پے در پے واروں سے گزرنے کے بعد آگ کے شعلوں کی نذر کیا جائے گا؟ بظاہر ڈاکٹر آکاش انصاری کا قتل اس کے لے پالک بیٹے نے بڑی بے دردی سے کیا، جسے وہ گھر میں سندھی زبان میں پیار سے ”ننڈھڑو“ (ننھا) پکارتے تھے۔ لیکن کيا فتویٰ فروش ملائوں، خاکی وردی کے خدائوں، جرنیلوں کرنیلوں کو اپنی شاعری میں للکارنے والے آکاش انصاری کا قتل محض باپ بیٹے کے بیچ کی کہانی ہے یا اس سے اوپر کی سازش؟ یا سٹیج سازی سے لرزہ خیز قتل کی واردات؟ سٹیج کے پیچھے وہ ڈائریکٹر اور اداکار جن کے ممکنہ مخفی ہاتھ ہونے کا انکشاف لواحقین اور ان کے سوگوار دوست سوچنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ سب کو معلوم ہے کہ کیوں نہیں سوچ سکتے، وہ تو ہیں ہی فرشتے۔

ہاں ڈاکٹر آکاش کا لے پالک منشیات کا عادی، بگڑا ہوا بیٹا اور ڈاکٹر کے ساتھ پہلے سے ہی اس کے مبینہ کشیدہ تعلقات کی پروفائل اگر نہیں بھی ہے تو اس پر فٹ بیٹھتا ہے۔ سندھی میں کہتے ہیں ”ہم نے نہیں مارا کالے کتے نے مارا۔ کالا کتا جیل میں ہم سارے ریل میں۔“

یہاں میرا سروکار یہ نہیں کہ ڈاکٹر آکاش کو کس نے مارا؟ بس میں یہ جانتا ہوں کہ آکاش انصاری کے آگ میں پھینکے جانے کے بعد گویا سندھ بھی جل کر خاک ہو گیا۔ سندھ پھر سوگوار ہے۔ جیسے بینظیر کے قتل پر، جیسے فاضل راہو کے قتل پر۔ بینظیر پھر بھی بڑے طبقے میں پیدا ہونے کے باوجود غریب طبقوں کی لیڈر تھیں۔ لیکن آکاش انصاری تو شاعر تھا، سراپا محبت تھا، شبنم جیسا نرم مزاج انتہائی حسن و جمال رکھنے والا شخص جس پر اب سندھ کی صبح بال کھولے ماتم کناں ہے۔ اور شامیں لہو رنگ ہیں۔ سندھ کا پانی بھی روتا ہے، سندھ میں ایک شام ِغریباں چھائی ہوئی ہے۔

اس سے پہلے میں نے کتابوں میں پڑھا تھا کہ حق پرست، صوفی آور درویش کیسے مارے گئے تھے۔ منصور حلاج، سرمد، صوفی شاہ عنایت جھوک والے، ہم نے جھمپیر کا صوفی عارف شاہ اور اس کا بھانجا دیکھا جنہیں انتہائی پرسکون کینجھر جھیل کے نیلے پانیوں پر بسنے والے ہجوم نے پتھروں سے سنگسار کر کے مار دیا:

منصور ہو یا سرمد ہو صنم یا شمس الحق تبریزی ہو
اس تیری گلی میں اے دلبر ہر ایک کا سر قربان ہوا

لیکن ڈاکٹر آکاش انصاری کا موت سے اس طرح ملنا ہمیشہ دل میں ایک سوراخ بنا رہے گا۔ جیسے سندھ میں ایسا ہی دکھ سَنت و درویش گائک بھگت کنور رام کے پیر کے مرید کے ہاتھوں قتل پر ہوا ہوگا۔ یا پھر سندھ کے سابق وزیراعظم اللہ بخش سومرو کے قتل پر۔ غم کا نہ کوئی پیمانہ ہے نہ کوئی موازنہ۔

جہاں تک مجھے یاد ہے ڈاکٹر آکاش انصاری سے میری پہلی ملاقات کوٹری میں 1988 میں حسن درس کے توسط سے ہوئی تھی جب ہم دونوں وہاں اس مشاعرے میں شاعری پڑھنے گئے تھے جہاں ڈاکٹر آکاش بطور مہمان خصوصی تھے یا صدارت فرما رہا تھے۔ یہ اس کی عوامی تحریک کے مل مزدوروں کی طرف سے جلسہ تھا جس میں مشاعرہ بھی کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر آکاش مجھے بڑی محبت سے گلے لگا کر ملے تھے، وہ دن اور آج کا دن لیکن اس میں 12 برس کی لمبی جدائی بھی ہے۔ لمبی جدائی جسے میں نے اپنی ایک نظم ”تاریخ کی خونی گلی میں رات وہ مجھ کو ملی“ میں ”فوجی آمر کی خدائی کی طرح“ سے تعبیر کیا ہے۔ آمریتیں فوجی ہوں کہ سول، لمبی ہوں یا چھوٹی، آکاش انصاری ان کے لئے ہر وقت اپنی شاعری میں ایک للکار بنا ہوا تھا۔

وہ آکاش جس کی شاعری نے اپنا سفر ضیاالحق کے مارشل لا یا فوجی آمریت کے عروج کے دنوں سے شروع کیا۔ اس کی فائل پنڈی اسلام آباد میں آئی ایس آئی یا ایم آئی اور آئی بی نے کھولی ہوگی پھر وہ کبھی بند نہیں ہوئی ہوگی۔ انہیں اور ان کے آقاؤں، چیفوں کو یہ بھی اچھی طرح پتہ ہوگا کہ ڈاکٹر شاہنواز کے قتل کے خلاف اگلا مورچہ ڈاکٹر آکاش انصاری بنا، اگر فوجیوں کی دریائے سندھ کے پانی پر ”سبز فارمنگ“ کے نام پر ڈاکہ زنی کے خلاف سندھی مزاحمت یا تحاریک کی آگ پر جو تیل بن سکتی ہے وہ آکاش انصاری کی شاعری ہے۔

آکاش انصاری کی مزاحمتی شاعری کا تجربہ ان کو ایم آر ڈی یا تحریک بحالی جمہوریت سے ہو چکا تھا۔ آکاش کی شاعری ان کی وردیوں کی سلوٹیں خراب کر دیا کرتی تھی۔

اگر آکاش کا قتل فوجی اسٹیبلشمنٹ کی منظم سازش تھی یا آکاش کے بیٹے کے ہاتھوں ان کا قتل ہوا ہے تو اس کا فائدہ دریائے سندھ کے پانی کے ڈاکو ٹولے کو ہو گا جو ”سبز فارمنگ“ کے نام پر سندھ کے پانی پر عظیم ڈاکے کے خلاف سندھیوں کی مزاحمت کا اگلہ مورچہ آکاش انصاری کی شاعری کو ہونا تھا، نیز سول فوجی ڈاکو ٹولے کا سر درد بھی۔

لیکن میں اپنی پہلی ملاقات آکاش انصاری سے اس دن سے جوڑتا ہوں جب وہ لیاقت میڈیکل کالج کے آخری سالوں میں تھے۔ میں نے ان کی شاعری ان کے اپنے ہاتھ سے لکھی ہوئی سندھی ادبی جریدے ”ہلچل“ میں پہلی بار پڑھی تھی جو ”اپنے بھاگ نیارے نکلے“ تھی۔

لیکن یہ ان کی وہ نظم تھی جو انہوں نے ٹھٹھہ میں عرب شیخ شکاریوں کے ہاتھوں 2 کمسن بچیوں کے ریپ کے خلاف لکھی جس میں انہوں نے ان دو بچیوں آمنہ اور فاطمہ کے ساتھ عرب حکمران شکاریوں کے ہاتھوں جنسی زیادتیوں کی شکایت مرسل محمدؐ عربی سے کی۔ ان کی نظم:

بارگاہ رسالت میں ایک مود بانہ عرضداشت
مگر میرے مرسل مجھے معاف رکھنا
کہ جب بھی کوئی حجاج بن یوسف کا ہم شکل
یزید و شمر کی نسل کا کوئی، عرب معظم
پھر کرتا ہے ہم پہ احسان
جب بھی کوئی ابو جہل کا عمامہ پہنے
کوئی ابن ملجم، عرب مکرم
سخی لٹیرا، انجان اُمت کی بیٹی
کسی بھی امی کی عصمتوں کے
ہے پستان نوچے، میں دیکھتا ہوں
اسی امی کی کوکھ سے پھر، جو ابن آدم جنم ہے لیتا
سو ابن مریم چاہے نہ کہلائے، بھلی نہ مہدی ہی کہلائے
مگر ہے اتنا ضرور ہوتا کہ، کچھ حدیثوں اور ہدایتوں کا
بہت عقیدوں اور آیتوں کا، بھرم ہے ٹوٹے
کہ دین کی جنتوں سے آدم، اب بھی بیٹھا ثمر ہے توڑے

( آکاش انصاری)

یہ جنرل ضیاالحق کی فوجی آمریت کا دوسرا سال تھا۔ انہی برسوں میں پھر آکاش کی شاعری شبنم سے شعلہ بن چکی تھی۔ وہ ضیا کے خلاف رسول بخش پلیجو کی عوامی تحریک، اپنی سندھی شاگرد تحریک، سندھیانی تحریک، بچوں کی سجاگ بار تنظیم اور ایم آر ڈی کے جلسوں میں جب فوجی آمریت مخالف شاعری پڑھتا ایسا لگتا ایک آتش فشاں پہاڑ سے لاوا بہہ رہا ہے۔ وہ عوامی تحریک کے سینیئر نائب صدر بھی رہے اور عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی عہدیدار بھی، پلیجو سے ان کی سیاسی راہیں جدا بھی ہوئیں۔ لیکن بطور سندھ کے شاعر وہ سب سے جڑا رہا۔

وہ اپنی طبیعت یا سبھائو میں دریائے سندھ کے پانی اور لہروں جیسا، گنگناتا، بہتا، خاموش اور ٹھنڈا۔ بالکل فیض احمد فیض کے اس شعر جیسا:

غم جہاں ہو، رُخ یار ہو کہ دست عدو
سلوک جس سے کیا ہم نے عاشقانہ کیا

اس نے بائیں بازو کے طالب علم رہنما نذیر عباسی کی جنرل ضیا کی فوجی آمرانہ حکومت میں فوجی تحویل میں بذریعہ تشدد ہلاکت پر اپنی یہ نظم لکھی ”ماں تو رونا نہیں“۔ اس نظم پر ارشاد احمد حقانی نے ”جنگ“ میں سندھ پر اپنے کالموں کے سلسلے میں دو کالموں میں ذکر کیا۔ میں نے اپنے دوست آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس فیڈریشن (اے پی ایم ایس او) حیدرآباد کے صدر ریاض قریشی کو جب یہ نظم سنائی تو اس نے ایم کیو ایم کے جلسے میں پڑھی اور پھر ایم کیو ایم والے پڑھتے رہے۔ وہ آکاش انصاری جس نے یہ بھی لکھا کہ ”جو اجرک کی عظمت کو نہ جان سکے، جو میرے لوگوں کی زبان کو نہ پہچان سکے، اسے کہو وہ میری نگری سے نکل جائے“۔  آکاش کی اسی نظم کو عابدہ پروین سے لے کر صنم ماروی تک سب نے گایا ہے۔ ہم سندھیوں نے اس پر جھومر ڈالی ہے۔ سندھی تو کیا اردو بولنے والے سنتے ہیں تو وہ بھی تعریف کیے بنا نہیں رہتے۔ حالانکہ اس میں شعریت تو ہے لیکن عصبیت بھی ہے۔ مجھے آکاش کی اس طرح کی شاعری کبھی اچھی نہیں لگی۔ مگر یہ آکاش کا حق آزادی اظہار تھا۔

آکاش انصاری کی ایک اور نظم ”جلاوطن“ تمام جلاوطنوں کا گیت ہونا چاہیے بلکہ ان تمام انسانوں کا جو اپنی دھرتی پر بھی جلاوطن ہیں۔

جیسے نیل گگن میں پنچھی اپنا رستہ بھول جائے
جلاوطن میں کیسے اپنے وطن میں جلاوطن رہوں
روز کراچی کے کونے میں اُبھروں ڈوبوں
ڈوب کر ابھروں، گویا میں ہوں تاریخ کا میلا کفن

آکاش انصاری کی رومانوی شاعری بھی اپنا آرٹ، خیال، موسیقیت اور معنویت رکھتی ہے۔ یعنی وہ واقعی انقلابی اور رومانوی شاعری دونوں میں بہت بڑا شاعر ہے۔ وہ شیخ ایاز اور امداد حسینی کے بعد اپنے لہجے، ڈکشن اور انتہائی شگفتگی کے ساتھ آج کے سندھ کا سب سے بڑا شاعر تھا۔

وہ شاعر نہ ہوتا تو بڑا گائک ہوتا کہ اس کا تعلق سندھ کی سریلی اور فنکار، فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والی منگنہار کمیونٹی سے تھا۔ آکاش کے والد بھی بدین کے بہت ہی سریلے فنکار اور شاعر بھی تھے جن کے گھر جب اس بچے نے جنم لیا تو اس کا نام اللہ بخش رکھا گیا تھا۔ محمد یوسف ہو کہ عابدہ پروین یا صنم ماروی، آکاش کی ایک سے ایک گائک اور گائکائوں سے راہ و رسم تھی۔ محمد یوسف تو ان کا یارِ غار تھا۔ محمد یوسف اور ان کے درمیان سروں کی شناخت کا مقابلہ بھی رہتا۔ ان کی دوستیاں شاہ لطیف بھٹائی کی درگاہ کے پیروں فقیروں سے لے کر کیلاش وادی تک تھیں۔

انہیں جگر کا مرض لاحق ہوا اور 2018 میں ان کے جگر کا ٹرانسپلانٹ ہوا۔ اس آپریشن سے قبل وہ اپنے رشتہ داروں عزیز اقارب سے کہتے کہ وہ آئیں اور ان کو جگر عطیہ دینے کے لئے آپنا ٹیسٹ کروائیں کہ ان کا جگر میچ ہوتا ہے کہ نہیں۔ تو رشتہ داروں نے کہا جب ہم عطیہ کرنا نہیں چاہتے تو پھر ٹیسٹ کس چیز کا۔ تب سے وہ کہا کرتے تھے کہ ان کا خون کے رشتوں پر سے اعتبار اُٹھ گیا ہے۔ لیکن ایک دن ان کے محلے کے نوجوان نے ان کا دروازہ کھٹکھٹایا جو کہ ایک قصاب تھا اور ڈاکٹر آکاش سے کہا کہ ”اگر میرا جگر آپ کے ساتھ میچ ہوتا ہے تو میں اپنا آرگن آپ کو عطیہ کرنے کو تیار ہوں“۔ ڈاکٹر آکاش کے ساتھ یہ نوجوان اسلام آباد پمز اسپتال گیا اور اپنا آرگن عطیہ کیا۔

ظاہر ہے کہ ٹرانسپلانٹ کے بعد آکاش کو پینے پلانے سے احتیاط برتنی ہوتی تھی۔ ایسی محفل یاراں کو وہ ”کلاسز“ کہتا۔ ایک دفعہ ایسی محفل یاراں میں انہوں نے جام اٹھا لیا تو ہمارے ایک دوست ان پر بڑے ناراض ہوئے۔ کہنے لگے کہ یار ڈاکٹر آپ نے ابھی ٹرانسپلانٹ کرایا ہے۔ چائے پی لیتے۔ تو اس پر آکاش نے کہا "مہربان میں نے 80 لاکھ روپے ٹرانسپلانٹ پر اس لئے نہیں لگائے کہ واپس آ کر چار روپے کی چائے پیوں۔"

ڈاکٹر آکاش انصاری نے بدین شہر میں کلینک بھی چلایا اور سندھی اخبار ”روز نامہ سوال“ بھی نکالا۔ میرے دوست حسن درس اور اظہار سومرو اس کے ایڈیٹر بھی رہے۔ میں حسن اور آکاش سے مذاق میں کہتا دو اتنے بڑے شاعر ایک ہی چھت کے نیچے ہو، اخبار میں مضمون شائع کرو کہ ”کیا ہے بش نے عراق کو متنبہ“۔ میرا ایک دوست کہنے لگا کہ ”این جی اوز تیسری دنیا کے ذہین مگر کنگلے نوجوانوں کو امیر بنانے کے نسخے ہیں“۔

آکاش انصاری این جی اوز یا ڈویلپمنٹ سیکٹر میں نہیں جاتا تو نہ ہی اس کے اپنے اس کے دشمن بنتے اور نہ ہی اس کے پرانے دوستوں کے درمیان خلیج پڑتی۔ ان کا قتل کسی نے بھی کیا ہو ان کے قتل سے فائدہ محض انسان دشمن اور سندھ دشمن قوتوں کو ہوا ہے جو دریائے سندھ کو ریت کے دریا میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ فتویٰ بیچنے والے ملاؤں کو ہوا جو دین کو دھندا سمجھتے ہیں، ایسے میں سندھ کے اوپر سے شاعری کا آکاش ہٹ گیا۔ اس نے کہا تھا ”میری موت کے ذمہ دار کوئی اور اور نہیں ہوں گے، میرے اپنے ہی محافظ ہوں گے“۔ کئی برس پہلے اس نے اپنی شاعری میں اپنی قبر کا کتبہ بھی لکھ چھوڑا تھا۔

دوستو کتبہ دیکھ رہے ہو؟ کون ہوں میں
میں کہ اپنی سندھ کی مٹی کا چھوٹا ڈھیر ہوں
میں دین دھرم کے دھوکوں سے دور دور رہا
میں انسانیت کی منزلوں کی طرف اٹھتا قدم ہوں

آکاش کا انسانیت کے طرف اٹھتے قدموں کا سفر ان کی شاعری کی صورت رکنے والا نہیں کیونکہ ان کی شاعری کی چار کتابوں کا ترجمہ ڈاکٹر سحر گل بھٹی کر چکی ہیں۔

مزیدخبریں