جہاں پہاڑوں میں ڈھول گونجتے ہیں: وادیٔ کیلاش کی ایک جھلک

جیسے جیسے تہوار آگے بڑھتا گیا، ڈھول ہر تقریب کی روح بن گیا۔ مرد و خواتین گول دائروں میں کھڑے ہو کر گھنٹوں روایتی رقص کرتے رہے، جبکہ پہاڑوں میں لوک گیتوں کی آوازیں گونجتی رہیں۔ یہ سب کچھ کسی نمائشی شو سے زیادہ ایک زندہ ثقافتی روایت محسوس ہو رہا تھا، جو نسل در نسل منتقل ہوتی آئی ہے۔

10:17 PM, 19 May, 2026

سراج بھاگت

چترال سے کیلاش تک کا راستہ دشوار، تنگ اور خطرناک موڑوں سے بھرپور تھا، جہاں ایک طرف بلند و بالا ہندوکش کے پہاڑ اور دوسری جانب گہری کھائیاں سفر کو سنسنی خیز بنا رہی تھیں۔ مگر ہر موڑ کے ساتھ ایک بے چینی اور اشتیاق بھی بڑھتا جا رہا تھا کہ پاکستان کی ایک منفرد تہذیب کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملنے والا ہے۔

اسلام آباد سے تقریباً دس گھنٹے کے سفر کے بعد جب میں بمبوریت پہنچا تو تاریخی چِلم جوشی فیسٹیول اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جاری تھا۔ برسوں سے میں نے کیلاش کے لوگوں، ان کی رنگا رنگ ثقافت، منفرد مذہبی روایات اور تہواروں کے بارے میں سنا تھا، مگر اسے اپنی آنکھوں سے دیکھنا کسی اور ہی دنیا میں قدم رکھنے جیسا محسوس ہوا۔

ہر سال مئی کے مہینے میں 13 سے 17 تاریخ تک منایا جانے والا چِلم جوشی دراصل موسمِ گرما کی آمد کا جشن ہے۔ یہ خوشی، شکرگزاری، رقص، موسیقی اور اجتماعی میل جول کا تہوار ہے۔ خواتین نے سیاہ رنگ کے روایتی لباس زیب تن کیے ہوئے تھے، جن پر رنگ برنگی کڑھائی، موتیوں اور صدفوں کی خوبصورت سجاوٹ تھی، جبکہ روایتی ٹوپیاں اور زیورات پورے ماحول کو مزید رنگین بنا رہے تھے۔

خود کیلاش وادی کسی فلمی منظر سے کم نہ تھی۔ لکڑی اور پتھر سے بنے گھر، ہر جگہ سے بہتے چھوٹے چھوٹے چشمے، اور کھلے میدانوں میں آزادی سے کھیلتے بچے — یہاں کی زندگی فطرت کے قریب اور پُرسکون محسوس ہوتی ہے۔

کیلاش کے لوگ نہایت مہمان نواز اور خوش اخلاق ہیں۔ زبان مختلف ہونے کے باوجود ان کے چہروں کی مسکراہٹ اور رویے ہر فاصلے کو ختم کر دیتے ہیں۔ ان کی ثقافت صدیوں سے ان پہاڑوں میں محفوظ ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، بمبوریت، رمبور اور بریر کی تینوں وادیوں میں تقریباً چار ہزار کیلاش آباد ہیں، جن کا زیادہ تر انحصار زراعت، دستکاری، سیاحت اور سرکاری ملازمتوں پر ہے۔

کیلاش معاشرے کی ایک دلچسپ بات اس کی نسبتاً ترقی پسند اور خواتین کو اہمیت دینے والی سماجی ساخت ہے۔ خواتین سماجی سرگرمیوں، تہواروں اور فیصلوں میں بھرپور حصہ لیتی ہیں، جو اس خطے کے دیگر قبائلی معاشروں سے مختلف نظر آتا ہے۔

جیسے جیسے تہوار آگے بڑھتا گیا، ڈھول ہر تقریب کی روح بن گیا۔ مرد و خواتین گول دائروں میں کھڑے ہو کر گھنٹوں روایتی رقص کرتے رہے، جبکہ پہاڑوں میں لوک گیتوں کی آوازیں گونجتی رہیں۔ یہ سب کچھ کسی نمائشی شو سے زیادہ ایک زندہ ثقافتی روایت محسوس ہو رہا تھا، جو نسل در نسل منتقل ہوتی آئی ہے۔

تاہم خوشیوں اور موسیقی کے پیچھے کچھ تشویش ناک گفتگو بھی سننے کو ملی۔

کئی مقامی افراد نے اپنی ثقافت کو درپیش خطرات کا ذکر کیا۔ دلنواز نامی ایک مقامی شخص نے بتایا کہ بعض مذہبی گروہ کیلاش کمیونٹی کے لوگوں کو مذہب تبدیل کرنے پر آمادہ کرنے کے ساتھ تبلیغ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو اس قدیم تہذیب کے لیے خطرہ ہے۔ دیگر افراد نے بے ہنگم سیاحت اور باہر سے آنے والی آبادی میں اضافے کو بھی اپنی شناخت کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

“یہ روایات صدیوں سے زندہ ہیں،” ایک بزرگ نے اختتامی تقریب میں مجھ سے کہا، “لیکن اب ہمیں ڈر ہے کہ کہیں یہ چند دہائیوں میں ختم نہ ہو جائیں۔”

اس سال تہوار سخت سیکیورٹی انتظامات کے تحت منعقد کیا گیا۔ انتظامیہ کی جانب سے سیاحوں پر کیلاش خواتین کی تصاویر لینے کے حوالے سے بھی پابندیاں عائد کی گئیں تاکہ مقامی ثقافت اور خواتین کی پرائیویسی کا احترام برقرار رہے۔ اس کے ساتھ، ڈنمارک، سوئٹزرلینڈ، برطانیہ اور پاکستان کے مختلف شہروں سے آنے والے سیاح بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ یونیورسٹی طلبہ، محققین، ولاگرز اور فوٹوگرافرز نے دشوار گزار راستے طے کر کے اس تہوار میں شرکت کی۔

مقامی افراد کی جانب سے قیمتی پتھروں اور روایتی کیلاش نوادرات کی نمائش بھی منعقد کی گئی۔ چترال کے پہاڑوں سے ملنے والی تاریخی اشیا اور ہاتھ سے تیار کردہ دستکاریاں اس وادی کے قدیم ثقافتی ورثے کی عکاسی کر رہی تھیں۔

آخری رات پوری وادی ایک جادوئی منظر پیش کر رہی تھی۔ سرد پہاڑی رات میں ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتے کیلاش مرد و خواتین، آگ کی روشنی میں چمکتے روایتی لباس، اور بزرگوں کی جانب سے سنائی جانے والی صدیوں پرانی داستانیں ایسا منظر پیش کر رہی تھیں، جو شاید کبھی فراموش نہ ہو سکے۔

جب میں وادیٔ کیلاش سے واپس روانہ ہوا تو مجھے احساس ہوا کہ چِلم جوشی محض ایک تہوار نہیں بلکہ ثقافتی بقا کا اعلان ہے۔

آج جب دنیا بھر میں قدیم تہذیبیں جدیدیت، انتہا پسندی اور تجارتی دباؤ کے باعث ختم ہوتی جا رہی ہیں، کیلاش لوگ اب بھی اپنی تاریخ، روایات اور ثقافتی شناخت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ یہ وادی صرف ایک سیاحتی مقام نہیں بلکہ ایک زندہ تہذیب ہے، جسے تحفظ، احترام اور سنجیدہ توجہ کی ضرورت ہے۔

یونیسکو کی جانب سے وادیٔ کیلاش کو عالمی ثقافتی ورثے کی عارضی فہرست میں شامل کرنا امید کی ایک کرن ضرور ہے، مگر اس تہذیب کے تحفظ کے لیے صرف عالمی اعزاز کافی نہیں۔ ذمہ دار سیاحت، مؤثر ثقافتی پالیسیاں اور عوامی شعور ہی اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ آنے والی نسلیں بھی ہندوکش کے پہاڑوں میں گونجتے چِلم جوشی کے ڈھول سن سکیں۔

مزیدخبریں