Type to search

بین الاقوامی خبریں خواتین فيچرڈ

سوتیلے با پ کیجانب سے جنسی ہراساں کیےجانے کی خبروں پر پلک تیواری کا ردعمل سامنے آگیا

ٹی اداکارہ شویتا تیواری نے اپنے دوسرے شوہر کے خلاف بیٹی پلک تیواری اور خود پر  تشدد کی شکایت پولیس کو کی جس کے بعد ابھینو کوہلی کو گرفتار کر لیا گیا ااور انہیں ضمانت پر رہائی ملی، معاملہ میڈیا پر آیا تو کچھ بھارتی چینلزنے یہ خبر دی کہ شویتا کے شوہر پر اپنی سوتیلی بیٹی کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام ہے تاہم اب معاملے پر پلک  تیواری نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں وضاحت کی ہے۔

پلک نے لکھا ‘سب سے پہلے میں ان لوگوں کا شکریہ اداکرنا چاہوں گی جنہوں نے فکرظاہر کی اور مدد کیلئے ہم تک پہنچے۔ اب میں اپنی طرف سے کچھ چیزیں صاف کرنا چاہتی ہوں۔

میں پلک تیواری کئی موقعوں پر گھریلو تشدد کا شکار ہوئی ہوں۔ میری ماں گھریلو تشدد متاثر نہیں ہے۔ شکایت درج کرانے والے دن سے پہلے کبھی انہوں نے ماں پر ہاتھ نہیں اٹھایا تھا۔ بطور ریڈر یہ بھول جانا کافی آسان ہوتا ہے کہ بند دروازوں کے پیچھے کیا چھپا ہے یہ آپ نہیں جانتے۔ میری ماں نے اپنی دو شادیوں میں کتنا صبر دکھایا ہے۔ آپ میں سے کئی لوگوں نے خوش قسمتی سے ایسے حالاتوں کا سامنا نہیں کیا ہوگا۔

View this post on Instagram

Firstly, i would like to thank everyone who’s reached out to express their concern and support. Secondly, i would like to address and clarify a few things out of my own rectitude: The media does not have the facts and they never will. I, Palak Tiwari, was on multiple occasions a victim of domestic abuse NOT my mother, except for the day that the complaint was filed he hadn’t hit my mother. As a reader of the news its often easy to forget that you do not know the truth of what goes on behind closed doors or how much fortitude my mother has shown in both her marriages. This is someone’s household you’re writing about, someone’s life you’re discussing. Many of you fortunately haven’t even dealt with something of such heinous proportions, and hence you have no right to comment, discuss or paint someone else’s image through your biased, misinformed views. It’s beyond disgusting and its time that i stand up for my mother for she is the strongest person i know and since out of all of us I’m the only person who’s witnessed her struggle day in and day out, my opinion is the only one that matters. Abhinav Kohli has never physically molested me, or touched me inappropriately. Before spreading something of this caliber or even believing it, its imperative you as readers know the veracity of the facts that you’re blindly divulging endlessly. However, he did persistently make inappropriate and disturbing remarks the impact of which is only known to my mother and I, and if any woman from any walk of life were to hear them she would be greatly embarrassed and provoked too. Words which would question the standing dignity of any woman, which you wouldn’t expect to hear from any man, especially not your “father”. Seeing our lives through social media, reading about us in the papers can only tell you so much about our struggles, but never enough to comment on them. Today as a proud daughter, I’m here to tell you that my mother is the most respectable individual that I’ve ever come across, the MOST self sufficient, one who’s never required or even had a man provide for her and has always taken the social standing of a “man” in both the families that we’ve been a part of.

A post shared by Palak Tiwari (@palaktiwarii) on

پلک نے لکھا، ‘ابھینو کوہلی نے کبھی مجھے غلط طریقے سے نہیں چھوا۔ انہوں نے میرا جنسی استحصال نہیں کیا۔ ایسی خبریں پھیلانے سے پہلے اور ان پر یقین کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ آپ صحیح فیکٹ جان لیں۔

وہ مسلسل مجھ پر ڈسٹربنگ کمینٹ کرتے تھے ایسے جو کہ کوئی اور خاتون سنے تو وہ بھی شرمندگی محسوس کرے۔

ا س معاملے پر شویتا تیواری کے پہلے شوہر راجہ جودھری کا بیان بھی آچکا ہے۔ جب اس بارے میں ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا مجھے میڈیا کے ذریعے اس بارے میں اطلاع ملی۔ میری پلک سے بات ہوئی ہے۔ اس نے کہا کہا فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ میں ٹھیک ہوں۔ ایک باپ کے طور پر میرے لئے یہ بات پریشان کرنے والی بات ہے

یاد رہے کہ شویتا تیواری کی طرف سے اپنے دوسرے شوہر کے خلاف گھریلو تشدد کی درخواست دی تھی جس پر پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا تھا جنہیں بعدازاں ضمانت پر رہائی ملی۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *