Type to search

بین الاقوامی سیاست تجزیہ حکومت سیاست

کیا میں بھارت پر حملہ کردوں ؟ وزیراعظم کا سوال

گزشتہ دنوں کشمیر کی صورت حال پر ہونے والی بحث کے دوران اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی دھواں دار جذباتی تقریر کے جواب میں جنجھلاہٹ کا شکار ہو کر وزیر اعظم عمران خان نے ساری دنیا کے سامنے اپنی بے بسی کھول کر بیان کر دی اور اپوزیشن لیڈر سے جواب مانگ لیا، کہا کہ ہم مسٸلہ کشمیر پر حمایت حاصل کرنے کے لیے عالمی رہنماٶں سے رابطے کر رہے ہیں اور دیگر تمام سفارتی آپشن استعمال کر رہے ہیں اس کے علاوہ آپ بتاٸیں میں کیا کروں؟ کیا میں بھارت پر حملہ کر دوں؟

وزیراعظم پاکستان کا یہ سیاسی بیان شہباز شریف کو وقتی طور پر بیک فٹ پر لے جانے کے کام تو آ گیا لیکن خان صاحب کو کون یہ سمجھائے کہ یہ کرکٹ نہیں ہے کہ آپ باونسر مار کر بیٹسمن کو بیک فٹ پر لے جاٸیں اور تماشاٸیوں سے داد وصول کر لیں یہ ملک و قوم کی قیادت کا معاملہ ہے اس میں اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے کہ قوم کا مورال نہ گرنے پائے اس قسم کے بیان سے آپ کی دور اندیشی نہیں بلکہ بے بسی اور بزدلی ظاہر ہوتی آپ سے یہ کوٸی نہیں کہہ رہا کہ آپ بھارت پر حملہ کر دیں لیکن ایسا تاثر بھی مت دیں کے ہم کبھی بھارت پر حملہ نہیں کریں گے یا نہیں کر سکتے چاہے وہ کشمیر ہڑپ ہی کیوں نہ کر لے۔ سرکار، بھارت کا کشمیر کو آٸین میں ترمیم کے ذریعے بھارت میں ضم کر لینا دراصل پاکستان پر حملہ ہی ہے آپ کو اس وقت دنیا کو یہ تاثر دینا ہے کہ بھارت نے پاکستان پر جنگ مسلط کر دی ہے اور ہم جواب دینے کا حق رکھتے ہیں اور اس سے ہمیں کوٸی روک نہیں سکتا ہمارے صبر اور برداشت کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے اس لیے عالمی برادری جلداز جلد کشمیر کے مسٸلے کے حل کے لیۓ بھارت پر دباٶ ڈالے کیونکہ جنگ کی صورت میں پوری دنیا کو اس جنگ کے اثرات جھیلنے ہونگے ہم دنیا کو بلیک میل نہیں کر رہے بلکہ پاکستان پر جنگ مسلط کر دی گئی ہے اس کے باوجود ہم عالمی برادری کو موقع دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے اپنے مفادات سے الگ ہو کر اصولی مٶقف اپناٸیں اور پاکستان کے لیے نہیں بلکہ کشمیر کے لوگوں کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

لیکن سرکار، آپ تو ایسا تاثر دے رہے ہیں کہ آپ کچھ بھی نہیں کر سکتے۔

کرسی ہے یہ تمھارا جنازہ تو نہیں ہے

کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے ؟

ادھر شاہ محمود قریشی بھی بے بسی کی ایک تصویر بنے ہوئے ہیں اور عجیب و غریب بیانات دے رہے ہیں کہ مسلم امہ کا کوٸی وجود نہیں اور ہماری کوٸی نہیں سنتا اور تمام مسلم امہ کے ٹھیکے داروں نے بھارت میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے اس لیے کوٸی بھی اسلامی ملک ہمارا ساتھ دینے کو تیار نہیں۔

شاہ محمود قریشی چاہتے ہیں کہ ان کے ان بیانات کو حقیقت پسندانہ سمجھا جائے لیکن ان کو کون یہ بات سمجھائے کہ آپ کا کام ڈپلومیسی ہے حقیقت پسندانہ بیانات دینا نہیں جب آپ کی طرف سے اس قسم کے بیانات آٸینگے تو پھر کشمیری کب تک اپنی جدو جہد جاری رکھیں گے؟ جب وہ یہ سنیں گے کہ کشمیر کاز کے لیۓ کوٸی بھی ملک پاکستان کے ساتھ نہیں ہے اور اقوام متحدہ میں بھی ہر بار ویٹو ہوتا رہے گا۔

تو سرکار، یہ کونسی ڈپلومیسی ہے ؟ یہ تو سرکاری سطح پر خارجہ پالیسی کی ناکامی کا اظہار ہے۔

اور دوسری بات یہ ہے کہ جن ممالک کی طرف آپ اشارہ کر رہے ہیں وہ تو اپنے دفاع کے لیۓ بھی ہماری طرف دیکھتے ہیں اور ہم بدلے میں صرف مالی امداد کا مطالبہ کرتے ہیں اور وہ ہمیں مل بھی جاتی ہے اگر ہم بدلے میں سفارتی مدد کا کہتے تو شاید ہمیں وہ بھی ملتی لیکن اصل بات یہ ہے کہ ہم جب کسی کے کام آتے ہیں تو ہم بدلے میں مالی امداد کا تقاضا کرتے ہیں ہم نے خود ہی اپنے تعلقات کی نوعیت ایسی بنا دی ہے تو پھر کوٸی کیوں ہماری سفارتی مدد کرے گا؟ اور ان میں سے بعض ممالک ایسے بھی ہیں جنہوں نے ہماری دفاعی صلاحیت بڑھانے میں ہماری بھرپور مالی مدد کی ہے اس لیۓ اس طرح کے سویپنگ اسٹیٹمنٹ دینے سے پاکستان کے ان ممالک سے تعلقات مزید خراب ہونگے، بہتر نہیں۔

سرکار! اگر آپ کو نہیں پتہ کہ آپ کو کیا کرنا ہے تو میں آپ کو بتاتا ہوں کے آپ کو کیا کرنا ہے، سب سے پہلے آپ کو آزاد کشمیر کے بارڈر پر اپنی فوج کی تعداد غیر معمولی طور پر بڑھانے اور روایتی اسلحہ کی نقل و حمل کشمیر کے بارڈر کی طرف کرنی چاہیے تاکہ بھارت اور دنیا کے دیگر ممالک کو یہ تاثر دیا جائے کہ پاکستان خاموش نہیں بیٹھے گا، پاکستان کمزور نہیں ہے اور پھر اس کے ساتھ ہی آپ کو دنیا بھر میں موجود پاکستانی سفارت خانوں کو یہ ہدایت جاری کرنی ہیں کہ وہ اپنے اپنے ملکوں میں وہاں کی حکومتوں کو کشمیر کے تاریخی پس منظر اور بھارت کی حالیہ اقدام پر آگاہ کریں اور انہیں بتاٸیں کس طرح بھارت کا یہ اقدام اقوام متحدہ اور دو طرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔

اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستانی سفارت کاروں کو جرمنی کے پاکستان میں سابق سفیر سے سبق حاصل کرنا چاہیے کہ کس طرح کسی ملک کی عوام کے ساتھ تعلق قاٸم کیا جاتا ہے اور پھر اس تعلق کے ذریعے وہ کشمیر کا مسٸلہ دنیا بھر کے عوام کے سامنے رکھ سکتے ہیں اور وہاں کی عوام کو اس سے آگاہ کر سکتے ہیں کیونکہ بہت سے ممالک خصوصا مغربی ممالک اپنے مفادات کی وجہ سے عالمی سطح پر باآسانی اصولی مٶقف سے ہٹ کر کوٸی اور مٶقف اپنا لیتے ہیں اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ ان کی عوام کو اس مسٸلے میں دلچسپی نہیں یا انہیں اس مسٸلے کے بارے میں زیادہ علم نہیں اس لیۓ ان ممالک کے سربراہان کے لیۓ یہ آسان ہوجاتا ہے کہ وہ اصولی مٶقف کے بجائے مفادات کو ترجیح دیتے رہیں اس لیۓ بااثر ممالک کی عوام تک اس مسٸلے کی بھر پور معلومات پہنچانا بھی پاکستانی سفیروں کی ذمہ داری ہے۔

اسی طرح سرکار! آپ نے جس طرح امریکہ میں اپنے اوپر سے سیلیکٹڈ کا دھبا دھونے کے لیۓ دس ہزار پاکستانیوں کو امریکہ میں جمع کیا اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ محنت اور لگن سے کشمیر کاز کے لیے بھی امریکہ اور دیگر با اثر ممالک میں موجود پاکستانیوں کو موبیلاٸیز کیا جائے اور کشمیر کے حق میں ہر ماہ ایک ریلی کا انتظام کیا جائے جسے اورسیز پاکستانی خود اسپانسر کریں تاکہ پاکستان کے لوگ بھی دیکھیں کہ وہ اورسیز پاکستانی جو دن رات ٹویٹر اور فیس بک پر پاکستان کی محبت میں پوسٹ کر رہے ہوتے ہیں اور ہر جمہوری حکومت کے خلاف مہم چلانے میں پیش پیش ہوتے ہیں، جو کہتے ہیں کہ ہم تو پاکستان کے لیۓ کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن پاکستان کے حکمران ہی کرپٹ ہیں اور ہمیں کچھ کرنے نہیں دیتے تو سرکار اب حکمران بھی آپ کی پسند کا ہے اور موقع بھی ہے اس لیے اب چلاٸیں دنیا بھر میں کشمیر کے حق میں اور بھارت کے خلاف مہم لیکن یہ مہم صرف نعروں پر مشتمل نہیں ہونی چاہیے بلکہ ایک تحریری شکل میں ٹھوس مٶقف ان ممالک کی عوام تک پھیلایا جائے جس کے ذریعے وہاں کے عوام کو کشمیریوں کی پاکستان سے وابستگی اور بھارتی مظالم سے آگاہ کیا جائے اس کے ساتھ ہی تمام اور سیز پاکستانیوں کو Save kashmir کے بینڈز بھی اس وقت تک ہاتھ پر باندھ کر رکھنے چاہیے جب تک کوٸی حل نہیں نکلتا یوں تو بینڈز باندھنا علامتی چیز ہے لیکن اس سے غیر ملکی لوگوں کو اس مسٸلے کی حساسیت کا پتہ چلے گا اور وہ اس کے بارے میں جاننا چاہیں گے، اس طرح ہم بااثر ممالک کے حکمرانوں پر ان کے ملک کے اندر سے ایک دباٶ بنا سکتے ہیں کہ وہ کشمیر پر اصولی مٶقف اپناٸیں اور انسانی حقوق کی پامالی پر آنکھیں بند کر کے نہ بیٹھ جاٸیں۔

پاکستان کو اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ایسا کیوں ہوا اور بھارت کی اتنی جرأت کیسے ہوگئی کہ اس نے بیک جنبش قلم کشمیر پر قبضہ کر لیا؟

میری نظر میں اس کی وجہ یہ ہے کہ طاقتور لوگ ہمیشہ اپنے با اعتماد چیلے چانٹوں کو آخر وقت تک اور آخری حد تک ساتھ دیتے ہیں اور انہیں سپورٹ کرتے ہیں تاکہ اس کے ذریعے وہ اپنی طاقت کا اظہار کر سکیں کہ “ساڈے نال رہو گے تے عیش کروگے”

اب بات یہ ہےکہ بھارت نے امریکہ بہادر کے کہنے پر افغانستان میں خوب سرمایہ کاری کی اور اپنے پنجے گاڑنے کی کوشش کی لیکن اب امریکہ وہاں طالبان سے مذاکرات کر رہا ہے اور وہاں سے انخلاء کا سوچ رہا ہے جس کی وجہ سے بھارت کو وہاں اپنی سرمایہ کاری ڈوبتی ہوٸی نظر آ رہی ہے اور بھارت مسلسل بیک ڈور پر امریکہ کے سامنے اس کا اظہار کرتا رہا ہے جس پر ٹرمپ پبلک میں طنز بھی کر چکے ہیں اسی وجہ سے لگتا یوں ہے کہ امریکہ نے بھارت کی وفاداری کے صلے کے طور پر بھارت کی پشت پناہی کی ہے ایک طرف امریکہ اور بھارت نے مل کر FTAF پلیٹ فارم کو استعمال کرکے کشمیری مجاہدین کو عالمی دہشت گردوں کے ساتھ نتھی کر کے پاکستان کو مجبور کیا کہ وہ بھی ان کو دہشت گرد تسلیم کرے اور دوسری طرف بھارت کو شے دی کہ وہ کشمیر پر قبضہ جما کر اسراٸیل کی طرح آبادی کے تناسب کو تبدیل کر کے کشمیر کو مستقل طور پر بھارت کا حصہ بنا لے۔

کیونکہ امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ افغانستان میں اس کی شکست کا ذمہ دار پاکستان ہے اور پاکستان نے امریکہ کے ساتھ ڈبل گیم کیا ہے اس لیے امریکہ نے سزا کے طور پاکستانی وزیر اعظم کے سامنے بیٹھ کر کشمیر پر ثالثی کی بات کی اور ادھر بھارت نے کشمیر پر قبضہ کر لیا اور اس طرح ٹرمپ نے اپنی دانست میں پاکستان سے بدلہ لیا۔

 

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *