Type to search

بلاگ فيچرڈ قومی معاشرہ نوجوان

چوپال، ایک بار پھر سے

تحریر: (کنور نعیم) اگر آپ نوے کی دہائی میں یا اس سے پہلے پیدا ہوئے ہیں، اور آپ نے اپنا بچپن اور جوانی گلی محلے والی زندگی میں گزارا ہے تو آپ سے بہتر کون اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ مل جل کر رہنا کس کو کہتے ہیں، گھلنا ملنا کس بلا کا نام ہے۔

آپ کو شاید یہ بھی یاد ہو کہ پڑوس میں کھانا بھیجنا ایک فرض کی سی حیثیت رکھتا تھا۔ گرمیاں آئیں تو چارپائیاں گلی میں ڈال لیں۔ کوئی بیمار ہوا تو پورا محلہ اس کی خدمت میں لگ گیا۔ گرمیوں کی چھٹیاں آئیں تو بارات کی مانند مہمان آگئے۔ تنگدستی میں بھی میزبانی کے فرائض احسن انداز میں نبھائے گئے۔ اس وقت نہ کمیونٹی سنٹرز کا رواج تھا، نہ لوگوں میں اتنا سینس تھا مگر ان کے کام وہ تھے جنہیں سیکھنے کے لیے آج کے انسان کو گرومنگ کے کورسز کرنا پڑتے ہیں۔

پھر دوریاں مٹانے کی مشینیں ایجاد ہو گئیں اور لوگوں نے دور بیٹھ کر ہی دوریاں مٹانے کو زیادہ مناسب سمجھا۔ وقت کی سب سے بڑی خوبصورتی یا بدصورتی یہ ہے کہ تبدیلی محسوس نہیں ہونے دیتا لیکن جب مڑ کر دیکھو تو کچھ بھی پہلے جیسا نہیں ہوتا۔

پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد، جہاں قدرتی خوبصورتی سے اٹا ہوا ہے وہیں بیگانگی کی کالک بھی اس نے خود پر مل رکھی ہے۔ اس شہر میں ایسا معلوم ہوتا ہے گویا صور پھونکا جا چکا ہے، حشر کا میدان سج چکا ہے، نفسی نفسی کی صدائیں بلند ہیں۔

آس پاس کون رہتا ہے، نہیں معلوم۔ کس گھر میں کیا چل رہا ہے، نہیں پتہ۔ کسی دوسرے کے ساتھ کیا مسئلہ ہے، ہمیں اس سے کیا۔ میرا پڑوسی کون ہے، اس سے مجھے کیا لینا دینا۔ اس شہر پہنچ کر تہذیب حافی کا یہ شعر بہت یاد آتا ہے۔

میں چاہتا ہوں کوئی مجھ سے بات کرتا رہے
میں چاہتا ہوں کہ اندر کی خامشی نکلے

لیکن ہر دور اور علاقے میں ایک ایسا شخص ضرور ہوتا ہے جو اندھے شہر میں آئینے بیچنے نکلتا ہے، یہی کام اسلام آباد میں ندیم عمر صاحب کر رہے ہیں۔ ندیم عمر صاحب چوپال کے نام سے اسلام آباد کے فاطمہ جناح پارک میں ہر اتوار کو ایک نشست منعقد کرتے ہیں۔ جس میں ہر عمر اور طبقے کا فرد شرکت کرسکتا ہے۔ اس بیٹھک میں، مختلف موضوعات پر گفتگو کی جاتی ہے۔ شرکا سے کسی قسم کا معاوضہ نہیں لیا جاتا، اگر کچھ لیا جاتا ہے تو وہ ان کی توجہ ہے۔

جیسے ماضی میں علاقے کے لوگ شام کو ایک جگہ جمع ہو کر حال دل بیان کیا کرتے تھے، جس سے واقفیت بھی بڑھتی تھی اور قربتیں بھی۔ اسی ریت کو دوبارہ زندہ کرنے کی اس کوشش کا نام چوپال ہے۔

ایسی محافلوں سے فائدہ اٹھانا اور ان کو منعقد کرنے والوں کی قدر کرنا لازم ہے، ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان لوگوں کے لیے ہم ”اب اُنھیں ڈھُونڈ چراغِ رُخِ زیبا لے کر” کہتے پھریں۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *