Type to search

انسانی حقوق انصاف عوام کی آواز فيچرڈ معاشرہ

اپنا ٹائم آئے گا‎

ڈرامے اور فلموں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے ناظرین کو ایسے سحر میں جکڑتے ہیں کہ ہر دیکھنے والا، دکھائے جانے والے تمام مناظر کو نہ صرف حقیقت سمجھ لیتا ہے بلکہ دکھائے جانے والے واقعات اور اپنی ذاتی زندگی میں مماثلت بھی ڈھونڈنے لگتا ہے۔ ممکن ہے کہ کبھی آپ نے بھی ایسا کیا ہو۔

 کچھ عرصہ پہلے بالی ووڈ کی ایک فلم دیکھی جس کا نام تھا۔

Gully Boy

اگر اردو میں ترجمہ کر لیں تو "گلَی کا لڑکا” کہا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسے لڑکے کی کہانی تھی جو ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا لیکن تمام تر رکاوٹوں کے باوجود اپنی لَگن کے باعث کامیابیاں حاصل کرتا چلا جاتا ہے۔ اس فلم کا ایک گیت تھا، "اپنا ٹائم آئیگا”، یہ گیت بہت مقبول ہوا، ہر نوجوان کے دل کی آواز بنا۔ لوگوں نے اپنی گاڑیوں اور لباس پر بھی یہ الفاظ لکھوانا شروع کر دیے۔ اس کہانی کو یہاں روک دیتے ہیں۔

عید قربان ابھی چند روز پہلے ہی گزری ہے۔ یہ قصائیوں کی کمائی کا وقت ہوتا ہے جو لوگ قصائی نہیں بھی ہوتے وہ بھی قصائی بن جاتے ہیں۔ اُجرت کسی کو نقد مل جاتی ہے تو کسی کو تھوڑے دن بعد۔ یہ عید کراچی میں بھی آئی لیکن شاید قربانی کا نشہ کراچی سے رخصت نہ ہوا تھا کیونکہ ایک سولہ یا سترہ سال کے نوجوان ریحان کو کراچی کے علاقے بہادر آباد میں تشدد کر کے قتل کر دیا گیا۔

قاتل کے مطابق ریحان تربیت یافتہ چور تھا جو کہ اس کے بنگلے سے سامان چوری کر رہا تھا۔ ریحان کے اہل خانہ کے مطابق وہ اپنی اُجرت لینے بنگلے گیا تھا۔سچا کون ہے اور جھوٹا کون، یہ فیصلہ تو تفتیش اور وقت بتائیگا لیکن چند ایک چیزیں بڑی غور طلب ہیں۔

مان لیا کہ ریحان ایک چور تھا۔ تو کیا کسی فرد واحد کو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ سڑک پر اپنی عدالت لگائے اور اپنی منشا کے مطابق سزا اور جزَا لوگوں میں بانٹتا پھرے؟ کیا ہمارے ادارے قصور وار ہیں کہ جن پر عوام کا اعتبار ہی اٹھ گیا اورعوام زنجیر عدل بھی بن گئی ہے اور تختہ دار بھی؟ ہمارا رویہ اتنا پر تشدد کرنے میں کہیں ہمارا میڈیا ہی تو ذمہ دار نہیں جس نے ہر لمحے ہمیں قتل و غارت دکھا دکھا کر کسی کی جان لینے کو مذاق بنا دیا ہے؟

ہماری آنکھوں کے سامنے مشعل کو بجھایا گیا۔ ہم تماشائی بنے رہے۔ زینب کو کوئی لے گیا۔ ہم موم بتی جلاتے رہے اور موم بتی بجھنے تک ہمارے جذبات بھی بجھ گئے۔ اس پر عنایت علی خان صاحب بہت یاد آئے کہ

حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا
لوگ ٹھہرے نہیں حادثا دیکھ کر

ہمارے ذہنوں میں حادثات کو برداشت کرنے اور ان کو ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ سہہ لینے کی حس کیوں اس قدر پختہ ہو چکی ہے؟

اور یہ جو غریب اور محکوم طبقہ ہے، جو کسی گنتی میں نہیں آتا، جس کی اوقات بس اتنی ہے کہ دو دہائیوں بعد کسی مردم شماری کا حصہ بن جائے۔ جس کو ریاست نہ روٹی دے، نہ چھت دے، نہ کپڑا دے، نہ تعلیم دے اور نہ علاج۔ لیکن اس سے ٹیکس لینا نہ بھولے، اگر وہ قانونی اجرت سے بھی کم میں کام کرے تو پھر اس کی چوری پر ہاتھ کس کے کٹنے چائیں؟

کیا غریبوں کی حیثیت فرات کے کنارے مرنے والے کتے جتنی بھی نہیں؟ یہ ریحان اور اس جیسے دوسرے بچے اگر اپنی قمیض پر لکھوا لیتے ہیں کہ اپنا ٹائم آئیگا تو ان کو کیا لگتا ہے؟ ان کا وقت آئیگا؟

ہماری نقلی ریاست مدینہ میں غریب کا یا تو پیدائش کا وقت آئیگا یا موت کا۔ کسی تیسرے وقت کا خواب کوئی غریب نہ دیکھے۔

جاگ جائیگا کوئی خواب تو مر جائیگا
گلزار

 

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *