Type to search

بلاگ تجزیہ حکومت سیاست فيچرڈ قومی

صادق اور امین وزیر داخلہ کی راست گوئی

  • 1
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    1
    Share

تحریر: (کنور نعیم) کہتے ہیں کہ ہر پیشے کا اپنا ایک مزاج ہوتا ہے جو کہ اس سے منسلک لوگوں کے رویے اور زندگی سے عیاں بھی ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر شعبہ تعلیم سے وابستہ افراد کا مزاج اور کسی بینک میں کام کرنے والے کا مزاج عموماً مختلف ہو گا۔ اسی طرح کسی کھیل سے وابستہ شخص کا رویہ اور کسی دوکان میں کام کرنے والے کا رویہ بالکل مختلف ہوں گے۔

مزاجوں کا یہی فرق اداروں اور ان اداروں کے افراد میں بھی  دیکھا جا سکتا ہے۔ جیسے ہمارے وفاقی وزیر داخلہ جناب بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے کس قدر آسانی اور دھڑلے سے اتنا بڑا سچ بول دیا یا شاید اعتراف کرلیا کہ پیپلز پارٹی سے ڈیل کیانی صاحب نے کی اور ق لیگ کو پیپلز پارٹی کو جتوایا بھی۔ ساتھ ہی وزیر صاحب نے ہم کا صیغہ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ہم ق لیگ کو جتوانا نہیں چاہتے تھے بس ان کو اتنی ہی سیٹیں دلوانا چاہتے تھے جتنی انہیں مل گئیں۔

یہ سچ صرف اسی ادارے کا آدمی بول سکتا ہے جس ادارے سے اعجاز شاہ صاحب کا تعلق ہے ورنہ تو لوگ ایک سچ بولنے کی سزا پوری عمر پاتے ہیں۔

کیا اعجاز شاہ کا یہ بیان اس حقیقت پر مہر ثبت نہیں کرتا جس حقیقت کے بیان کرنے میں کئی پر جل جاتے ہیں، کئی ٹیلی وژنز کی سکرینیں کالی کر دی جاتی ہیں۔ اور کیا یہ وہی سچ نہیں جسے ہمارے پیارے ووٹوں کی طاقت سے بنے وزیراعظم صاحب کہا کرتے تھے۔ حتٰی کہ بھارت کے ایک نجی پروگرام میں نام لے کر اداروں کو مخاطب بھی کیا تھا؟ لیکن چلیں اب تو وہ خود اقتدار میں آگئے ہیں وہ میر نے کہا تھا نا کہ

میرؔ کیا سادے ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب 
اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں

خیر، اقتدار کے اندر اور باہر کی دنیا ایک سی نہیں ہوتیں۔ احمد نورانی صاحب سے اس بارے میں بات ہوئی تو انکا کہنا تھا کہ ایسا اعتراف کوئی پہلی بار نہیں ہوا اور یہ انتخابات کا جوڑ توڑ ایک کھلا راز ہے، جسے سب جانتے ہیں۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ کی ہمیشہ سے خواہش اور کوشش رہی ہے کہ وہ براہ راست حکومت میں رہیں لیکن جیسے جیسے میڈیا مضبوط ہوا، دنیا میں معلومات کی روانی تیز ہوئی اور عالمی اداروں کا دباؤ بڑھا، تو فوج نے ڈرائیونگ سیٹ کے بجائے پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر حکومت کرنا شروع کردی۔ کہانی روز اول سے وہی ہے، بس سہولت کار اور کردار بدلتے رہتے ہیں۔

اعزاز سید صاحب کا تبصرہ بھی اس ضمن میں خاصی اہمیت کا حامل ہے، جن کے مطابق اعجاز شاہ صاحب نہ صرف ایک طاقتور شخص ہیں بلکہ ان کا ماضی بھی خاصا طاقتور رہا ہے۔ اور پاکستان میں طاقتور افراد کا احتساب ہونا موجودہ حالات میں نا ممکن دکھائی دے رہا ہے۔

اعجاز شاہ صاحب نے جو کہنا تھا کہہ دیا۔ یہ ان کا ذاتی فعل تھا لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تحریک انصاف میں اتنا انصاف موجود ہے کہ وہ اعجاز شاہ جیسے غیر جمہوری شخص کو خود سے الگ کریں؟ کیا ہماری عدلیہ جو بار بار ہمیں بتاتی ہے کہ وہ آزاد ہے، کیا وہ اعجاز شاہ کے اس اعتراف کے بعد کوئی انکوائری شروع کرے گی؟ کیا جیل، سزا اور احتساب بھی سلیکٹڈ ہی رہے گا؟

اعجاز شاہ اور ان جیسے دوسرے کرداروں کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی گر نہ کی گئی تو ہم ایسے بہت سے سچ سنتے اور دیکھتے رہ جائیں گے، لیکن کچھ کر نہ سکیں گے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *