Type to search

تجزیہ سیاست فيچرڈ

‘مصطفیٰ کمال کو انیل کپور بننے کا موقع ملنا چاہیے’

میئر کراچی وسیم اختر نے مصطفیٰ کمال کو شہر کی صفائی کرنے کا ٹاسک دیتے ہوئے پروجیکٹ ڈائریکٹر گاربیج تعینات کیا تھا اور تمام دستیاب وسائل فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا تھا مصطفیٰ کمال 90 دن میں کراچی کا کچرا اٹھا کر دکھائیں۔

بعد ازاں 24 گھنٹوں میں ہی مصطفٰی کمال کوبرطرف کردیا اور کہا مصطفیٰ کمال کےرویے اور بدتمیزی کی وجہ سے انہیں معطل کرتا ہوں، انھوں نے مخلصی کاغلط فائدہ اٹھایااورسیاست چمکانا شروع کر دی۔

معاملے پر بات کرتے ہوئے مصطفی ٰ کمال کا کہنا تھا کہ کراچی اور اس کے شہریوں سے پیار کرتا ہوں، میں نے انا کا مسئلہ نہیں بنایا، میئر کراچی نے کل میری پروجیکٹ ڈائریکٹر کی تقرری کا نوٹی فکیشن جاری کیا، میں نے میئر کے آرڈر کو تسلیم کر کے اپنی پوزیشن سنبھال لی۔ کراچی کےلیے اس سے نچلا عہدہ بھی ملے تیار ہوں۔

سابق ناظم کراچی اورموجودہ  مئیر کراچی کی نوک جھونک میں عوام کا  کوئی بھلا نہیں ہوسکا تاہم یہ ممکن ہے کہ وسیم اختر کے ذہن میں انیل کپور کی فلم "نائیک”  کا کوئی منظر آ گیا ہو تو انہوں نے مناسب سمجھا کہ مصطفیٰ کمال کو کلائیمکس سے پہلے ہی دی اینڈ کر دیا جائے۔  

نائیک میں انیل کپور کے ساتھ رانی مکھرجی نے مرکزی کردار ادا کیا تھا، اس پولیٹیکل تھرلر فلم میں انیل کپور ایسے میڈیا پرسن کے کردار میں نظر آئے تھے جو کرپٹ سیاستدانوں کے خلاف میدان میں اْتر جاتا ہے۔  مئیر کراچی نے شاید سوچا ہو کہ اگر کہیں واقعی مصطفیٰ کمال نے 3 ماہ میں ڈیلیور کر دیا تو ان کے لیے مسائل کم نہیں ہوں گے بلکہ ان میں اضافہ ہوجائے گا، مصطفیٰ کمال ماضی میں کراچی کے ناظم رہے ہیں اور کراچی میں بسنے والےافراد انکی انتھک محنت کے قائل ہیں مشرف دور کے دوران  ایم کیو ایم کے عروج میں کراچی میں جو ترقیاتی کام ہوئے وہ بدقسمتی  سے بعد میں جاری نہ رہ سکے جس کی وجہ سے آج صورتحال ابتر ہے ،  ایسے میں اس کا لاہور سے موازنہ تو کسی طرح بھی ممکن نہیں ہے جبکہ ایک دور میں کراچی میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کی رفتار قدرے تیز تھی۔

شاید اس کی وجہ بھی سیاسی ہو کہ میئر کراچی کی جانب سے مصطفیٰ کمال کی تعیناتی کو ایم کیوایم کے  حلقوں کی جانب سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

میئر کراچی وسیم اختر ، صوبائی حکومت اور کراچی کی بیشتر سیٹیں جیتنے والی تحریک انصاف کراچی میں پڑے کوڑے  کو  ایک دوسرے پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں  جبکہ حقیقت یہی ہے کہ کراچی میں کام نہیں ہورہا ایسے میں ایک سرگرم شخص کو ذمہ داری سونپی جانے چاہیے جو ماضی میں اس کام کا تجربہ  بھی رکھتا ہوں تو حرج  کیا ہے۔

کراچی کے سلگتے ہوئے مسائل کے حل کے لیےواقعی کسی انیل کپور کی ضرورت ہے جو ان گنت معاملات کو سنبھالنے کی اہلیت رکھتا ہو ، تاہم ہمارے پاس کوئی فلمی ہیرو تو نہیں ہے تاہم مصطفیٰ کما ل سےکام چلایا جا سکتا ہے، اس کا نتیجہ اگر مثبت نکلا تو کراچی کے عوام کا کچھ بھلا ہو جائے اور اگر مصطفیٰ کمال کوئی کمال نہ دکھا سکے توان کی سیاست کو ایک اور دھچکہ لگے گا جو پہلے ہی بہت نازک حالات سے گزر رہی ہے ۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ دیکھنا ہوگا کہ کے ایم سی میں سیاسی بھرتیاں کتنی ہیں اور اب ان کی افادیت کیا ہے؟ اگر ماضی میں ہونے والی سیاسی بھرتیا ں محکمے پر ایک بوجھ ہیں تو ان کا قلع قمع کیے بغیر کوئی بھی حکمت عملی بنانا غیر فعال ہوگا جبکہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کے لیے مختص بجٹ کا بھی ازسرنو جائزہ لینا ہوگا۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *