Type to search

بلاگ تاریخ تجزیہ فيچرڈ قومی

کشمیر اور ماؤنٹ بیٹن: برطانوی تاریخ دان نے مطالعہ پاکستان کی تصدیق کر دی

  • 5
    Shares

پاکستان میں ایک طبقہ ایسا ہے جو پاکستان کی تاریخ پر یا سیاست پر بحث کرتے ہوئے اکثر یہ کہتا ہے کہ ‘یار یہ تم مطالعہ پاکستان والی باتیں کر رہے ہو’۔ ایسے لوگ یہ بات اپنے دلائل کو مستند اور مخالف کی دلیل کو مشکوک قرار دینے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ مطالعہ پاکستان ناقص علم کی مثال کیسے بنا؟ یہ ایک الگ بحث ہے لیکن آج میں اس پر لکھنے جا رہا ہوں کہ کیا مطالعہ پاکستان میں سچ مچ جھوٹ لکھا ہے یعنی تاریخ کے ساتھ ٹیمپرنگ کی گئی ہے۔

مطالعہ پاکستان میں بیان کیے گئے تمام واقعات اور تاریخ کو پرکھنا ذرا فرصت طلب کام ہے، اس لئے صرف برصغیر کی تقسیم میں ڈنڈی اور مسئلہ کشمیر کی بنیاد کے حوالے سے جو معلومات ہمیں مطالعہ پاکستان سے ملتی ہیں اُن پر ہی توجہ مرکوز کی جائے گی۔

پاکستان کے نصاب میں شامل یہ کتاب بتاتی ہے کہ برصغیر کی تقسیم کے وقت ہندوستان میں برطانیہ کے آخری وائسرائے ماؤنٹ بیٹن نے نہرو کے ساتھ مل کر دو نمبری سے پنجاب کے کچھ اضلاع بھارت میں شامل کر دیے جس سے بھارت کو کشمیر تک رسائی کا آسان زمینی راستہ ملا اور اس نے کشمیر پر قبضہ کر لیا۔ کیا سچ میں ایسا ہی ہوا تھا یا کہانی کچھ اور تھی؟

موجود صورتحال میں کشمیر پر بھارتی قبضے کے اس جواز کی حقیقت جاننے کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے تاکہ پتہ چل سکے کہ جس مسئلے نے دو ایٹمی طاقتوں کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، وہ مسئلہ کس نے پیدا کیا اور اس کی بنیاد کیسے پڑی۔

مطالعہ پاکستان کے اس دعوے پر انگریز مصنفہ ‘ایلکس فان تنزلمان نے’ اپنی کتاب ‘انڈین سَمر’ میں اہم انکشافات کیے ہیں۔ تنزلمان آکسفورڈ سے پڑھی ہوئی برطانوی تاریخ دان، لکھاری اور محقق ہیں۔ انڈین سَمر مصنفہ کی پہلی کتاب ہے جس میں انہوں نے برصغیر میں برطانوی راج کے خاتمے اور تقیسم ہند کے دوران پیش آنے والے واقعات کو قلم بند کیا ہے۔

اس کتاب کے چودہویں باب بعنوان ‘اے رینبو ان دی سکائی’ میں اس دعوے پر بات کی گئی ہے کہ تقسیم ہند کے وقت ماؤنٹ بیٹن نے ریڈ کلف پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا اور جغرافیائی لحاظ سے اہم علاقوں کو انڈیا کا حصہ بنا دیا۔ تو کیا مطالعہ پاکستان میں جیسا بتایا گیا ہے حقیقت میں بھی ایسا ہی ہوا تھا؟

تو اس حوالے سے ایلکس فان تنزلمان نے لکھا ہے کہ تقسیم ہند کے وقت تناؤ کی فضا تھی، جس میں بٹوراے کی ہر لائن پر کسی کا بھی اختلاف سامنے آ سکتا تھا۔ لیکن پاکستان اور بھارت کا مستقبل میں پیچھا کرنے والے تین بڑے تنازعات تھے، جن میں دو پنجابی اضلاع، گرداسپور اور فیروزپور، اور ایک بنگالی ضلع، چٹاگانگ، شامل تھے۔

پنجاب کی تقسیم میں بددیانتی اور ماؤنٹ بیٹن کا کردار

انڈین سمر میں پنجاب کی تقسیم پر بات کرتے ہوئے تنزلمان نے لکھا کہ پنجاب شمال میں ہمالیہ سے لے کر مغرب میں صحرائے تھر تک پھیلا ہوا ایک زرخیز میدان ہے۔ یہ میدان دنیا کے سب سے زرخیز زرعی خطوں میں سے ایک ہے، جسے ہندوستان کی ’بریڈ باسکٹ‘ بھی کہا جاتا تھا کیونکہ اس خطے میں اُگنے والی اجناس پورے ہند کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لئے کافی تھیں۔

پنجاب کی تقسیم آبادی میں مختلف مذاہب کی شرح کے لحاظ سے ہوئی۔

سندھ کے کنارے مغربی حصہ پاکستان کو ملا جبکہ دریائے ستلج اور جمنا ندیوں کے درمیان کا مشرقی حصہ بھارت کے حصے میں آیا۔ پنجاب کی تقسیم کے وقت مرکزی حصے پر تنازع پیدا ہوا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ امیر آبادی والے یہ اضلاع جغرافیائی لحاظ سے بہت اہم تھے۔ مذہبی طور پر بھی وسطی پنجاب کی آبادی میں کوئی واضح فرق نہیں تھا جس وجہ سے مذہبی بنیاد پر یہاں کی سیدھی تقیسم ایک پیچیدہ مسئلہ تھی اور معاشی لحاظ سے بھی یہ مسئلہ کافی گنجلک تھا۔

وسطی پنجاب میں مقدس مقامات، ریلوے، دفاعی محاذوں اور پانی کی فراہمی کی تقسیم پر بھی مفادات کا ٹکراؤ ہو رہا تھا۔ اس مسئلے کے حل کے لئے پنجاب باؤنڈری کمیشن تشکیل دیا گیا جسے سر سِرل ریڈکلف کو رپورٹ کرنا تھا۔ اس کمیشن میں چار ججوں کو شامل کیا گیا جن میں سے 2 مسلمان، ایک ہندو اور ایک سکھ تھے۔

چار ججوں پر مشتمل اس کمیشن کے ذمے لگایا گیا کہ وہ وسطی پنجاب کی تقسیم کو لے کر درج ہونے والے مقدمات کی سماعت کریں لیکن اس کمیشن کو سیاسی رہنماؤں اور دیگر دلچسپی رکھنے والی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کا کوئی مینڈیٹ نہیں دیا گیا جو شاید ان کا سب سے اہم کام ہونا چاہیے تھا۔

قیاس کیا جاتا ہے کہ جب اس کمیشن نے فیصلہ سنایا تو مسلم جج ایک طرف ہو گئے جبکہ سکھ جج نے ہندو جج کا ساتھ دیا۔ اس طرح ان متنازعہ معاملات کو حل کرنے کی ذمہ داری ایک بار پھر ریڈکلف کے کندھوں پر آ گئی۔ ریڈ کلف کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ خود ہی فیصلہ کرے کہ پنجاب کو دو حصوں میں بانٹنے کے لئے لکیر کہاں کھینچنی ہے۔

سر ریڈ کلف نقشوں، گذارشات اور اطلاعات کے ڈھیر میں وائسرائے ہاؤس کے میدان میں موجود ایک بنگلے میں اپنے سیکرٹری کے ہمراہ اکیلے رہ رہے تھے۔ ان پر کسی بھی ہندوستانی رہنما سے بات کرنے پر پابندی تھی، جس میں وائسرائے بھی شامل تھا۔

تنرلمان لکھتی ہیں کہ سر ریڈ کلف نے برصغیر کے سینے پر بٹوارے کی لائن کھینچنے سے قبل جبرالٹر سے آگے مشرق کی طرف کبھی سفر نہیں کیا تھا۔(سپین کے شمالی ساحل سے متصل علاقے کو "جبل طارق یعنی جبرالٹر” کہا جاتا ہے جو آج بھی برطانیہ کے زیر انتظام ہے)۔

تقسیم ہند کو لے کر ریڈ کلف نے یہ تسلیم کیا تھا کہ انصاف پر مبنی بٹوارے کے لئے دو سال کا وقت درکار تھا۔ پنجاب کے گورنر ایون جینکنز نے بھی ماؤنٹ بیٹن کو بتایا تھا کہ پُرامن بٹوارے کے لئے چار سال لگیں گے جبکہ ماؤنٹ بیٹن کے پاس صرف چالیس دن تھے۔

سر ریڈ کلف کو تمام تر اعتراضات اور مسائل کے باوجود انہیں چالیس دنوں میں برصغیر کو دو حصوں میں بانٹنا تھا اور انہوں نے ایسا کیا بھی، لیکن اس جلد بازی نے دو نئی ریاستوں کے لیے ایسے مسائل جنم دیے جو آج تک تصفیہ طلب ہیں۔

گرداسپور کا مسئلہ

1556 میں گرداسپور کی اہمیت یہ تھی کہ یہاں 14 سالہ اکبر کو شہنشاہ کا تاج پہنایا گیا جبکہ 1947 میں اس ضلع کی جغرافیائی اور تزویراتی اہمیت تھی۔ گرداسپور بھارت اور کشمیر کے درمیان زمینی رابطے کا واحد ذریعہ تھا۔ بھارت اور کشمیر کی مشرقی سرحد کی جانب ہمالیہ اس قدر بلند تھا کہ وہاں سے زمینی رابطہ قائم کرنا ناممکن تھا۔

ماؤنٹ بیٹن پر الزام ہے کہ اس نے گرداسپور کو بھارت میں شامل کرنے کے لئے ریڈ کلف کے کام میں مداخلت کی کیونکہ نہرو اس وجہ سے پریشان تھے۔ یہ ہے وہ الزام جو مطالعہ پاکستان کا حصہ ہے، اس میں کتنی صداقت ہے اس کے لئے کچھ کڑیوں کو جوڑ کر دیکھنا پڑے گا۔

اس حوالے سے ایلکس فان تنزلمان نے ’انڈین سَمر‘ میں لکھا ہے کہ یقیناَ گرداسپور کی تقسیم کو لے کر نہرو پریشان تھے اور ماؤنٹ بیٹن نے ان کی مدد بھی کی لیکن اگر ایسا نہ بھی ہوتا تو گرداسپور کا ضلع بھارت کا حصہ ہی بننا تھا۔ کیونکہ فروری 1946 میں لارڈ ویول نے تقسیم ہند کو لے کر اس بات پر اصرار کیا تھا کہ گرداسپور کو امرتسر کے ساتھ ہی رکھنا چاہیے۔

لارڈ ویول نے اپنے اس مؤقف کے حق میں کہا تھا کہ اگر گرداسپور کو امرتسر سے الگ کر کے پاکستان میں شامل کیا گیا تو امرتسر مشرق، مغرب اور شمال کی جانب سے پاکستان کے گھیرے میں آ جائے گا جس سے سکھوں کی پوزیشن غیر مستحکم ہو گی۔

اس دلیل کی روشنی میں شاید یہ تسلیم کرنا ممکن ہو جاتا ہے کہ گرداسپور کو بھارت میں شامل کرنے کا فیصلہ اس وجہ سے نہیں کیا گیا تھا کہ یہ کشمیر تک جانے کا واحد آسان زمین راستہ ہے۔ اس واقعے کو بنیاد بنا کر ماؤنٹ بیٹن کو اس الزام سے آزاد قرار دیا جا سکتا ہے کہ وہ گرداسپور کی تقسیم پر اثر انداز ہوا۔ تاہم، باقی دونوں معاملات میں مصنفہ ماؤنٹ بیٹن کی معصومیت کا کوئی ثبوت ڈھونڈنے میں ناکام رہی ہیں۔

فیروزپور کا مسئلہ

فیروز پور کا معاملہ ماؤنٹ بیٹن کے کردار کی حقیقت سب پر واضح کر دیتا ہے۔ فیروزپور 50 لاکھ کی آبادی والا مسلم اکثریتی ضلع تھا جو دریائے ستلج کے جنوبی کنارے کے ساتھ واقع تھا۔ اس ضلع کی اہمیت اس میں قائم واٹر ہیڈ تھے جن سے بیکانیر کی شاہی ریاست سیراب ہوتی تھی۔ یہاں پاکستان کی حدود کا تعین سکھوں کی زمین کے چالیس میل اندر تک کیا گیا جس کی سرحد جنوب سے امرتسر کو گھیر رہی تھی، تزویراتی لحاظ سے یہ ایک نمایاں مقام تھا۔

8 اگست 1947 کو ماؤنٹ بیٹن کے پرائیویٹ سیکرٹری جارج ایبل کی جانب سے پنجاب کے گورنر ایون جینکنز کو جو عارضی نقشہ بھیجا گیا، اس میں ممکنہ سرحد کا تعین کیا گیا تھا جو اگلے ہی دن منظور ہونا تھا۔ اس نقشے میں فیروزپور کو پاکستان میں شامل کیا گیا تھا۔ ایبل کے مطابق اس نقشے میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہونا تھی۔ لیکن فیروز پور کا پاکستان میں جانا بیکانیر کی ریاست کے لئے باعث تشویش تھا جس نے پہلے ہی بھارت کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا تھا۔

بیکانیر کے چیف انجینئر کنور سائیں کے مطابق انہوں نے وزیراعظم کے ساتھ 11 اگست کو ماؤنٹ بیٹن سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ اگر فیروز پور کے واٹرہیڈ پاکستان کے حصے میں جائیں گے تو ہماری ریاست بھی پاکستان کے ساتھ الحاق کرے گی۔

اس اعلان کی وجہ یہ تھی کہ بیکانیر کی ریاست فیروزپور کے ہیڈ ورکس سے سیراب ہوتی تھی۔ یہ ہیڈ ورکس پاکستان کے حصے میں جانے کا مطلب بیکانیر ریاست کی تباہی تھی۔ اس لئے ممکنہ تباہی سے بچنے کے لئے ریاست نے اعلان کیا کہ فیروزپور کے واٹرہیڈ جس حصے کے ساتھ جائیں گے وہ بھی اسی کے ساتھ الحاق کریں گے۔

تنزلمان لکھتی ہیں کہ ماؤنٹ بیٹن نے بیکانیر کی ریاست کی اس دھمکی کا کوئی جواب نہیں دیا لیکن اس دھمکی کو سنجیدگی سے لیا۔ اسی رات ریڈکلف کو ماؤنٹ بیٹن اور لارڈ اسمے کے ساتھ دوپہر کے کھانے کا دعوت نامہ ملا۔ اس دعوت میں باؤنڈری کمیشن کے سیکرٹری کرسٹوفر کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نہیں بُلایا گیا۔

باؤنڈری کمیشن کے سیکرٹری کرسٹوفر نے بعد میں گواہی دی کہ ریڈکلف جب اس دعوت سے واپس آئے تو وہ کافی متذبذب تھے۔ اس دعوت میں کیا ہوا ریڈ کلف نے یہ بتائے بغیر تقسیم ہند کے نقشے پر نئی لائنیں کھینچنا شروع کر دیں اور فیروز پور کو پاکستان سے نکال کر بھارت میں شامل کر دیا۔ کرسٹوفر اور ماؤنٹ بیٹن کے ایک سیکرٹری کا خیال تھا کہ وائسرائے نے ریڈکلف کو نقشے میں رد و بدل کرنے پر اس لئے مجبور کیا کیونکہ اس پر نہرو اور ریاست بیکانیر کا دباؤ تھا۔

ماؤنٹ بیٹن کی بددیانتی

تقسیم ہند کے بعد ماؤنٹ بیٹن نے ساری زندگی یہ مؤقف برقرار رکھا کہ اس نے کبھی بھی ریڈکلف کے کام میں مداخلت نہیں کی۔ لیکن یہ ایک جھوٹ تھا۔ اس جھوٹ کو ایک خط نے بے نقاب کیا جو ماؤنٹ بیٹن نے اپریل 1948 میں لارڈ اسمے کو اس ہدایت کے ساتھ لکھا تھا کہ پڑھنے کے بعد اس خط کو جلا دینا، لیکن کسی طرح یہ خط جلنے سے محفوظ رہا۔ انڈین سمر میں اس خط کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔

خط میں ماؤنٹ بیٹن نے لکھا تھا کہ ریڈکلیف فیروزپور کا مسئلہ لے کر اس کے پاس آیا تھا۔ ماؤنٹ بیٹن کے خط میں اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ اس نے ریڈکلف کو نقشے میں تبدیلی کی ہدایت کی اور بدلے میں پاکستان کو بنگال کی جانب سے رعایت دینے کا کہا۔

ماؤنٹ بیٹن کے خط میں موجود حقائق کو دیکھا جائے تو یہ باؤنڈری کمیشن کے سیکرٹری کرسٹوفر کے بیان سے مختلف ہے کہ ریڈکلف نے وائسرائے کی دعوت سے واپسی پر نقشوں میں تبدیلی کی۔

تنزلمان کا کہنا ہے کہ یہ بھی یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ ماؤنٹ بیٹن نے اپنے خط میں لارڈ اسمے کو جو بتایا وہ پورا سچ تھا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو ریڈکلف کے ساتھ کیے گئے وعدے کے مطابق پاکستان کو بنگال کی طرف رعایت دی جاتی لیکن ایسا نہیں ہوا۔

چٹاگانگ مشرقی پاکستان میں کیوں شامل کیا گیا؟

ماؤنٹ بیٹن کے سوانح نگار نے اس طرف اشارہ کیا تھا کہ بنگال میں چٹاگانگ کا پہاڑی علاقہ پاکستان کو فیروزپور کے بدلے میں دیا گیا۔ یہ دعویٰ بھی بے بنیاد ہے کیونکہ چٹاگانگ کا پہاڑی علاقہ پاکستان کو فیروزپور نہیں بلکہ اس سے بڑے نقصان کے بدلے میں دیا گیا تھا۔ پاکستان کا یہ نقصان صنعتی شہر کلکتہ سے ہاتھ دھو بیٹھنا تھا۔

مارچ میں ماؤنٹ بیٹن کے پرنسپل سیکرٹری نے اسے یہ رائے دی تھی کہ کلکتہ کے بغیر مشرقی پاکستان ناقابل عمل ہوگا۔ ماؤنٹ بیٹن نے کلکتہ کو پاکستان سے الگ کرنے کے لئے چٹاگانگ کا علاقہ پاکستان میں شامل کرنے کا کہا، جو زمینی نقل و حمل کے لئے آسان نہیں تھا۔

گورنر فریڈرک بروز نے پیش گوئی کی تھی کہ کلکتہ کے بغیر آزاد مشرقی بنگال ایک ’دیہی کچی آبادی‘ بن جائے گا۔

تنزلمان نے لکھا کہ بنگال کی تقسیم میں اس طرح کی ہیرا پھیری اس لئے کی جا رہی تھی کہ جناح کے سامنے جب یہ منصوبہ پیش کیا جائے تو وہ اسے مسترد کر دیں اور عین ممکن ہے کہ وہ مسلمانوں کے لئے الگ ریاست کے قیام کے مطالبے پر بھی نظر ثانی کریں۔ ان کے تمام مفروضے غلط ثابت ہوئے اور جناح نے پاکستان کو قبول کر کے انہیں حیرت میں ڈال دیا۔

’انڈین سَمر‘ میں پیش کیے گئے دلائل سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ برصغیر کے بٹوارے میں ماؤنٹ بیٹن کی جانب سے بڑے پیمانے پر بددیانتی کی گئی اور ایک مفلوج ریاست قائد اعظم محمد علی جناح اور مسلم لیگ کے حوالے کی گئی جس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ ‘زیادہ عرصہ قائم نہیں رہ سکے گی’۔

ان دلائل سے اس بات کی تصدیق بھی ہوتی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی کی جڑ مسئلہ کشمیر کی بنیاد بھی ماؤنٹ بیٹن نے رکھی۔ اس لئے مطالعہ پاکستان کا یہ دعویٰ بلکل درست ثابت ہوتا ہے کہ گرداسپور کو بھارت میں شامل کر کے کشمیر پر قبضے کی راہ ہموار کی گئی۔

Tags:

1 Comment

  1. اعجاز احمد اگست 31, 2019

    نیا دور اور یاسر جرال صاحب کا شکریہ کہ سوچ جے نئے زاویہ سے تحقیق کی اور غیر جانبداری سے کچھ حقائق کی تصدیق بھی کر دی ,,,, رضا رومی نیا دور جاری کرنے پر آپ کا بھی شکریہ

    جواب دیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *