Type to search

بڑی خبر بین الاقوامی فیچر

بھارت کا چاند پر پہنچنے کا مشن ایک مرتبہ پھر ناکام، مودی مایوس

بھارت کا چاند کی سطح پر اترنے کا خواب ایک مرتبہ پھر ادھورا رہ گیا، چاند کے مخالف حصے کی طرف بھیجے گئے مشن ’’چندریان 2‘‘ کا زمینی اسٹیشن سے رابطہ منقطہ ہوگیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق خلائی تحقیق کے بھارتی ادارے ’’اِسرو‘‘ کی جانب سے چاند پر بھیجا گیا مشن ناکام ہو گیا ہے۔ چندریان 2 مشن اپنے پورے سفر میں ٹھیک کام کرتا رہا لیکن جب اس کی چاند گاڑی ’’وکرم‘‘ نے چاند کی سطح پر اترنا شروع کیا تو صرف 2100 میٹر کی اونچائی رہ جانے پر اچانک ہی اس کا رابطہ زمینی مرکز سے منقطع ہوگیا۔ اس کے بعد سے اب تک چندریان 2 کا رابطہ منقطع ہے۔

چاند پر لینڈنگ کا منظر دیکھنے کے لیے بھارتی وزیراعظم مودی بھی اسپیس ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر میں تھے، جب انہیں بتایا گیا کہ سگنل منقطع ہوگیا ہے تو مودی مایوس ہو کر وہاں سے چلے گئے۔

22 جولائی 2019 کو روانہ ہونے والا چندریان 2 اسپیس مشن 20 اگست 2019 کو چاند کے گرد اپنے مقرر کردہ مدار میں داخل ہوا۔ بھارتی وقت کے مطابق اس کے مون لینڈر وکرم کو رات ڈیڑھ بجے سے ڈھائی بجے کے درمیان چاند کے جنوبی قطب پر اُترنا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس مشن پر 978 کروڑ بھارتی روپے لاگت آئی ہے۔

خلائی مشن کی ناکامی پر بھارتی اسپیس ایجنسی کے سربراہ جذباتی ہو کر آبدیدہ ہوگئے جس کے بعد بھارتی وزیراعظم انہیں تسلیاں دیتے رہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق بھارت کا چاند مشن بظاہر ناکام ہوگیا ہے، وہ چاند کے قطب جنوبی پر لینڈنگ کرنے والا پہلا ملک بننا چاہتا تھا۔ اس سے قبل 2008 میں بھی بھارت کا چاند مشن ناکام ہوگیا تھا جب کہ امریکا، روس اور چین چاند کی سطح پر کامیاب لینڈنگ کر چکے ہیں۔

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بھارتی خلائی مشن چندریان کی ناکامی پر ٹویٹ میں انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن کو تنقیدی شاباشی دیتے ہوئے کہا کہ چندریان کی ناکامی کا الزام اب بھارت کس کو دے گا، کیا ناکامی کی وجہ مقبوضہ کشمیر کے معصوم عوام یا آئی ایس آئی ہے۔

 

بھارت کی اس ناکامی پر پاکستان کے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری بھی میدان میں ہیں۔ انہوں نے بھارتیوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ بھائی ہم نے کہا تھا 900 کروڑ لگاؤ ان نالائقوں پر؟ اب صبر کرو اور سونے کی کوشش کرو۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *