Type to search

عوام کی آواز فيچرڈ مذہب

زندہ و جاوید ہے حسین (ع)

آسمان گہری نیلی چادر تو روز ہی اوڑھتا، چاند اپنی مقرر کردہ اوقات میں تو ہر رات ہی نمودار ہوتا ہے لیکن ہر سال کہ آغاز پہ ایک ایسا چاند نمودار ہوتا ہے جو ماحول کو غمگین کر دیتا ہے۔ وہ چاند ہے محرم کا، جو 1400 سال سے ہر سال ایک ندا دیتا ہے کہ اے مسلمانوں! رسولﷺ کے نواسے کو بھوکا پیاسا دشت کربلا میں مار دیا گیا”

محرم الحرام کا چاند افق پر نمودار ہوتا ہے اور عاشق امام حسین علیہ السلام اپنے گھروں میں فرش عزا بچھا لیتے ہیں۔ پوچھنے والے پوچھتے ہیں، یہ سیاہ لباس، شال عزا، سینوں پہ ہاتھ، گھروں میں فرش عزا۔ ایسا کیا ہوا؟

تو جواب یہی آتا ہے کہ مظلوم کربلا کو بے گورو کفن دشت کربلا میں مار کر چھوڑ دیا گیا، آل رسول ص پر ظلم کی انتہا ہوگئی۔

برسوں سے بر صغیر میں محرم کا مہینہ آتے ہی ہر مذہب اور فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد رسول اعظم ﷺ کو انکے نواسے کا پرُسہ اپنے اپنے انداز و عقیدت میں پیش کرتے رہے ہیں لیکن وقت کہ ساتھ ساتھ یہ انداز بدلتے رہے۔ سبیلیں، منتیں اور مجلسیں اور جلوس سے بڑھ کر اب حسینیت کسی خاص فرقے تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسی انقلابی موومنٹ بن چکی ہے جو ہر ظالم کہ خلاف خروج کرنے کیلئے ایک مشعل راہ۔. نام حسین کو زندہ رکھنے کا مقصد ایسے تمام عناصر کو یاد دہانی کرانا ہے کہ جب جب ظلم بڑھے گا تو مظلوم اپنے حق کہ لئے آواز بلند کرے گا اور اس میں اپنے جان، مال، اولاد کو راہ حق میں اگر قربان بھی کرنا پڑ جائے تو اس سے گریز نہیں کرے گا۔

چند عناصر ایسے ہیں جو حسینیت کو آج بھی نقصان پہنچانے میں مصروف ہیں لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ایسے حربے ہمیشہ وقت کہ پیروں تلے کچل گئے اور باقی رہا تو نام حق کا۔

یہ عناصر محرم شروع ہوتے ہی نام امام حسین علیہ السلام پر آنسو بنانے والوں کو نشانہ بناتے ہیں تاکہ یہ عزاداری کے سلسلے بند ہو جائیں۔ لیکن یہ عزاداری ایسے عناصر کے منہ پر ایک طمانچہ ہے کیونکہ جتنا ظلم بڑھتا ہے حق کا پرچار اتنا زیادہ کیا جاتا ہے۔

معروف ڈاکٹر علی شریعتی کہتے ہیں کہ ” شہادت وہ تیز دھار اسلحہ ہے جس کے سامنے کسی بھی دشمن کے قدم نہیں جم سکتے”

شہادت امام حسین علیہ السلام ہمیشہ ظالم کو آشکار کرتی رہے گی۔ ڈاکٹر شریعتی امام حسین علیہ السلام کی شہادت اور زمانے پر اسکے اثرات کہ بارے میں کہتے ہیں”کچھ لوگ شہادت حسینی کے نتائج کو تردید کی نگاہ سے دیکھتے ہیں!ان کا خیال یہ ہے کہ قیام حسینی ایک شکست خوردہ قیام تھا تعجب ہوتا ہے ایسے لوگوں پر! آخر وہ کون سا کامیاب جہاد ہے جس نے معاشرے کے افکار و احساسات کی گہرائیوں میں جڑیں پکڑی ہوں اور اسکا رد عمل اتنا وسیع و عریض ہو کہ ہرزمانہ اس سے متأثرہوا ہو؟.حسین نے شہداء کے خون سے وہ نسخہ تیارکیا جو نابینا کو بینائی اور مردہ کو اسکی حیات عطا کرتا ہے۔

”شہادت” جنگ نہیں ،ایک رسالت ہے، ہتھیار نہیں بلکہ ایک پیغام ہے، ایسا کلمہ ہے جو خون کے ذریعہ ادا ہوتا ہے۔”

اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ شہادت امام حسین علیہ السلام  نے کیسی کیسی انقلابی تحریکوں کو جنم دیا اور نہ جانے کتنی قومیں اور افراد ہیں کہ جنہوں نے شہداء کربلا کے لہو کی گرمی سے مقصد حق کو حاصل کیا اور اس پر ثابت قدم رہے۔

شہادت حسینی میں مسلمان نہیں بلکہ انسان چاہے، اسکا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، انکے لیے ایسے راز پوشیدہ ہیں اگر وہ ان پر تدبر کے ساتھ سوچیں تو افکار حسینی کے ذریعے معاشرے میں اعلیٰ مقام حاصل کرسکتے ہیں- حسین علیہ سلام وہ جو ہر فسق و فجور کے خلاف علمبردار رہے وہ حسین ابن علی، جنہوں  نے حق کی خاطر اپنا گلا کٹایا، گھر بار لٹایا۔

حسین وہ زندۂ جاوید ہے کہ جسکی شہادت ہر سال دہرائی جاتی ہے اور وہ اپنی شہادت کے ذریعہ ہر دور میں موجود حق کے محاذ کی جانب انسانیت کو بلاتا ہے۔ حسین علیہ سلام نے کربلا میں معراج انسانیت دکھائی۔ شہادت حسین ع میں محبت، اخوت، احترام، جذبہ ایثار و قربانی، صبر، اور شجاعت کی ایسی مثال قائم کی کہ رہتی دنیا تک حسین ابن علی علیہ السلام جیسی قربانی کا متبادل روے زمین و زماں میں نظر نہیں آ سکتا۔

حسینیت ایک پیغام ہے، جو آج بھی ہر سال محرم الحرام کا مہینہ شروع ہوتے ہی انسانیت کو یاد دہانی کراتا ہے کہ ظلم کا ساتھ دینے والا یزید کی طرح پست اور مظلوم کی حمایت کرنے والا حسین علیہ السلام کی طرح زندہ و جاوید ہو جاتا ہے۔

 

 

 

 

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *