Type to search

تاریخ ثقافت فيچرڈ فیچر مذہب

ملتان:اُستاد اور شاگرد کے تاریخی تعزیے

ملتان میں استاد اور شاگرد کے تاریخی تعزیے یوم عاشور پر برآمد ہوں گے، جن کی تزئین و آرائش کا کام مکمل ہوتے ہی دونوں تعزیوں کو عزاداروں کی زیارت کیلئے رکھ دیا گیا ہے۔

 

ملتان کا شمار پاکستان کے اُن شہروں میں ہوتا ہے جہاں یومِ عاشور کے موقع پر ایک بڑی تعداد میں عزاداری کے جلوس نکالے جاتے ہیں۔ اس سال یوم عاشور پر شہر میں تعزیے کے 112 جلوس برآمد ہوں گے، ان تعزیوں میں نمایاں مقام استاد اور شاگرد کے تعزیوں کو حاصل ہے۔ ان میں سے اُستاد کا تعزیہ 180 سال پرانا بتایا جاتا ہے جبکہ شاگرد کا اصل تعزیہ تقریبا 160 سال پرانا ہے۔ جو حسن و جمال، نقش و نگار اور نفاست میں اپنی مثال آپ ہیں، ان دونوں تعزیوں کی تزئین و آرائش کا کام مکمل ہوتے ہی لائسنسداروں نے زیارت کیلئے رکھ دیا ہے۔

لکڑی پر کندہ کاری اور چوب کاری کے ماہر استاد پیر بخش نے حضرت امام حسینؑ سے عقیدت کے اظہار کے لیے 1833 میں چنیوٹ کے 12 کاریگروں کی مدد سے 5 سال کی مدت میں 70 من وزنی تعزیہ تیار کیا تھا۔ استاد کا تعزیہ مکمل طور پر ہاتھ سے بنا ہوا ہے اور اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔

اس تعزیے کی ہر منزل کئی چھوٹے بڑے ساگوان کی لکڑی کے ایسے ٹکڑوں سے بنی ہے جو منی ایچر محرابوں، جھروکوں، گنبدوں اور میناروں پر مشتمل ہیں۔استاد کے تعزیے میں کوئی میخ استعمال نہیں ہوتی بلکہ مختلف حصوں کو ایک دوسرے میں پیوست کرکے فن کا یہ اعلیٰ نمونہ مکمل کیا جاتا ہے۔

تاہم شاگر مقمع الدین نے 1860 میں 100 من وزنی تعزیہ بنایا تھا۔ شاگرد کا موجودہ تعزیہ مشین کی مدد سے تیار کردہ ہے کیونکہ شاگرد کے تعزیے کو ایک دفعہ گرنے سے کافی نقصان پہنچا اور ایک دفعہ تعزیے کو پراسرار طور پر آگ لگی اور وہ راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا۔

شاگرد کا تعزیہ بھی استاد کے تعزیے کی طرز پر لاتعداد محرابوں، جھروکوں، گنبدوں اور میناروں پر مشتمل ہے۔

یوم عاشور پر استاد کا تعزیہ محلہ جھک سے برآمد ہو کر شاہ رسال جبکہ شاگرد کا تعزیہ پاک گیٹ سے برآمد ہو کر اپنے روایتی راستے حرم گیٹ سے ہوتا ہوا دوبارہ پاک گیٹ میں بعد نماز عصر اختتام پذیر ہوگا۔ دونوں تعزیوں کی سیکیورٹی کیلئے پولیس نے سیکیورٹی پلان تشکیل دے دیا ہے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *