Type to search

تجزیہ فيچرڈ مذہب

درس كربلا اور فلسفہ حسینؓ كیا ہے؟

حضرت امام حسین علیہ اسلام اور انكے رفقاء كی كربلا كے میدان میں قربانی نہ صرف اسلام كی تاریخ بلكہ انسانی تاریخ كی سب سے عظیم قربانی ہے۔ كربلا كے میدان میں جو ظلم و بربریت کی داستان یزیدی افواج نے لكھی اس نے تاریخ عالم پر گہرے نقش چھوڑے ہیں۔

امام عالی مقام نے اللہ كے دین كی سربلندی اور نبی آخر الزماں محسن انسانیت ﷺِ كی سنت بچانے كیلئے اپنا سب كچھ اللہ پاك كی راہ میں قربان كركے دین كی خدمت كی ہے۔ وہیں پر واقعہ كربلا یہ درس بھی دیتا ھے كہ حق كیلئے كھڑے ہو جاو اور حق كا دفاع كرو۔

حق بات كہنے سے اس لیے پیچھے نہ ہٹو كہ سامنے طاقتور دشمن ہے۔ حسین پاك اور انكے رفقاء نے اس بات پر مہر ثبت كی كہ حق كیلئے كسی بھی قربانی سے دریغ نہ كرو۔

حق پر قائم رہنے كی بڑی قربانی دینی پڑتی ہے اور اسكا ثبوت امام حسینؓ نے جواں سالہ بیٹے علی اكبر قربان كر كے، 6 ماہ كا بیٹا علی اصغر قربان كر كے، یتیم بھتیجا شہزاہ قاسم اور بیوہ بہن كے بیٹے عون و محمد اورغازی عباس سمیت 18 بھائی قربان كر كے رہتی دنیا تک تمام انسانیت كیلئے ایک درخشاں اور ناقابل تردید مثال قربان كر دی ہے۔

امام حسین نے اس وقت كی حكومت اور اسٹیبلشمنٹ كے خلاف كلمہ حق بلند كیا تو بہت سے سركاری اور مصلحت پسند مولویوں نے حكومت وقت كی خواہش اور دباؤ كے تحت امام حسین كے قتل كا فتوی جاری كیا اور پھر اسے عوام تک بھی پہنچایا لیكن غداری او قتل كے فتوے حسین پاک كو باطل كی بیعت پر مجبور نہ كر سكے اور حسین اپنے فیصلے پر ڈٹے رہے۔ واقعہ كربلا نہ صرف اللہ كی خاطر قربانی دینے كا درس دیتا ھے بلكہ حق پر قائم رہنے كی قیمت ادا كرنے كیلیے بھی تیار كرتا ہے۔

خواتین كیلئے حضرت سیدہ زینبؓ كی استقامت لٹے پٹے بےسروسامان قاقلہ كی قیادت اور یزید كے سامنے كلمہ حق كہنا میں یہ راز بھی عیاں ہے كہ جب وقت مصیبت پڑے تو خاتون قیادت بھی كرسكتی ہے اور مردوں كا مقابلہ بھی كرسكتی ہے۔

آج محرم الحرام كے دوران ہمارے ہاں ایک عجیب و غریب اور لاحاصل بحث شروع ہوتی ہے جو اپنے اپنے مسالك كے عقائد اور بڑوں كے نظریات سے شروع ہو كے كفر كے فتوؤں پر ختم ہوتی ہے۔

آپ سب سے دست بہ دستہ عرض ہے كہ امام عالی مقام اور انكے رفقاء كی قربانیوں كا اصل پیغام سمجھیں اور اس پر عمل كرنے كی كوشش كریں۔ صرف حسینی ہونے كے دعوے سےكچھ نہیں ہو گا حسینی فكر پرعمل بھی كرنا ہو گا۔

حق كیلئے كھڑا ہونا پڑے گا سامنے مضبوط حریف دیكھ كہ مصلحت كا شكار نہیں ہو جانا اور نہ اپنے بچے گھر بیٹھا كہ لوگوں كے بچے میدان میں اتارنے ہیں۔ باطل كے مقابلے كیلئے سب سے پہلے اپنی ذات اولاد اور مال قربان پڑتا ہے۔

اگر كوی باطل كےقافلے میں شامل ہو تو حر كی صورت میں مثال بھی كربلا پیش كرتا ہے كہ آخری وقت میں یزیدی قافلے كو چھوڑ كے حسینی ؓقافلے میں شامل ہو جاو اور مرد حر بن جاو۔

فلسفہ حسین ؓ كسی ایك مسلك اور مذہب كی جاگیر نہیں بلكہ رہتی كاہنات تک آنیوالے ہر انسان كیلئے مشعل راہ ہے لہذا حسین تیرا میرا نہیں بلكہ حسین سب كا اور حسین رب كا ہے اور رب سب كا ہے۔حسینی فكر كو سمجھنے كیلیے تھوڑی دیر كیلئے اپنے اپنے ضمیر جھنجوڑیے اور پھر فیصلہ كیجیے كہ آپ یزیدی صف میں كھڑے ہیں یا حسینی قافلے میں موجود ہیں۔كربلا امت كا مساوی غم ہے اسے فرقوں میں بانٹنے سے اجتناب كیجیے

بقول خواجہ معین الدین چشتی اجمعیریؒ
شاہ است حسین، بادشاہ است حسین
دین است حسین، دین پناہ است حسین
سر داد، نداد دست درِ دست یزید
حقا کہ بنائے لا الہ است حسین

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *