Type to search

تجزیہ سیاست فيچرڈ

انصاف ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے ہے

کہتے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانیہ کے وزیر اعظم ونسٹن چرچل نے کہا کہ اگر ہماری عدالتیں انصاف کر رہی ہیں تو ہمیں کوئی خطرہ نہیں۔ یہ ایک جمہوری وزیر اعظم کا اپنے ملک کے عدالتی انصاف پر ایمان تھا۔ اب اگر ہم اپنی عدلیہ کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو سوائے شرمندگی کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ جسٹس منیر کے ایک فیصلے نے عدلیہ کو ہمیشہ کیلئے فوج کا تابع مہمل بنا دیا جو آج بھی پوری آب تاب کیساتھ اپنی خدمات سر انجام دی رہی ہے۔ جب جب کسی جج نے جرؑات کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی وہ نشان عبرت بنا دیا گیا۔ تازہ ترین مثال اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت صدیقی کی ہے جنہوں نے جرؑات کا مظاہرہ کیا اور راولپنڈی بار سے خطاب کرتے ہوئے عدلیہ پر فوج کے دباوؑ کا دو ٹوک انداز میں ذکر کیا۔ اب چاہیئے تو یہ تھا کہ معاملے کی تحقیقات کی جاتیں اور حقائق کا پتا لگا کر فیصلہ کیا جاتا لیکن ہماری عدالت عظمٰی نے جسٹس شوکت صدیقی کو ہی فارغ کر دیا۔

دوسری مثال جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ہے جنہوں نے کوئٹہ میں وکلاء کے بہیمانہ قتل عام اور فیض آباد دھرنا سے متعلق فیصلے دیئے اور اس میں ملوث کرداروں کی نہ صرف نشاندہی کی بلکہ متعلقہ ادارے کو ان اشخاص کے خلاف ضابطہ کی کاروائی کا کہا۔ اس فیصلے کے نتیجہ میں مذکورہ آفیسر کو تو ترقی دیدی گئی اور جسٹس فائز عیسیؑ پر سپریم جوڈیشیل کونسل میں کاروائی شروع ہو گئی جو تا دم تحریر جاری ہے۔

پانامہ کے نام پر ایک ڈرامہ رچایا گیا اور اس میں نام نہ ہونے کے باوجود سابق وزیر اعظم نواز شریف اور انکی بیٹی مریم پر مقدمہ بنا کر سات اور دس سال قید کی سزا بھی سنا دی گئی۔ جب احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی وڈیو منظر عام پر آئی تو بھونچال آ گیا اور عدلیہ اپنی صفائیاں دینے میں لگ گئی۔ ویڈیو میں جج ارشد ملک کہتے ہیں کہ مجھے میری ایک پرانی وڈیو دیکھا کر بلیک میل کیا گیا اور کوئی ثبوت نہ ہونے کے باوجود مجبور کیا گیا کہ نواز شریف کو سزا ہر حال میں دینی ہے۔ جب ہماری عدلیہ اس قسم کے متنازع فیصلے دیگی تو کون ان عدالتوں پر اعتبار کریگا؟

اس سے قبل پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو جس طرح سزا دی گئی وہ بھی ہماری عدلیہ کے ماتھے پر ایک کلنک کا ٹیکہ ہے۔ سزا دینے والوں میں سے ایک جسٹس نسیم حسن شاہ نے بعد میں ٹی وی پروگرام میں اعتراف کیا کہ ان پر دباوؑ تھا کہ بھٹو کو پھانسی کی سزا دینی ہے۔

لیڈر روز روز پیدا نہیں ہوتے۔ بقول شاعر؛

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

قائد اعظم کے بعد قوم کو ایک لیڈر بھٹو کی شکل میں ملا لیکن سازش کے تحت اسے عدالت کے ہاتھوں قتل کرا دیا گیا۔ عرصہ بعد قوم کو نواز شریف کی شکل میں ایک اور رہنما ملا تو اس کے خلاف بھی سازش کے تانے بانے بنے گئے اور اسے بھی کام نہیں کرنے دیا گیا۔ اگر کھلے دل و دماغ سے دیکھا اور سوچا جائے تو دونوں رہنماوؑں کے خلاف کارروائی میں یقیناً عدلیہ نے حصہ لیا لیکن اسکے تانے بانے واشنگٹن اور پنڈی کے اشتراک سے بنے گئے۔

معروف صحافی جاوید چودھری نے اپنے ایک کالم میں اس پر سے پردہ اٹھایا ہے۔ یہ کالم جو نواز شریف کے دوسرے  دور حکومت میں امریکہ میں متعین سابق سفیر عابدہ حسین سے ملاقات پر محیط تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ نواز شریف کو ہٹانے کا فیصلہ جنرل آصف نواز اور امریکی وزیر کے درمیان ملاقات میں ہو چکا تھا۔ حال ہی میں ہمارے وزیر اعظم امریکہ تشریف لے گئے اور وہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ صحافیوں سے گفتگو کے دوران ٹرمپ کا یہ کہنا "کہ پاکستان کی سابقہ حکومت ہمارا احترام نہیں کرتی تھی اس لئے ہم نے اسکی امداد معطل کی” اپنے اندر بہت معنی رکھتا ہے۔ بھٹو نے جب ایٹمی پروگرام کا آغاز کیا تو انہیں بھی امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کی طرف سے دھمکی ملی اور باز نہ آنے پر جو ہوا وہ دنیا نے دیکھا۔ نواز شریف کو بھی دھماکا نہ کرنے کی صورت میں بیش بہا ترغیبات دی گئیں لیکن نہ ماننے کی صورت میں عہدے سے برطرف ہوئے، جیل گئے اور پھر جلا وطن کر دیئے گئے۔ اب ایک بار پھرسازشوں کا بازار گرم ہے۔ عدلیہ کو اپنا کھویا ہوا وقار بحال کرنے کے لئے مبنی بر انصاف فیصلے دینا ہونگے۔ فیصلے چاہے کسی کے بھی خلاف ہوں لیکن انصاف ہوتا نظر آنا چاہیئے ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *