تنخواہ دار طبقے پر عائد جابرانہ ٹیکسوں کا خاتمہ ہونا چاہیے

سوال یہ نہیں کہ ریاست کتنا ریونیو جمع کر سکتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون ادا کر رہا ہے اور وہ کہاں خرچ ہو رہا ہے۔ ایماندار ٹیکس دہندگان سے بھاری رقوم وصول کر کے بدلے میں کچھ نہ دینا کس قدر بے سود اور غیر منصفانہ ہے۔

08:08 PM, 20 Nov, 2025

عبدالرؤف شکوری ڈاکٹر اکرام الحق حذیمہ بخاری

پاکستان کی معیشت سنگین چیلنجز سے دوچار ہے، جن میں مالیاتی مسائل، صنعتی پیداوار میں کمی اور محدود ٹیکس نیٹ جیسے عوامل شامل ہیں جو عوامی خدمات کی فراہمی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ مہنگائی نے قوتِ خرید کو متاثر کیا ہے، بلند شرحِ سود اور بڑھتی ہوئی توانائی لاگت نے سرمایہ کاری کو محدود کر دیا ہے، جبکہ زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات عوامی بے چینی میں اضافہ کر رہے ہیں۔

ٹیکس نظام، جو ماضی میں ایک منصفانہ معاشرہ تشکیل دینے اور ترقی کو فروغ دینے کے لیے بنایا گیا تھا، اب خود عدم مساوات کو دوام دے رہا ہے اور انہی شہریوں کو مایوس کر رہا ہے جن کی خدمت کے لیے یہ وجود میں آیا تھا۔ ٹیکسیشن اب شہری ذمہ داری کی علامت کم اور ایک ضبطی نوعیت کے نظام کی عکاس زیادہ بن چکی ہے جو عوام سے زیادہ مانگتا ہے مگر بدلے میں بہت کم دیتا ہے۔

پاکستان کے ٹیکس ڈھانچے پر طویل عرصے سے براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں میں عدم توازن اور بلند شرحوں کے باعث تنقید کی جاتی رہی ہے۔ قومی محصولات کا بڑا حصہ اب بھی بالواسطہ ٹیکسوں، مثلاً سیلز ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس سے حاصل کیا جاتا ہے جو آمدنی کی سطح سے قطعِ نظر تمام شہریوں پر بوجھ ڈالتے ہیں۔ تاہم، ٹیکس دینے والے طبقات میں سب سے زیادہ بوجھ تنخواہ دار طبقے پر پڑتا ہے۔

وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مالی سال 2024-25 کے اعداد و شمار کے مطابق، تنخواہ دار طبقے نے ذرائع آمدن پر ماخذ سے 605.953 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں ادا کیے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 54.7 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ یہ معیشت کا سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا طبقہ ہے۔ اپنی مجموعی آمدنی اور مراعات کی بلند قیمتوں پر ٹیکس کی کٹوتی کے باعث ان کی تنخواہوں کا بڑا حصہ براہِ راست ریاستی خزانے میں چلا جاتا ہے، جس کے بعد ان کے لیے گزر بسر مشکل ہو جاتی ہے، کیونکہ انہیں اپنی خالص آمدنی پر بھی 18 فیصد سیلز ٹیکس دینا پڑتا ہے۔

دوسری جانب معیشت کے بڑے شعبے، خصوصاً ریٹیل، ہول سیل اور رئیل اسٹیٹ، یا تو کم ٹیکسوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، یا ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں، یا پھر ٹیکسوں کا بوجھ صارفین پر منتقل کر دیتے ہیں۔

ریونیو ڈویژن ’ایئر بُک 2025‘ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں تنخواہوں سے ماخذ پر جمع ہونے والا انکم ٹیکس 606 ارب روپے رہا، جو برآمد کنندگان سے ماخذ پر وصول کیے گئے ٹیکس (122 ارب روپے)، ریٹیلرز، ڈسٹری بیوٹرز اور ہول سیلرز کی فروخت پر ایڈوانس ٹیکس (بالترتیب 37 ارب اور 25 ارب روپے)، بجلی کے بلوں پر ٹیکس (144 ارب روپے)، جائیداد سے حاصل آمدنی (49 ارب روپے) اور غیر منقولہ جائیداد کے خریداروں و فروخت کنندگان سے وصول کردہ ٹیکس (بالترتیب 118 ارب روپے) — ان سب کے مجموعے کے برابر ہے۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ حکومت کس قدر غیر منصفانہ طور پر ملازمین پر انحصار کر رہی ہے۔

تازہ ترین رپورٹس کے مطابق ملک میں فعال ٹیکس دہندگان کی کل تعداد تقریباً 56 لاکھ ہے، جن میں اکثریت تنخواہ دار طبقے کی ہے۔ یہ عدم توازن اس وقت مزید نمایاں ہو جاتا ہے جب اس کا موازنہ ملک کی 7 کروڑ 50 لاکھ سے زائد مزدور آبادی سے کیا جائے۔

اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ صرف 10 فیصد سے بھی کم پاکستانی اپنی آمدنی کے گوشوارے جمع کراتے ہیں، اور ان میں سے بھی ایک قلیل حصہ قابلِ ذکر انکم ٹیکس ادا کرتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف ٹیکس وصولی کے کمزور نفاذ کو ظاہر کرتی ہے بلکہ باضابطہ روزگار کے خلاف ساختیاتی تعصب کو بھی اجاگر کرتی ہے۔

یہ مسئلہ محض اعداد و شمار تک محدود نہیں، کیونکہ پاکستان میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ اس سطح تک پہنچ چکا ہے جسے ماہرینِ معیشت اور ٹیکس ماہرین ‘ضبطی’ یا ‘جابرانہ’ سطح قرار دیتے ہیں۔ اب یہ طبقہ اپنی خالص آمدنی سے گزر بسر کرنے کے قابل نہیں رہا۔ درمیانے طبقے کے لیے قابلِ اطلاق مجموعی شرحِ ٹیکس، جب پروویڈنٹ فنڈ اور لازمی پنشن کٹوتیوں جیسے دیگر واجبات کے ساتھ جوڑی جائے، 35 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔

ایسا بوجھ صرف اس صورت میں جائز ٹھہرایا جا سکتا ہے جب ریاست تمام شہریوں کو معیاری تعلیم، قابلِ رسائی صحت کی سہولیات، قابلِ اعتماد انفراسٹرکچر اور مضبوط سماجی تحفظ جیسی بنیادی سہولتیں فراہم کرے۔ مگر پاکستان میں یہ خدمات یا تو موجود نہیں یا انتہائی کمزور مالی معاونت کے ساتھ فراہم کی جاتی ہیں۔ نتیجتاً تنخواہ دار طبقہ دوہرے عذاب سے گزرتا ہے — بھاری ٹیکس ادا کرنے کے باوجود اُسے اپنی کم آمدنی سے ہی نجی اسکولوں کی فیس، مہنگے علاج اور ذاتی تحفظ کے اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

ایف بی آر کی تازہ ترین سالانہ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں مجموعی ٹیکس وصولی 11.7 کھرب روپے رہی، جس میں سے انکم ٹیکس کا حصہ 5.76 کھرب روپے تھا۔ اس انکم ٹیکس میں سے محض 267 ارب روپے — جو کل انکم ٹیکس وصولی کا صرف 4.6 فیصد بنتا ہے — ‘ڈیمانڈ پر’ جمع کیا گیا (171 ارب روپے موجودہ واجبات سے اور 95 ارب روپے بقایاجات سے حاصل ہوئے)۔ پوری فیلڈ فارمیشن کی کتنی قابلِ مذمت کارکردگی ہے!

حکومت کی جانب سے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے میں ناکامی — یعنی امیر و بااثر طبقے کو ٹیکس کے دائرے میں نہ لانا اور پانچ کھرب روپے سے زائد کی ٹیکس چھوٹیں ختم نہ کرنا — اس نظام میں پہلے سے شامل طبقات، خصوصاً تنخواہ دار ملازمین پر مزید دباؤ ڈالتی ہے۔ یہ پالیسی اگرچہ قلیل مدتی مالی استحکام کا تاثر دے سکتی ہے، مگر درحقیقت یہ عوامی اعتماد کو مجروح کرتی ہے اور سماجی و معاشی انصاف کے وسیع تر ہدف کو نقصان پہنچاتی ہے۔

ٹیکس سلیبز کی ساخت خود اس عدم مساوات کی عکاس ہے۔ مالی سال 2024-25 کے لیے سالانہ 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے کمانے والے افراد کے لیے ابتدائی شرحِ ٹیکس بظاہر معتدل دکھائی دیتی ہے، لیکن جب مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی کو مدنظر رکھا جائے تو اس کا حقیقی اثر کہیں زیادہ ہوتا ہے۔

20 لاکھ روپے سالانہ سے زائد آمدنی والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح میں اچانک اضافہ اس نظام کو غیر منصفانہ بنا دیتا ہے، جو محنت اور پیشہ ورانہ ترقی کو سزا دینے کے مترادف ہے۔ حقیقی ریلیف یا مہنگائی کے مطابق ایڈجسٹمنٹ کے فقدان کے باعث معمولی تنخواہ میں اضافے سے بھی کارکنان بلند ٹیکس سلیب میں چلے جاتے ہیں، بغیر اس کے کہ ان کی حقیقی آمدنی میں کوئی بہتری آئے، یوں ٹیکسوں میں یہ پوشیدہ اضافہ ان کی محنت پر عملی طور پر ایک سزا بن جاتا ہے۔

غیر ٹیکس شدہ شعبوں سے موازنہ کرنے پر یہ ناانصافی اور بھی نمایاں ہو جاتی ہے، کیونکہ زرعی شعبہ، جو مجموعی طور پر معیشت میں تقریباً 25 فیصد حصہ ڈالتا ہے، وفاقی انکم ٹیکس نظام سے مکمل طور پر باہر ہے، حالانکہ صوبوں کے دائرہ کار میں آنے والا زرعی آمدنی پر ٹیکس صرف فصلوں تک محدود ہے جو بمشکل 9 فیصد ہے۔

اسی طرح جائیداد کا شعبہ، جہاں قیاسی منافع اکثر باضابطہ کاروباری منافع سے زیادہ ہوتا ہے، جائیداد کی کم قیمت ظاہر کرنے اور کیپیٹل ویلیو ٹیکس کے نظام میں موجود سقم کی وجہ سے نہ ہونے کے برابر ٹیکس ادا کرتا ہے۔ تاجر، ہول سیلرز اور ریٹیلرز، جو معیشت کا ایک بڑا حصہ ہیں، اس کے مقابلے میں انتہائی قلیل ٹیکس دیتے ہیں جتنا تنخواہ دار طبقہ ادا کرتا ہے۔ ٹیکس کی اس کھوکھلی تقسیم نے نہ صرف مسابقت کو بگاڑ دیا ہے بلکہ ایماندار شہریوں میں اجنبیت اور محرومی کے احساس کو بھی گہرا کیا ہے۔

ایسے نظام کے سماجی اثرات نہایت سنگین ہیں، کیونکہ جب ریاستی مالیات کا بوجھ معاشرے کے محدود طبقے پر ڈال دیا جائے تو باہمی ذمہ داری کے اصول کمزور پڑ جاتے ہیں۔ یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اقتصادی انصاف تب ہی ممکن ہے جب ٹیکس کا نظام منصفانہ اور مساوی ہو۔

یوں، روایتی طور پر سب سے زیادہ دیانت دار اور پیداواری طبقہ — یعنی تنخواہ دار طبقہ — کو بتدریج ایسے حالات کی طرف دھکیلا جا رہا ہے جہاں وہ یا تو ملک چھوڑنے پر مجبور ہو رہا ہے یا غیر رسمی روزگار کے ایسے ذرائع اختیار کر رہا ہے جن کے ذریعے وہ حد سے زیادہ ٹیکس کے بوجھ سے بچ سکے۔

آگے بڑھنے کا راستہ شفاف مالی نظم و نسق اور سیاسی جرات کا متقاضی ہے، ایک ضرورت جسے ایف بی آر کی اپنی رپورٹ نے نمایاں کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں مجموعی ٹیکس وصولی 11.74 ٹریلین روپے رہی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 26.3 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ اس میں انکم ٹیکس کا حصہ صرف 5.76 ٹریلین روپے (یعنی کل آمدنی کا تقریباً 49 فیصد) تھا، اور اگر بالواسطہ نوعیت کے ودہولڈنگ ٹیکس منہا کر دیے جائیں تو یہ تناسب تقریباً 25 فیصد رہ جاتا ہے۔ سیلز ٹیکس سے 3.90 ٹریلین، کسٹم ڈیوٹی سے 1.28 ٹریلین، اور فیڈرل ایکسائز سے 766.6 ارب روپے وصول کیے گئے۔

اس ریکارڈ وصولی کے باوجود، ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح صرف 10.2 فیصد کے قریب ہے، جو جنوبی ایشیا میں سب سے کم شرحوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ فرق ٹیکس وصولی کی صلاحیت کی کمی نہیں بلکہ ادائیگی کی استطاعت کی بنیاد پر ٹیکس عائد نہ کرنے کی ناکامی ظاہر کرتا ہے۔

ریونیو کے ڈھانچے کا قریب سے جائزہ لینے پر بنیادی عدم توازن نمایاں ہوتا ہے: کل انکم ٹیکس کا تقریباً 60 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کی صورت میں پیشگی طور پر جمع کیا جاتا ہے، بجائے اس کے کہ مفصل جائزے کے بعد ادا کیا جائے۔

صرف تنخواہ دار طبقہ ہی 606 ارب روپے سے زائد ادا کرتا ہے، جو مجموعی انکم ٹیکس آمدنی کا تقریباً 11 فیصد بنتا ہے، حالانکہ یہ محنت کش طبقے کا صرف 8 فیصد حصہ ہے۔ اس کے برعکس ریٹیل اور ہول سیل کے شعبے، جو معیشت کا تقریباً 18 فیصد ہیں، مجموعی براہِ راست ٹیکسوں میں 2 فیصد سے بھی کم حصہ دیتے ہیں، جو نہ صرف غیر مؤثر بلکہ صریحاً غیر منصفانہ ہے۔

اس عدم مساوات کے معاشی اثرات بھی واضح ہیں: تنخواہ دار طبقے سے حاصل ہونے والے ذاتی انکم ٹیکس میں سالانہ تقریباً 22 فیصد اضافہ ہو رہا ہے، جو دیگر تمام براہِ راست ٹیکسوں کی شرحِ نمو سے زیادہ ہے، حالانکہ حقیقی اجرتیں جمود کا شکار ہیں۔

دوسری جانب، کارپوریٹ اور کاروباری شعبوں سے ٹیکس وصولی میں صرف 8 فیصد اضافہ ہوا۔ نتیجتاً، پورا نظام ایک چھوٹے مگر زیادہ ٹیکس دینے والے طبقے پر انحصار کر رہا ہے۔

یہ عدم مساوات اخراجات تک بھی پھیلی ہوئی ہے۔ وفاقی حکومت نے ریکارڈ ریونیو جمع کرنے کے باوجود اس کا 75 فیصد — یعنی تقریباً 8.8 ٹریلین روپے — قرضوں کے سود کی ادائیگی پر صرف کیا، جس کے بعد عوامی سرمایہ کاری یا فلاحی منصوبوں کے لیے وسائل نہ ہونے کے برابر رہ گئے۔ اسی طرح صحت اور تعلیم پر مجموعی طور پر جی ڈی پی کا صرف 1.8 فیصد خرچ کیا گیا، جو علاقائی اوسط سے کہیں کم ہے۔

یہ اعداد و شمار مزید واضح کرتے ہیں کہ ایماندار ٹیکس دہندگان سے بھاری رقوم وصول کر کے بدلے میں کچھ نہ دینا کس قدر بے سود اور غیر منصفانہ ہے۔ ایسا نظام جو صرف وصولی کرے لیکن خدمات فراہم نہ کرے، اپنی اخلاقی حیثیت کھو دیتا ہے۔

ایک معتدل اور مؤثر ٹیکس نظام کا مقصد شرحیں بڑھانے کے بجائے ٹیکس کے دائرے کو وسیع کرنا ہونا چاہیے۔ ایف بی آر کے اپنے تخمینے کے مطابق، غیر دستاویزی معیشت — جس کی سالانہ مالیت 7 ٹریلین روپے سے زائد ہے — کے صرف 20 فیصد حصے کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے سے کم از کم 1.2 ٹریلین روپے اضافی حاصل کیے جا سکتے ہیں، بغیر کسی شرح میں اضافہ کیے۔

اسی طرح جائیداد اور تجارتی شعبوں میں کم ظاہر کردہ آمدنی کو درست طور پر رپورٹ کرنے سے مزید 400 سے 500 ارب روپے حاصل ہو سکتے ہیں۔ ان اقدامات کے ساتھ بہتر نفاذ اور ڈیجیٹل انضمام سے تین سال کے اندر ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 15 فیصد تک پہنچائی جا سکتی ہے، بشرطیکہ پالیسی ترجیحات درست سمت اختیار کریں۔

وقت آ گیا ہے کہ ٹیکس کے نظام کو منصفانہ بنایا جائے، کیونکہ تنخواہ دار طبقہ طویل عرصے سے قومی بوجھ کا غیر متناسب حصہ اٹھا رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ریاست کتنا ریونیو جمع کر سکتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون ادا کر رہا ہے اور وہ کہاں خرچ ہو رہا ہے۔

معاشی بحالی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک نظام انصاف پر مبنی نہ ہو — ایسا نظام جو شہریوں کو رضاکارانہ طور پر حصہ لینے کی ترغیب دے، نہ کہ جبر سے۔ ایف بی آر کے تازہ ترین اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کے پاس ریونیو کی بے پناہ صلاحیت ہے، لیکن جب تک نظام ایمانداری، انصاف اور بوجھ کی منصفانہ تقسیم کو تسلیم نہیں کرتا، تب تک چند مظلوم شہری ہی قربان ہوتے رہیں گے، جبکہ غیر مطیع طبقہ ریونیو حکام کی مجرمانہ ملی بھگت سے پھلتا پھولتا رہے گا۔

مزیدخبریں