Type to search

بلاگ تجزیہ جرم

چونیاں! بچوں کا اغوا اور قتل، ہمیں کیا کرنا ہے

قصور پاکستان کا وہ ضلع ہے جو بدقسمتی سے 2006 تا 2014 تک بچوں کے ریپ، 2018 میں بچیوں کے اغوا اور قتل کی سلسلہ وار وارداتوں اور اب 2019 میں بچوں کے اغوا اور قتل کی سلسلہ وار وارداتوں کی وجہ سے پاکستان اور دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائے ہوئے ہے۔

ابھی حال ہی میں نیا دور نے آپ کو بلھے شاہ کا عرس اور محبت کا پیغام دکھایا تھا۔ بلھے شاہ کی یہ پُرامن دھرتی ایک بار پھر بچوں کے سیریل کلر کی زد میں ہے۔ سمجھ نہیں آتا کہ مسئلہ ہمارے نظام تعلیم میں ہے، جو بچوں/بچیوں کو یہ شعور دینے میں ناکام ہے کہ وہ جنسی غنڈوں سے اپنی حفاظت کیسے کریں؟ یا پھر ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں، جو تفتیش کی جدید سہولیات، طریقوں اور آلات سے بے بہرہ ہیں۔

چونیاں کے محلہ پیر جہانیاں کے محمد فیضان 16 ستمبر 2019، محلہ رانا ٹاؤن کے محمد عمران ولد محمد رمضان 3 جون 2019، محلہ غوثیہ آباد کے سلمان ولد محمد اکرم 8 اگست 2019، علی حسنین ولد افضل 17 اگست سے لاپتہ تھے۔ محمد فیضان کی لاش عقب چونیاں انڈسٹرئیل اسٹیٹ سے برآمد ہوئی ہے اس کے ساتھ دو کھوپڑیاں، انسانی ہڈیاں، کپڑوں کے کچھ ٹکڑے وغیرہ بھی برآمد ہوئے ہیں۔ تمام بچوں کی عمر 8 سے 12 سال کے درمیان ہیں۔

16 ستمبر کو فیضان کے اغوا سے پہلے گمشدہ بچوں کے لواحقین نے بھرپور مظاہرہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں مقامی پولیس حرکت میں آئی۔ چونیاں بھر میں سرچ آپریشن ہوا مگر بے سود۔ ایک راہگیر نے پولیس کو اطلاع دی کہ اس نے دریائے ستلج کے کنارے چونیاں انڈسٹریل سٹیٹ کے کھنڈر علاقے کے پاس ایک بچے کی لاش دیکھی ہے۔ پولیس موقع پر پہنچی تو اسے وہاں سے کچھ اور بچوں کی باقیات بھی ملیں جنہیں تحقیقاتی اداروں نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

اس وقت چونیاں اور گرد و نواح میں بچوں کے اغوا اور قتل کا ایک سلسلہ شروع ہے اور اب تک تین بچوں کو اغوا کر کے قتل کیا جا چکا ہے۔ ایک بچہ غائب ہے، اطلاعات ہیں کہ کچھ عرصہ پہلے چند اور بچے بھی اغوا ہوئے۔ جیسا کہ جمبر کے نواحی گاؤں ٹھٹی اوتاڑ، پھولنگر، پتوکی اور دیگر جگہوں پر۔ ان میں کچھ بچے مل گئے کچھ تاحال لاپتہ ہیں۔

باقی بچوں کا اغواکار کون ہے یہ جاننا ابھی باقی ہے۔ کیا وہ اس انجام کا شکار ہو چکے ہیں یا ابھی وہ زندہ ہیں یہ وقت بتائے گا۔ چونیاں سے اغوا ہونے والے بچوں کی لاشوں کا ایک ہی مقام سے ملنا اس بات کی جانب نشاندہی ضرور کرتا ہے کہ یہ کام ایک ہی قاتل کا ہے۔ جو یا تو شیطانی فعل کی خاطر، یا پھر جادو ٹونے کی خاطر ان بچوں کو قتل کر رہا ہے۔ خیر، قاتل جو کوئی بھی ہو زیادہ دیر بچ نہ پائے گا۔ بچوں کا خون رنگ لائے گا۔ اس وقت سوچنا یہ ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے؟ ہمارے پاس چند محدود آپشن موجود ہیں۔

احتجاج

احتجاج ایسے واقعات کو حکام بالا تک پہنچانے کا ایک موثر ذریعہ ہے اور یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی مدد سے اٹھائی گئی تحاریک اور عوامی احتجاج ملک کی پرائم انوسٹیگیشن ایجنسیز اور وسائل کی توجہ اس علاقے کی جانب مبذول کرواتی ہیں اور اکثر اس کے نتائج مثبت ہوتے ہیں۔

احتیاط

یاد رکھیں کہ سیریل کلر کوئی ایک یا دو ہوتے ہیں۔ ان کو پکڑنا ریاست، حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا فرض ہے لیکن تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جن میں دنیا کے ترقی یافتہ ترین ممالک کی پولیس اور ایجنسیز اپنے ممالک میں ہونے والے سیریل مرڈرز کا پتہ نہ لگا سکے۔ پاکستان میں آج تک کوئی سیریل کلر چھپا نہیں رہ سکا۔ آخر کار ہماری پولیس اور دیگر اداروں نے ڈھونڈ نکالا، آپ احتجاج میں قومی املاک کو نقصان پہنچانے، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو گالیاں نکالنے سے پرہیز کریں کیونکہ اس کا نتیجہ کچھ نہیں ہو گا۔

سنسنی

دوسرا اور بہت مشہور طریقہ یہ ہے کہ سنسنی پھیلا دی جائے۔ سستی شہرت اور لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ایسی خبریں پھیلائی جائیں جس سے پورے ملک کی عوام میں خوف پھیل جائے۔ ایسا کرنے سے آپ تو شائد معاملے کو ہائی لائٹ کر رہے ہوں لیکن دراصل ایسا کر کے آپ سیریل کلر کا مقصد پورا کریں گے اور وہ ہے خوف پھیلانا، اس وقت ڈر کر دبکنے کی نہیں بلکہ اپنے اردگرد مشکوک لوگوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ یاد رکھیں سیریل کلر کوئی جیمز بانڈ 007 طرز کا انسان نہیں بلکہ ہمارے جیسا عام آدمی ہے اور وہ ہمارے درمیان رہ کر ہمارے ری ایکشن کو دیکھ کر اپنے اگلے ٹارگٹ کو پلان کرے گا۔ اس لیے اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ مزید ایسے واقعات کو روکیں تو سنسنی پھیلانے کی بجائے اپنا عزم ظاہر کریں۔

تربیت

90٪ کیسز میں کوئی بھی مجرم یا سیریل کلر بچے کو زبردستی اٹھا کر نہیں بھاگتا بلکہ وہ ایسا کرنے کے لیے ان کے ساتھ اپنا دوستانہ تعلق قائم کرتا ہے۔ انہیں اعتماد میں لیتا ہے اور پھر بہت آرام کے ساتھ ہم سب کی آنکھوں کے سامنے بچے کو لے کر نکلتا ہے۔ اس سلسلے کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنے بچوں کی تربیت کریں، انہیں دلیل سے سمجھائیں کہ اجنبیوں کے ساتھ میل جول بڑھانے سے کیا خطرات ہو سکتے ہیں۔ آپ ہر وقت اپنے بچے کے ساتھ نہیں ہوتے اس لیے اپنے بچے کو بچانے کے لیے اسے شعور دیں۔ انہیں سمجھائیں کہ اجنبی کس طرح بچوں کا جنسی استحصال کرتے ہیں اور پھر پکڑے جانے کے خوف سے مار ڈالتے ہیں۔ شعور ہی جاہلیت کا مقابلہ کر سکتا ہے۔

ایک قاتل کے پکڑے جانے کے بعد اگلے قاتل سے بچنے کے لیے علم  کا ہتھیار بندوق سے طاقتور ہے۔ اللہ پاک آپ سب کو اور آپ کی اولادوں کو محفوظ فرمائے۔ آمین

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *