Type to search

بڑی خبر خبریں قومی

اگلے سال تبدیلی کو تبدیل کرنے کی تیاری ہو چکی ہے؟ اہم صحافی کا بڑا انکشاف

  • 26
    Shares

صحافتی حلقوں میں آج کل یہ خبریں زیر بحث ہیں کہ کیا حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں؟ اور کیا تبدیلی کو تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی ہو چکی ہے؟ کہا جا رہا ہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کا موسم اچھا نہیں ہے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ ایک بڑے صحافی نے لکھا ہے کہ اس سال تو معاملہ ایسے ہی جاری رہے گا، البتہ اگلے سال کے آغاز ہی سے تبدیلی کا ماحول بننا شروع ہو جائے گا اب پتا نہیں مکمل تبدیلی میں کتنا وقت لگے گا۔

معروف صحافی و کالم نگار سہیل وڑائچ نے روزنامہ جنگ میں لکھے گئے اپنے تازہ کالم بعنوان "میلہ چار دناں دا” میں حکومتی ایوانوں اور مقتدر حلقوں میں پائی جانے والی بے چینی کو ایک خیالی مکالمے کی صورت میں پیش کیا ہے۔ انہوں نے اپنے کالم کو دو تصوراتی کرداروں کے گرد باندھ کر موجودہ حالات کو بیان کیا ہے۔

ان کرداروں میں سے ایک ہوشیار خان ہیں اور دوسرے پریشان خان۔ پریشان خان ملکی صورتحال پر پریشان ہیں جبکہ ہوشیار خان اس کی وجوہات اور ممکنا آپشنز پر بات کر رہے ہیں۔

اس مکالمے میں ہوشیار خان سے مراد کون ہے اور پریشان خان کے کردار میں کس کو چھپایا گیا ہے یہ تو آپ کو مکمل کالم پڑھ کر ہی پتا چلے گا۔ لیکن، ایک بات واضح ہے کہ دونوں کردار ہی موجودہ صورتحال پر پریشان ہیں۔

سہیل وڑائچ کے کالم کے کردار ہوشیار خان نے یہ انکشاف کیا ہے کہ اب ریاست زیادہ دیر گومگو میں نہیں رہ سکتی۔ کافی ہو گیا، اگلے دو تین ماہ میں حالات نہ سدھرے تو تبدیلی کے حالات بن جائیں گے، نہ چاہتے ہوئے بھی ریاست کو اقدامات کرنا پڑیں گے۔

ہوشیار خان نے پریشان خان کو مزید بتایا کہ ’’میلہ چار دناں دا‘‘۔ اس سال تو معاملہ ایسے ہی جاری رہے گا، البتہ اگلے کے آغاز ہی سے تبدیلی کا ماحول بننا شروع ہو جائے گا اب پتا نہیں مکمل تبدیلی میں کتنا وقت لگے گا۔

واضح رہے کہ پریشان خان اور ہوشیار خان کے اس مکالمے میں حکومت کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *