Type to search

انصاف تاریخ تجزیہ فيچرڈ مذہب

گھوٹکی سانحہ  اور قائد اعظم  کا پاکستان

  • 29
    Shares

قائد اعظم نے ایک موقع پر علی گڑھ یونیورسٹی میں طلبا سے خطاب کرتے ہوئے ایک پرانے کانگریسی لیڈرکے پاکستان سے ان  متعلق الزامات کا جواب  دیا جن کا اصل متن یہ تھا :
The State under the Pakistan Scheme would not be a civil government responsible to a composite legislature consisting of all communities, but a religious State pledged to rule according to the teaching of that religion thus by implication excluding all others not following that religion from a share in the government

ترجمہ: تصور پاکستان کے مطابق قائم ہونے والی  ریاست ایک ایسی حکومت کی حامل نہیں ہوگی جو تمام برادریوں کی نمائندہ مجلس قانون سازکے سامنے جوابدہ ہو، بلکہ یہ ایک مذہبی ریاست ہوگی جس کا مقصد اس مذہب کی تعلیمات کے مطابق حکمرانی کرنا ہوگا اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اس مذہب کے پیروکار نہیں ہوں گے، وہ حکومت میں حصہ کے حق دار نہیں ہوسکیں گے۔
قائد اعظم نے اس الزام کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا :
Is it not an incitement to the Sikhs and the Hindus? Telling them that it would be a religious State excluding them from all power is entirely untrue…. They are like brothers to us and would be the citizens for the State.
ترجمہ: کیا یہ ہندوں اور سکھوں کو اکسانے کی کوشش نہیں ہے۔ ان کو یہ بتانا کہ یہ (پاکستان)ایک مذہبی ریاست ہوگی جس میں انہیں حکومت واقتدار سے الگ رکھا جائے گا، یہ کھلا جھوٹ ہے۔ وہ(ہندو اور سکھ)ہمارے بھائیوں کی طرح ہیں، اور وہ ریاست کے شہری بن کر رہیں گے۔

قائداعظم کے  اس کے علاوہ بھی ایسے بیسیوں بیانات موجود  ہیں جو پاکستان کو ایک جدید جمہوری ریاست کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ موجودہ پاکستان قائد اعظم کے تصور سے یکسر مختلف سمت میں آگے بڑھ رہا ہے یہ ایک  ایسے رستے کی جانب محو سفر ہے جس کی پیشگوئی اس کے مخالفین نے کی تھی۔

مہذب ریاستوں میں ایسے قوانین موجود  نہیں ہوتے جو کسی ایک خاص مذہب یا مسلک کے مذہبی تعصب یا برتری کی جھلک دیتے ہوں بلکہ اگر  ترقی یافتہ دنیا کا مشاہدہ کیا جائے تو  ہم دیکھتے ہیں کہ جدید ریاستوں میں اگر کہیں ایسے قوانین موجود  ہیں جن کا مقصد مذہبی تقدس و احترام برقرار رکھنا ہےتو  وہ ریاست کے تمام شہریوں کے عقائد کا یکساں  مساویانہ اور منصفانہ   احترام برقرار رکھنے  کے عمل کو یقینی بناتے ہیں ۔

سندھ کے شہر گھوٹکی میں گزشتہ ہفتے جو کچھ ہوا وہ کوئی انوکھا یا پہلا واقعہ نہیں تھا ۔  یہ واقعہ ہمارے سماج میں  پھیلتی ہوئی مذہبی تعصب گری کے ان گنت نمائندہ واقعات میں سے ایک تھا  جس کی مثالیں سندھ و پنجاب سمیت ملک کے دیگر خطوں میں بھی ملتی ہیں۔

ہم کب تک اپنی داخلی  حقیقتوں سے  غافل رہ کر غیروں کی جانب حرف تنقید اچھالتے رہیں گے  جبکہ  خود ہماری حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار  نے چار سال پہلے ملک کے موقر انگریزی اخبار میں بیان دیا تھا کہ ہرسال صرف صوبہ سندھ سے ہی  پانچ ہزار کے لگ بھگ ہندو برادری کے لوگ پاکستان  چھوڑ کر بھارت منتقل ہورہے ہیں اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

کیا ہمیں یہ لگتا ہے کہ  یہ مذہبی تعصب اور نفرت کی آگ صرف دوسرے مذاہب کے ماننےوالوں کو اپنی لپیٹ میں لے گی ؟ جی نہیں ، ایسا نہیں ہے بلکہ عرصہ ہوا  یہ آگ اب مسلک اور مسجد کی تقسیم تک آن پہنچی ہے۔

اقلیتی برادری کے حقوق پر کام کرنے والے ادارے انسٹی ٹیوٹ فار سوشل جسٹس کے سربراہ نے راقم کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ انہیں خدشہ ہے کہ اگر پاکستان میں غیر مسلم اقلیتی برادری کے خلاف عرصہ حیات تنگ کئے جانے کا رویہ برقرار رہا اور اسی طرح  غیر مسلم برادری پاکستان چھوڑ کر نقل مکانی کرتی رہی یا حالات کے جبر سے تنگ آکرمذہب بدلتی رہی تو شائد اگلی تین دہائیوں تک پاکستان میں اقلیتی مذاہب کا وجود ختم ہوجائے گا۔

گھوٹکی میں ہونے والے سانحے کے بعد ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے حقوق انسانی کے معروف کارکن کپل دیو نے  سوشل  میڈیا پہ تحریر کیا کہ یہ سانحہ  شمالی سندھ کی ہندو برادری کی  بھارت یا کراچی  کی جانب بڑی نقل مکانی کی وجہ بنے گا۔

حقوق انسانی کے لئے کام کرنے والے ایک مسیحی کارکن کا کہنا ہے کہ اگر مسلم برادری نے ہی ہمار ےحقوق اور تحفظ کے لئے آواز بلند نہ کی تو ہمارا سہارا کون ہوگا؟

یہ تصور اپنےآپ میں کس قدر خوفناک ہے کہ پاکستان میں مذہبی تنوع اور ثقافتی رنگارنگی ختم ہوجائے گی۔

سرشار سیلانی نے کیا خوب کہا تھا

؎ چمن میں اختلاط رنگ و بو سے بات بنتی ہے

ہم ہی ہم ہیں تو کیا ہم ہیں تم ہی تم ہو تو کیا تم ہو

 

 

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *