Type to search

خبریں سیاست

ہم آخری سانس تک لڑیں گے، وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب

وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہنا تھا کہ کوئی حملہ ہوا تو پاکستان پر الزام لگے گا اور 2 ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آ جائیں گی، ایک چھوٹا ملک لڑتا ہے تو اس کے سامنے دو راستے ہیں، ہتھیار ڈالیں یا آخری سانس تک لڑیں، ہم آخری سانس تک لڑیں گے۔

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خطاب کے چوتھے نکتے میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں مظالم اور بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کیا۔  ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے سلامتی کونسل کی 11 قراردادوں کی نفی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی اور اضافی نفری بھیجی، بھارت نے 80 لاکھ کشمیریوں کو کرفیو لگاکر محصور کررکھا ہے۔

وزیر اعظم کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ پاکستان نے 1989ء میں سویت وار اور نائن الیون کے بعد امریکا کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شمولیت اختیار کی حالانکہ نائن الیون میں کوئی پاکستانی شامل نہیں تھا، ہمارے 70 ہزار فوجی اور شہری اس جنگ میں شہید ہوئے،  میں نے نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی شمولیت کی مخالفت کی تھی۔

اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے اسلامو فوبیاں پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ نائن الیون کے بعد سے اسلامو فوبیا میں خطر ناک حد تک اضافہ ہوا ہے،بعض ملکوں میں مسلم خواتین کا حجاب پہننا مشکل بنادیا گیا ہے ۔

انہوں نے کہاکہ بنیاد پرست اسلام یادہشت گرد اسلام کچھ نہیں ہوتا ،اسلام صرف ایک ہے جو حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا ہے،مغرب کو سمجھناہوگا کہ مسلم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کتنی محبت کرتے ہیں،مغرب میں کچھ جان بوجھ کر مسلمانوں کو تکلیف دینے کے نفرت انگیز بات کرتے ہیں۔

وزیراعظم نے مزید کہاکہکوئی مذہب بنیاد پرستی نہیں سکھاتا،افسوس کی بات ہے بعض سربراہان اسلامی دہشت گردی اور بنیاد پرستی کے الفاظ استعمال کرتے ہیں،افسوس کی بات ہے مسلم ملکوں کے سربراہوں نے اس بارے میں توجہ نہیں دی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سے متاثرہ 10 ممالک میں شامل ہیں، گرین ہائوس گیسز میں پاکستان حصہ انتہائی کم ہے ،اس حوالے سے بہت سے لیڈر سنجیدہ نہیں ، اس کے باوجود ہم نے خبیرپختونخوا میں ایک ارب درخت لگائے ۔

انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان میں 80 فیصد پانی گلیشیئرز سے آتا ہے ،گلیشیئرز پگھلتے رہے اور کچھ نہ کیا گیا تو بہت بڑی تباہی آئے گی ، صرف ایک ملک کچھ نہیں کرسکتا ،سب ملکوں کو ذمے داری ادا کرنا ہوگی ۔

وزیراعظم نے کہاکہ اقوام متحدہ کی جنرل سے خطاب میں موسمیات تبدیلی سے متعلق بہت سے ممالک کے سربراہان نے بات کی ،ان میں سے کچھ سنجیدہ نہیں دکھائی دے رہے ۔

 

 

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *