Type to search

تجزیہ سیاست

عثمان بزدار اصل میں کس کی پسند ہیں؟

وزیراعظم پاکستان کے وزیراعظم بننے کے بعد ان کے تقریباً سب ہی فیصلے حیران کن رہے۔ حیران کن اس لئے کہ جن اصولوں کا وہ 22 سال سے قوم کو سبق پڑھا رہے تھے ان کے سارے فیصلے ان سے یکسر متضاد نکلے۔ مثال کے طور پر میرٹ پہ قابل لوگوں کی تقرری، انہوں نے اس میدان میں تمام سابقہ حکومتوں کو پیچھے چھوڑ دیا اور ایک سے ایک نکمے شخص کو اقتدار سونپا۔

 اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ تحریک انصاف بہت پہلے سے اپنی اصلیت کھو بیٹھی ہے اور کافی عرصہ سے اس کی لگامیں بگ باس کے پاس ہیں۔ یا شاید وہ کبھی اصلی تھی ہی نہیں۔ خدا جانے!

چن چن کے خان صاحب نے ان پوسٹوں پہ جن کی لوگ عمومی طور پر عزت کرتے ہیں وہاں ایک سے ایک نالائق آدمی لگایا ہے۔ ان تقرریوں میں سب سے حیران کن تقرری وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی ہے جو کہ نہ صرف پہلی مرتبہ ایوان میں آئے ہیں بلکہ وزیراعلی بننے سے تین ماہ پہلے تک وہ تحریک انصاف میں تھے بھی نہیں۔

ان کی کس کس ادا پر تبصرہ کیا جائے کہ شاید اس ادا سے متاثر ہو کر خان صاحب نے ان کو وسیم اکرم سمجھ لیا ہو ۔ان کے چناْو کی ایک وجہ ان کی شرافت اور ایمانداری بتائی جاتی ہے، یعنی کہ خان صاحب کے بعد پاکستان میں دوسرے نمبر پر ایماندار انسان عثمان بزدار ہے۔ کیا آپ نے کبھی کسی بھی  نوکری کے اشتہار میں دیکھا ہے کہ وہاں یہ لکھا ہو کہ امیدوار کے لئے ایماندار اور شریف ہونا لازمی ہے۔ مجھے مکمل یقین ہے کہ آپ نے ایسا کہیں نہیں دیکھا ہو گا، اس کی وجہ بھی آپ جانتے ہوں گے کہ ایسا اس لئے نہیں کیا جاتا کہ کام کو لے کر ایمانداری اور شرافت تو ویسے بھی توقع کی جاتی ہے کہ اب  اتنی تہذیب تو ہونی چاہیئے لیکن خان صاحب کو لانے والوں نے خان صاحب کو جیتے جی ایک ولی بنا دیا ہے کہ جیسے ایماندار اور شریف ہونا کوئی بہت زیادہ انہونی بات ہے۔

کیا میں اور آپ شریف اور ایماندار نہیں؟ یا اگر ہیں تو کیا یہ کوئی بہت زیادہ عجیب بات ہے؟  اس واسطے یہ کہنا کچھ اتنا غلط نہ ہو گا کہ تحریک انصاف اپنے چاہنے والوں کو آخیر یہی منجن بیچتے ہیں کہ ہم بہت ایماندار ہیں۔ خیر اب ہم اتنے بھی سادہ نہیں۔

یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ آپ نے ایک شخص کی محض شرافت اور سادگی دیکھ کر اس کو 11 کروڑ کا صوبہ حوالے کر دیا۔

تو پھر سوال بنتا ہے کہ خان صاحب جیسا انسان جو اپنے اصولوں اور میرٹ کی افادیت پہ اتنا غرّاتا بھی رہا ہو نے ایسے آدمی کا چناو کیوں کیا جو کلاس میں آخری نمبر پہ آیا؟

اس بارے میں آپ کو ٹی وی اور مختلف کالم میں مختلف رائے دیکھنےاور سننے  کو ملی ہو گی۔ کچھ رفقا کا دعویٰ ہے کہ عثمان بزدار خان صاحب کی اہلیہ یعنی خاتون اول کی پسند ہیں اور اس پسند کی وجہ روحانیت بتائی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ “خان صاحب اپنی اہلیہ کے بہت گرویدہ ہیں روحانی طور پر  اسی وجہ سے خان صاحب بضد ہیں کہ عثمان بزدار کو کسی صورت نہیں ہٹایا جائے گا۔ اس سے زیادہ مضحکہ خیز تجزیہ اور کیا ہو گا کہ ایک ایسا آدمی جو پل میں تولا اور پل میں ماشہ والے فارمولے پہ چلتا ہو وہ اب اپنی بیوی کی اتنی مانتا ہو، ‘یہ تبصرہ ان سب تبصروں سے ملتا جلتا ہے جن میں باتوں باتوں میں خان صاحب کو کچھ نہ کچھ کر کے بچا لیا جاتا ہے۔ اور “ویسے بھی خان صاحب کے ماضی کو دیکھ کے یہ پتہ چلتا ہے کہ ہر شادی کے شروع میں وہ انتہائی رومانوی خاوند نظر آتے ہیں اور کچھ عرصہ بعد پتہ چلتا ہے کہ ان کی تو اپنی بیوی سے بنی ہی نہیں”۔

اس تناظر میں یہ بات بھی حقیقت سے کوسوں دور نظر آتی ہے کہ عثمان بزدار خاتون اوّل کی پسند ہیں۔اور اگر ہیں بھی تب بھی اصل میں چاہتا ان کو کوئی اور ہے۔

اگر عثمان بزدار کو بشری بی بی کی وجہ سے لگایا گیا تو پھر سندھ کا گورنر ایف-ایس-سی پاس کیوں لگایا گیا؟ کیا اس کا بھی کوئی روحانی زاویہ ہے؟ خیبر پختونخواہ کا گورنر اور وزیراعلی ایسے کیوں لگائے گئے ؟

لگتا ایسا ہے کہ خان صاحب نے اتنے اہم عہدوں پہ اپنے سے کئی درجے کم پر کشش اور اپنے سےبھی  کئی درجہ کم اہلیت رکھنے والے لوگوں کو گورنر اور وزیراعلی اس لئے لگایا کہ خان صاحب بنیادی طور پر انتہائی خود پسند شخصیت کے مالک ہیں۔ ویسے تو ہم سب ہی خودپسندی کے مارے ہوئے ہیں لیکن ہم ہی میں آپ کو ایک آدھ ایسا بھی نظر آئے گا جو کچھ زیادہ ہی خودپسند ہوتا ہے۔ خان صاحب ہرگز یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ان کے ہوتے ہوئے کسی اور کی تعریف ہو۔ ان کی اسی طبیعت کو دیکھتے ہوئے ان کی پارٹی کے لوگ زیادہ سے زیادہ مکھن لگانے کی کوشش کرتے ہیں یا خان صاحب کے اعزاز میں ایسے جملے ارسال کر دیتے ہیں کہ آپ کو ایک لمحے کے لئے گمان ہوتا ہے کہ کہیں امام غزالی کی بات تو نہیں ہو رہی۔

یاد ہے آپ کو وہ دن جب خان صاحب امریکہ کے دورے سے واپس آ رہے تھے تو ان کی کابینہ نے ان کا ایئرپورٹ پہ کیسا استقبال کیا تھا؟  ایسا استقبال آپ ایسے ہی شخص کا کرتے ہو جس کو آپ سنجیدگی سے نہیں لیتے بلکہ محض مکھن لگا رہے ہوتے ہیں۔

خود پسندی اپنی جگہ، ایک اور اہم وجہ عثمان بزدار کو لگانے کی یہ ہے کہ طاقت خان صاحب کے پاس رہے اور وہاں سے پھر بگ باس کے لئے بھی آسانی ہو گی۔آخر پنجاب آدھے سے زیادہ پاکستان ہے۔ عثمان بزدار ہے تو ایک آدمی کا نام لیکن حقیقت میں ہر وہ شخص عثمان بزدار ہے جس کو آسانی سے اپنے احکامات کے تابع کیا جا سکے۔ اس تناظر میں موجودہ وقت میں وزیراعظم سے لے کر وزیراعلی و گورنر سب کے سب عثمان بزدار ہیں،  حتیٰ کہ منسٹر ، سٹیٹ منسٹر، اہم عہدوں پہ فائض افسران بھی سب کے سب عثمان بزدار لگائے جا رہے ہیں۔

کیسے پوری ریاست جو بظاہر تو جمہوری ہے کو مکمل طور پر ایک ہری بھری کمیونسٹ نما ریاست میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔آپ کو میڈیا میں بھی عثمان بزدار نظر آیئں گے۔  جب بھی فردوس آپا یا وزیراعظم یہ کہتے ہیں کہ جو پرفارم نہیں کرے گا وہ گھر جائے گا۔ مطلب اس کا یہ نہیں ہوتا کہ جو کام نہیں کر رہا وہ گھر جائے گا۔ حقیقت میں وہ یہ پیغام دے رہے ہوتے ہیں کہ جو بگ باس کی خوشنودی نہیں کرے گا،  ان کے لئے راسخ عقیدہ نہیں ہو گا،  ان کے دیئے گئے اسباق یاد نہیں کرے گا وہ گھر جائے گا۔ اور پاکستان میں گھر جانے کا مطلب گھر جانا نہیں ہے،  اس کا مطلب ہے کہ اب تک جو آپ مزے کرتے رہے ہیں اس کا حساب دیں۔ یا حساب دیں یا پرفارم کریں۔یہ وہ گیم ہے جو اوور نہیں ہو سکتی،  کھیلنی تو پڑے گی۔

اب یہی پیغام وزیراعظم کو بھی تو دینا تھا۔آخر وہ بھی تو اسی کھیت کی مولی ہیں بلکہ وہ تو ہیں ہی اسی ‘کھیت کی مولی’ یہ مشکل آسان کرنے کے لئے ہیں نہ فردوس آپا جنہوں نے بخوبی یہ ذمہ داری نبھائی اور پورے ملک کو گواہ بنا کر براہ راست وزیراعظم کو ییلو کارڈ دکھا دیا۔

آپ نے ہالی ووڈ کی مشہور فلم سیریز”saw   “دیکھی ہو گی۔ اس فلم میں ایک آدمی لوگوں کو بے ہوش کر کے ایک جگہ پہ زنجیروں سے باندھ دیتا ہے۔ اور ان کو وہاں بند کر کے کسی جگہ سے کیمرہ میں اپنے قیدیوں کا تماشہ دیکھتا ہے۔ جب وہ قیدی ہوش میں آتے ہیں تو پہلے تو اپنی حالت دیکھ کے حیرانگی سے سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ آخر وہ یہاں پہنچے کیسے؟  اتنے میں ایک آواز آتی ہے جو کہتی ہے کہ میں ایک گیم کھیلنا چاہتا ہوں۔ آپ میں سے جو یہ گیم جیتے گا وہ زندہ بچ جائے گا۔ اس لحاظ سے کمرے میں اس بندے نے مختلف چیزیں رکھی ہوتی ہیں۔ خیر قصہ مختصر وہ آواز عجیب عجیب قسم کے احکامات جاری کرتی ہے۔ گیم یہ ہے کہ اپنی بقا کے لئے دوسرے کو زخمی کرنا پڑے گا۔ اس گیم میں یہ ممکن ہے ہی نہیں کہ آپ بچ کے نکل جائیں کیونکہ یہ گیم ڈیزایئن ہی ایسی کی گئی ہے۔ کیا آج آپ اسی گیم کے مناظر نہیں دیکھ رہے؟  یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں ٹاک شوز اتنے شوق سے دیکھے جاتے ہیں۔ لوگ اس گیم پہ کامینٹری کے مزے لیتے ہیں۔

عثمان بزدار کو فلحال نہ ہٹانے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی نویت کے ایک کامل پروٹو ٹائپ  perfect prototype ہیں۔ یہ ہیں وہ سیاستدان جو کہ پسند ہیں ان کو، ان کو ہٹا بھی دیا جائے تو اگلا آنے والا بھی عثمان بزدار ہی ہو گا۔ بس صرف اس کا نام شاید کچھ اور ہو لیکن ہو گا وہ عثمان بزدار ہی۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *