Type to search

تجزیہ سیاست فيچرڈ

کیا آپ کے پاس برنال ہے؟

  • 2
    Shares

آج کل مثبت رپورٹنگ کا دور ہے۔ اس لیے میں نے عرصے بعد مثبت سا موضوع چنا ہے۔ خود بتائیے کہ یو این جنرل اسمبلی کا اجلاس اور اس میں خان خاناں عمران خان صاحب کی شعلہ بیاں تقریر کا اگر ذکر ہو تو اس سے زیادہ کیا مثبت ہو گا۔عمران خان صاحب کی تقریر کے وقت یو این جنرل اسمبلی میں کھڑکی توڑ رش رہا۔ کئی افراد نے "نشتسیں” نہ "ملنے” پر شکایت بھی کی، حاضرین کو کافی ‘مسرت’ ہوئی جب ایک عینک پہنے شخص نے نشستیں "ارینج” کر لینے کی آفر دی مگر ذرائع کے مطابق انہیں لفظ اسمبلی پر زور دے کر بتایا گیا کہ یہ یو این اسمبلی ہے۔ بہر حال نشستیں نہ ملنے کی وجہ سے کئی افراد تو نیچے فرش پر تھلی مار کر بیٹھ گئے۔ بھارتی وزیر اعظم خطاب کرنے آیا تو اسمبلی میں قہقہے اور گو مودی گو کے نعرے لگے جب کہ ایک ملک کے سفیر نے تو سیاہی پھینکنے کی کوشش بھی کی۔

ذرائع کے مطابق ایک مسلم ملک کے سفیر نے جوتا اتار کر مارنے کی بھی کوشش کی تاہم وہ شاید تنگ ہونے کی وجہ سے اتر نہ سکا اور سفیر نے ارادہ ترک کر دیا۔ بہر حال ہمارے پیرو وزیر اعظم نے زبردست تقریر کرتے ہوئے پوری دنیا کو بتایا کہ آج تک جو کچھ دنیا کو پتہ تھا وہ غلط تھا۔ اور جو پتہ تھا کہ غلط ہے وہ بھی غلط تھا۔ ‘اور پھر جو وہ بتا رہے تھے اس پر شک ہوا کہ وہ بھی غلط ہے تو  خود ہئ گویا ہوئے کہ اسے گوگل کر لیا جائے کہ غلط تو نہیں۔   کمال انداز میں اقوام عالم کا مردہ ضمیر جگایا۔

انہوں نے مکمل طور پر بجا فرماتے ہوئے فرمایا کہ’شدت پسند اسلام کوئی اسلام نہیں ہے، انہوں نے ادھر ذکر کیا ہمارے ہاں تمام اقلیتوں کو برابر کے حقوق ہیں ہمارا آئین اجازت دیتا ہے کہ کوئی بھی اس ملک کی باگ دوڑ سنبھال سکے۔ مثلاً انہوں نے حال ہی میں ایک  مخصوص فرقے سے تعلق رکھنے والے ماہر معیشت کا ذکر کیا جس کو انہوں نے صرف اس لئے ہٹایا  کہ اسکا کریکٹر ڈھیلا تھا’ پھر انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ سندھ میں حال ہی میں  غیر مذہبوں کو خصوصی حقوق دینے کیسے مسلمان ٹولی در ٹولی پہنچے، پھر وزیر اعظم نے ماحولیات پر بھی بڑا فکر انگیز لیکچر دیا اور کہا کہ ہم سب کو مل کر ماحول کو بہتر بنانا چاہیئے۔

انہوں نے بتایا کہ کیسے فرنس آئل لابی نے سولر پاور پلانٹس کو رکوا رکھا تھا جو انہوں نے آتے ہی بحال کر دیئے اور کس طرح انکی حکومت موجودہ آٹو انڈسٹری کو بند کر رہی ہے کہ وہ اب بیٹری والی گاڑیوں کے ساتھ کاروبار میں دوبارہ واپس آئیں’۔ لیکن کرپشن پر تقریر پہنچی تو سامعین اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور جب وزیر اعظم  کے دہن مبارک سے نکلا  ہی تھا کہ 200 ارب ڈالر، تو سامعین فرط جذبات میں نشستوں پر چڑھ گئے۔ یو این سیکیورٹی نے بہت مشکل سے حالات پر قابو پایا جب کہ غربت کی وجہ صرف کرپشن کو قرار دینے پر کولمبیا یونیورسٹی نے اکانومی کے اس پہلو کا حل نکال دینے پرائڈ آف پرفارمنس دینے کا بھی "دستی” اعلان کر دیا۔ ابھی یہ خوشی ختم نہ ہوئی تھی کشمیر کا ذکر آ گیا۔ خان صاحب نے زبردست انداز میں ذکر کیا کہ کیسے کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی پچھلے 55 دنوں سے  کی جا رہی ہے، اتنے میں  مجمعے میں سے رونے کی آوازیں آنے لگیں، ایک شخص چہرہ چھپائے رو رہا تھا، مجھ سمیت کئی "رپوٹرز” اس سے پوچھنے بھاگے کہ کہیں لیڈر اعظم کی شعلہ بیانی کے اثر سے نروس بریک ڈاون ہی نہ ہو جائے۔ پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ ملک یمن کا سفیر ہے اور اسکے ملک میں سعودی سربراہی میں بہترین جنرل کی کمان تلے اسلامی ممالک کی فوج کئی سو دنوں سے انسانی حقوق کی پامالی کر رہی ہے، عورتوں سے زیادتی ماورائے عدالت قتل کارپٹ بمبنگ وغیرہ وغیرہ مگر پاکستان نے اسکے ملک کے ساتھ زیادتی کرتے ہوئے یمن کے مسلمانوں کے حق میں آئی قرارداد کی مخالفت میں ووٹ ڈالا جس پر وہ پاکستان کی قیادت کا اتنا شکر گزار ہے کہ اسکی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اتنے میں ایک شامی سفیر کی روہانسی آواز آئی اور بتاتی چلی گئی کہ شام کے مسلمانوں کے حقوق کی پامالی کے خلاف جب قرارداد آئی تو پاکستان نے اس کے حق میں ووٹ ڈالنے سے اجتناب کیا جس پر وہ اسکے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ اتنے میں ایک اور بولا یہ سب اصولی نہیں سیاسی ہے اور وہ بھی اپنی عوام کی سیاسی غذا کے لئے، خدشہ ظاہر ہوا کہیں کشمیریوں کے ساتھ ہاتھ’۔ میں نے کان بند کئے اور باہر کو دوڑ لگا دی ہال سے باہر نکل کر  میں نے فوری طور پر اس خبر کے آخری دو جملوں  پر مثبت رپورٹنگ  فلٹر لگایا اور رپورٹ لکھی۔  جس کا عنوان تھا

"کیا آپ کے پاس برنال ہے ؟”

ڈسکلیمر نوٹ : یو این اسمبلی اجلاس کے احوال پر مبنی یہ رپورٹ اس رپورٹر کے ذاتی مثبت تخیل کا نتیجہ ہے جس سے حقیقت سمیت کسی کا کوئی تعلق نہیں۔ اگر کسی کو کوئی تعلق محسوس ہو تو اسے اس رپورٹ کا عنوان پھر سے پڑھنا چاہیئے۔

 

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *