Type to search

خبریں سیاست فيچرڈ

علی وزیر کی تقریر کے دوران وزیر داخلہ اجلاس چھوڑ کر چلے گئے

  • 3.9K
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    3.9K
    Shares

علی وزیر کا اپنے خطاب کے دوران کہنا تھا کہ میں اپنے خطاب میں جھوٹ نہیں بولوں گا، ان کا کہنا تھا کہ اگرجھوٹ بولاتو اسمبلی کےفلور پر استعفی دونگا۔

علی وزیر کا کہنا تھا کہ  اس آپریشن میں50دہشتگردوں کا نام دیں کہ آپریشن میں ہلاک ہوئے ہو تو بھی میں استعفی دونگا، سارے آپریشن عوام کیخلاف ہوئے اور اس میں عوام کا نقصان ہوا۔ ریاست نے تسلیم کیا کہ اپنی پالیسیوں کی وجہ سے ماضی میں نقصان ہوا۔ ان کے خطاب کے دوران وزیر داخلہ اجلاس چھوڑ کے چلے گئے۔

اس سے قبل محسن داوڑ کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ سوچیں جب ریاست قتل بھی کرے اور مقدمہ بھی اسی پر درج کرے تو یہ ایکشن لوگوں کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ یہ ریاست ہماری نہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ تاثر نہیں ہونا چاہئے کہ ریاست اپنے ہی شہریوں کو حقوق دینے کو تیار نہیں۔ میں اپوزیشن کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کا شکرگزار ہوں جنہوں نے ہمارے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔

محسن داوڑ نے خڑ کمر چیک پوسٹ واقعہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہب ”ہم نے جیسے ہی دوسرا بیریئر پار کیا تو پیچھے سے فائرنگ شروع ہو گئی۔ جب لوگوں کو خون میں لت پت دیکھا تو پتہ چلا سیدھی گولی چلائی جا رہی ہے۔ ہمارے 15 ساتھی اس وقت جاں بحق ہوئے۔“

انہوں نے کہا کہ ہم نے 4 دن تک وہیں پر احتجاج کیا۔ ہم پر الزام لگا کہ ہم نے حملہ کیا ہے۔ جو ہمارے لوگ مارے گئے ان کی ایف آئی آر کس کے خلاف کاٹی گئی ہے۔

”محسن داوڑ اور علی وزیر پر ایک بھی گولی ثابت ہو جائے تو ہمیں ڈی چوک میں پھانسی دے دی جائے۔“

قومی اسمبلی اجلاس میں محسن داوڑ نے اپنی تقریر کا آغاز پشتو کے شعر سے کیا جس کا ترجمہ ہے کہ ہمارے ہاتھ مت باندھو ایک وقت آئے گا جب ایک ایک بات کا حساب ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو نے جو میرے بارے میں کہا ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ شاہد خاقان عباسی کا شکریہ جنہوں نے کہا کہ جب تک محسن داوڑ اور علی وزیر نہیں آتے میں بھی ایوان میں نہیں آؤں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک وزیر نے ہمارے بارے میں کہا کہ ان کی ریاست سے وفاداری مشکوک ہے۔ ہمیں کسی سے وفادرای کے سرٹیفیکٹ کی ضرورت نہیں۔ جناب اسپیکر پروڈکشن آرڈر جای نہ ہونے کے باعث میں ایوان میں چار ماہ بعد آیا ہوں اب بات مکمل کرنے دیں۔

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *