Type to search

ادب بلاگ تجزیہ فيچرڈ

ایک بار پھر

  • 2
    Shares

وہ جاتی گرمی کی بادلوں سے ڈھکی ایک سرمئی شام تھی جب یونہی شہر سے باہر کہیں نکل گئے۔ پہاڑ کے دامن میں ایک سنسان سا سبزہ زار دور تک پھیلا تھا جس کے ایک کنارے پر دریا بہہ رہا تھا۔ ویرانے میں چہل قدمی کا شوقین کوئی اکا دکا شخص بل کھاتی پگڈنڈی پر نظر آجاتا۔

وہیں کہیں لکھا نظر آیا کہ یہ کوئی تاریخی مقام تھا۔ بجھی ہوئی راکھ میں ایام گذشتہ کے اتفاقاً بچ رہنے والے کچھ نقوش ڈھونڈنے کی شوقین درختوں میں گھس گئی۔ وہان تو واقعی گزری صدی کے کسی مکان کے آثار تھے۔ کسی تختی پر یہ بھی لکھا تھا کہ کبھی یہاں مریضوں کے لیے ایک سینی ٹوریم قائم تھا۔ کچھ دور درختوں کے گھیرے میں لمبی گھاس سے ڈھکا ایک قطعہ تھا۔ وہاں پتھروں سے بنے ایک آتش دان کے آثار تھے اور ایک ٹوٹی ہوئی دیوار باقی تھی۔

اب آپ وہاں بیٹھ جائیے اور اس ویرانے میں کسی مکان کی دیواریں بلند ہوتی محسوس کیجے۔ پتوں پر سرسراتی ہوا کے دوش پر ایک منظر ابھرتا ہے۔ آتش دان میں آگ جل رہی ہے۔ لکڑیاں چٹختی ہیں تو پاس ہی آرام کرسی پر کتاب پڑھتا ڈاکٹر چونک کر دیکھتا ہے۔ سرخ گیند کے لیےکمروں میں بھاگتے بچے آنکھوں سے اوجھل ہوچکے ہیں۔ ان کی گورنس نے یقیناً سلا دیا ہوگا۔

چھوٹی بیٹی کی گڑیا وہیں صوفے کی اوٹ میں پڑی رہ گئی ہے۔ ‘کشن کے گرد چھوڑی سی ریل گاڑی قرینے سے سجی ہے۔ آوازیں ، کھلکھکاہٹیں اور تنبیہ بھرے ہنکارے سب سو گئے ہیں اور ماحول پر ایک ابدی سکوں چھا گیا ہے مگر سامنے خوابگاہ میں ایک بیمار وجود زندگی کی آخری سانسیں گننے کی کوشش میں بستر پرکروٹیں بدل رہا ہے’ لوگوں کو زندگی کی نوید دینے والا اپنی شریک زندگی کو ہر روز بڑی بے بسی سے دھیرے دھیرے موت کے غار میں اترتے دیکھتا ہے۔ گرم اور پرسکون گھر کے ایک کونے میں موت کنڈلی مارے بیٹھی ہے اور اردگرد پھیلا سکون خوف کے سناٹے میں سمٹ جاتا ہے۔

آنے والے وقت کی کشتیاں گزرتے زمانوں کے جزیروں کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہلا کر جب انجان منزلوں کی طرف لے جاتی ہیں، تو اس سفرمیں چاہنے والوں کے ہاتھ ایک دوسرے سے چھوٹ ہی جاتے ہیں۔ اس سارے منظر کا خوف ایک دھند کی طرح دل کی زمینوں پر چھا گیا ہے مگر پھر”آگے چلو نا! اب کیا یہیں رکے رہنا ہے’؟ کی صدا ہوا کے دوش پر تیرتے منظر کو پل بھر میں بکھیر دیتی ہے۔

دور تک پھیلے منظر میں دل کے اندر کوئی آواز سرسراتی ہے۔ "سنا ہے عالم بالا میں کوئی کیمیا گر تھا”۔ ستاروں سے آگے ‘قرۃ العین حیدر کا پہلا مجموعہ تھا جو ان دنوں پڑھا جب دل ستار پر تنے تاروں کی مانند ہر آن کسی نہ کسی بہانے ایک نیا سر ایک نیا نغمہ تخلیق کرتا ہے’ پڑھا اور اس سے محبت ہو گئی۔ قرات کی تحریریں وکٹورین عہد کے شاندار قلعوں کی مانند ہی، ‘ پراسرار، رومان پرور، مگر گہری اداسی کی دھند میں لپٹے صناعی کے شاہکار۔ جن کے ہر کنگرے اور ہر ہردیوار اور ہر دروازے اور ہر گوشے سے تخلیق کار کی خیال آفرینی، مشاقی اور ساحری جھلکتی ہے۔

قرۃ العین بھی کیا اوروں کی طرح عشق و محبت کی حکایات کہتی ہے؟ میرے خیال میں تو قرۃ العین  کا رومان نوجوان دلوں کےان کہے جذبوں اور درد بھرے نغموں میں پنہاں نہیں ہے بلکہ اس کے سجائے  ناسٹیلجیا کے aura میں ہے۔

وہ ایک بے حد خوبصورت اور پرسکون منظر صرف اس لیے سجاتی ہے کہ پھر اسے بڑے فطری انداز میں بڑے بھول پن اور روانی کے ساتھ ایک اجڑے ہوۓ دیار میں تبدیل ہوتا دکھا سکے۔

جی ہاں! وہ گزرے زمانوں کا نوحہ ایسی بے ساختگی، سادگی اوربے رحمی سے لکھتی ہے کہ کرب ساری رگوں میں رچ بس جاتا ہے، ‘ یہ کرب ایسا ہوتا ہے کہ بدلے ہوئے کسی منظر کی خوشرنگی بھی اس کی چبھن کو کم نہیں کرسکتی۔

وہ بہت عجیب ہے۔ اس سے کوئی سٹیریو ٹائپ محفوظ نہیں۔

بڑی بے نیازی سے وہ نظریوں اور نظاموں کے لبادوں میں چھپے انسانوں کا چہرہ دکھاتی ہے، میں پوچھتی ہوں وہ کون ہے؟

ٹِم ٹِم اور گراموفون کے زمانےمیں رہنے والی وہ عورت جس کی کہانیوں میں ان موضوعات کا تذکرہ و تجزیہ اتنی گہرائی سے ملتا ہے جن پر اکیسویں صدی میں بات کرنے والے سمجھتے ہیں کہ وہ بڑے نئے موضوعات پر بات کر رہے ہیں۔

"وہ گنگا جمنا کی وادیوں میں مدفن داستانوں کو زندہ کرتی ہے، تکشلا کے بودھ طالبعلموں کے ساتھ چلتی پھرتی ہے، وہ امریکہ اور برطانیہ سے انڈیا پہنچے ہوۓ سفید فاموں کی ترجمانی کرتی ہے۔ وہ کینیڈا میں افریقہ سے آکر سکونت پزیر قدیم ہندوستانیوں سےملاقات کرواتی ہے۔

وہ وقت کے دھاروں کے ایسے سنگم پر کھڑی تھی جہاں ایک لٹی پٹی تہذیب اپنا منتشر مال و متاع سنبھالنے کی کوشش میں ہانپ رہی تھی اور ایک فاتح تہذیب اپنی مفتوحہ زمیں پر  کچھ روز عیاشی کر کے اپنے گھر کو واپس لوٹنے کی تیاریوں میں مصروف تھی۔

اس لٹے پٹے ماحول میں پڑھے لکھے نوجوان ذہن کو ایک نیا نظریہ نجات دہندہ معلوم ہورہا تھا۔ وہ اعلی تعلیم یافتہ روشن خیال اور ذہین عورت ہے جس کی سوچ اپنے وقت سے کہیں آگے تھی جس کا بچپن اور جوانی ہندوستان کے متمول گھرانے میں بیتے۔ وہ کمیونسٹوں کے گلیمر کی جھلکیوں میں ان کے عروج کا نظارہ کرواتی ہے مگر وہ ہے کیا؟ اس کا اپنا نظریہ کیا ہے؟ میرے خیال میں تووہ دراصل ناسٹیلجیک ہے۔

اور گزرے زمانے کے رومان میں گرفتار انقلابات زمانہ کے آئینے میں وہ انسان کے عجیب و غریب چہرے دکھاتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ کسی ازم کا پرچار نہیں کرتی بلکہ بلند کرداری، خاندانی شرافت اور اعلی خاندانی اقدار کی پرستار ہے۔

اس کے یہاں ترقی پسندوں کی طرح سٹیریو ٹائپ نہیں ملیں گے اور نہ وہ ان کی طرح انسان کو اپنی جبلتوں کا قیدی دکھاتی ہے۔ قرات کے ساتھ ہر مرتبہ درد کے رومان کےکیف کو محسوس کیا ہے یہ وہی چبھتے ہوئے سرور کی کیفیت ہے جسے ویلش زبان کے لفظ hiraeth پرایک خوبصورت اقتباس پڑھتے ہوئے کسی نے کہا تھاکہ اس لفظ کا ترجمہ ممکن نہیں ہے۔

It’s a deep homesickness, a longing for the lost places of the past, an inexpressible sadness, a regret.

یہ جو آپ سابقہ ڈرائیو ان سینما کے مقام پر گاڑیوں اور انسانوں کا اژدھام دیکھ کر دل میں عجیب سے درد کی لہریں اٹھتی محسوس کرتے ہیں، اسلام آباد میں جدید عمارتوں کے بجائے  سیدپورولیج جانے کی فرمائش کرتے ہیں، اور اس کی نیم خوابیدہ سی۔ نمائشی ہی سہی ویران قدیم حویلی کے آگے پیچھے جانے کیا ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں، یہ اسی  Hiraethکا شاخسانہ ہے اور قرۃ العین اسی کی کہانی بیان کرتی ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *