نیب کے موجودہ چیئرمین ایک سابق جج ہیں۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے وہ جنسی سکینڈل کا داغ اپنے سینے پر تمغے کی طرح سجائے اپوزیشن کا احتساب کرنے پر بضد ہیں۔ ہمارے پیارے پاکستان میں میلے ہاتھوں احتساب کی روایت تو پرانی رہی ہے، مگر اب داغدار دامن کے ساتھ احتساب کرنے کی روایت چل پڑی ہے۔
کچھ دن پہلے لاہور میں ایک پروفیسر پر جسمانی ہراسگی کا الزام لگا تھا، وہ پروفیسر اس الزام کا بوجھ نہیں اٹھا سکے، صرف نوکری ہی نہیں بلکہ زندگی کو ہی خدا حافظ کہہ دیا۔ مگر، جاوید اقبال نامی ایک جج ویڈیو کلپ کے منظر عام پر آنے کے باوجود اپنے منصب پر چمٹے ہوئے ہیں۔ اسلام کے صحافتی اور سیاسی تجزیہ نگار جو گذشتہ دو دن سے سنگین غداری کے مقدمے میں سابق فوجی آمر پرویز مشرف کو عدالتی سزا اور آئی ایس پی آر کے رد عمل سے پریشان تھے۔ نیب کی طرف سے بلاول بھٹو کو بھیجے جانے والے نوٹس کو شاہ دولے کے چوہے، جیسی واردات قرار دے رہے ہیں۔
نیب کی طرف سے بلاول بھٹو زرداری کو نوٹس بھیجنے کی کہانی کچھ اور ہے، معاملہ یہ ہے کہ ملکی معیشت آئی ایم ایف کے حوالے کرنے کے بعد ملک کی خارجہ پالیسی بھی غیروں کے ہاتھ دے دی گئی ہے، ابھی یہ بات راز میں رکھی جا رہی ہے کہ عمران خان نے ملائیشیا کا دورہ کس کے کہنے پر منسوخ کیا؟ انہیں معلوم ہے کہ بلاول بھٹو اپنے نانا اور والدہ کی طرح وطن پرست ہے اور ہے بھی جوان خون، انہیں یہ منظور نہیں کہ ان کے ملک کی خارجہ پالیسی غیروں کے ہاتھ میں ہو۔ بلاول بھٹو زرداری ہی اس حکومت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، جو اقتدار کی خاطر کچھ بھی کرنے کے لئے تیار ہے۔
ایک صاحب کہنے لگے کہ بلاول بھٹو زرداری چاہتے تو 27 دسمبر کے بعد انسانوں کا سمندر پنڈی کا حلیہ تبدیل کر دیتا۔ ارے اللہ کے بندے اب نہ زمیں تمہاری رہی ہے نہ آسمان ایسے میں بلاول بھٹو زرداری کو نیب کی طرف سے نوٹس انہیں زبان بند رکھنے کی دھمکی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ مگر، مجھے یقین ہے اس طرح کے حربوں سے بھٹو کا جانشین خاموش نہیں ہوں گے۔