روشنی کا شاعر، شعلوں کی نذر ہو گیا

ان کی زندگی عام لوگوں جیسی نہیں تھی، وہ ان راستوں پر چلنے کے عادی نہ تھے جو آسان ہوں، وہ ان راہوں کے مسافر تھے جن پر کانٹے بچھے ہوں، جہاں ہر قدم پر آزمائش ہو، ہر موڑ پر سوال کھڑے ہوں، وہ ان شاعروں میں سے نہیں تھے جو نرم بستروں پر بیٹھ کر خواب بنتے ہیں، بلکہ وہ دھرتی کے بیٹے تھے جو کھردری زمین پر بیٹھ کر اپنی مٹی کی خوشبو کو محسوس کرتے اور اسے اپنے اشعار میں باندھتے، ان کی شاعری میں خوابوں کی چمک بھی تھی اور حقیقت کی تلخی بھی، وہ محبت کے شاعر تھے، مگر ایسی محبت کے جو کمزور نہ کرے بلکہ طاقت دے

02:01 PM, 21 Feb, 2025

حسن عمر

آکاش انصاری محض ایک شاعر نہیں تھے، وہ ایک خواب تھے جو دھرتی کے ہر زرے میں بسا ہوا تھا، ایک صدا تھے جو ہر دبے ہوئے دل میں ارتعاش پیدا کر سکتی تھی، اور ایک چراغ تھے جو خود جل کر دوسروں کو روشنی دیتا تا، ان کی شاعری ان کا عکس تھی۔ کبھی نرم، کبھی سخت، کبھی دھیمے لہجے میں محبت کی باتیں کرتی، اور کبھی آندھی بن کر فرسودہ نظام کو جڑوں سے ہلا دیتی۔ وہ سندھ کی ثقافت، محبت، اور مزاحمت کے نمائندہ شاعر تھے، جن کے لفظوں میں دھرتی کی مٹی کی خوشبو تھی اور آسمان کی وسعتوں کا خواب تھا۔

ان کی زندگی عام لوگوں جیسی نہیں تھی۔ وہ ان راستوں پر چلنے کے عادی نہ تھے جو آسان ہوں، وہ ان راہوں کے مسافر تھے جن پر کانٹے بچھے ہوں، جہاں ہر قدم پر آزمائش ہو، ہر موڑ پر سوال کھڑے ہوں۔ وہ ان شاعروں میں سے نہیں تھے جو نرم بستروں پر بیٹھ کر خواب بنتے ہیں، بلکہ وہ دھرتی کے بیٹے تھے جو کھردری زمین پر بیٹھ کر اپنی مٹی کی خوشبو کو محسوس کرتے اور اسے اپنے اشعار میں باندھتے۔ ان کی شاعری میں خوابوں کی چمک بھی تھی اور حقیقت کی تلخی بھی۔ وہ محبت کے شاعر تھے، مگر ایسی محبت کے جو کمزور نہ کرے بلکہ طاقت دے۔ وہ مزاحمت کے شاعر تھے، مگر ایسی مزاحمت کے جو نفرت سے نہیں، محبت سے جنم لے۔

کہتے ہیں کچھ لوگ گوشت پوست سے نہیں بنتے، بلکہ حروف سے تخلیق کیے جاتے ہیں۔ آکاش انصاری بھی ایسا ہی ایک نام تھا، جس کے لفظ زندگی سے بڑے تھے۔ ان کے اشعار میں ایک جادو تھا، جو دلوں کو جکڑ لیتا، جو سوچ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا، جو خون میں ایک حرارت پیدا کر دیتا۔ وہ عام شاعروں کی طرح صرف الفاظ کی سجاوٹ پر یقین نہیں رکھتے تھے، وہ ان میں جان ڈال دیتے تھے، انہیں ایک ایسا رنگ دیتے جو قاری کے دل پر نقش ہو جائے۔ وہ شاعری کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں سمجھتے تھے، بلکہ وہ اسے ایک ہتھیار سمجھتے تھے، ایک ایسا ہتھیار جو ناانصافی کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، جو مظلوم کی زبان بن سکتا ہے، جو خواب دیکھنے والوں کو روشنی دے سکتا ہے۔

 زندگی ہمیشہ ایسے لوگوں کے ساتھ انصاف نہیں کرتی جو اس کے حسن میں اضافہ کرتے ہیں۔ آکاش انصاری کا انجام بھی اسی تلخ حقیقت کی یاد دہانی تھا۔ 15 فروری 2025ء کی رات ایک المناک خبر نے سب کو ہلا کر رکھ دیا آکاش انصاری کے گھر میں آگ بھڑک اٹھی، اور وہ شعلوں میں گھرے رہ گئے۔ وہ جو ساری زندگی روشنی کے خواب دیکھتے رہے، بالآخر خود آگ کے شعلوں میں گم ہو گئے۔ ان کی موت ایک سانحہ تھی، نہ صرف سندھ کے لیے، بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے جو ان کے لفظوں سے جیتے تھے، جو ان کے اشعار میں اپنے دکھوں کا مداوا ڈھونڈتے تھے، اور جو ان کے خیالوں میں آزادی کی رمق محسوس کرتے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ شاعر مرتے نہیں، وہ اپنے الفاظ میں زندہ رہتے ہیں۔ آکاش انصاری کی شاعری آج بھی سندھ کی فضا میں گونجتی ہے، اس کے بازاروں میں، اس کے کھیتوں میں، اس کے لوگوں کی امیدوں میں۔ ان کے اشعار آج بھی کسی کسان کے ہونٹوں پر آتے ہیں جب وہ زمین پر ہل چلاتا ہے، آج بھی کسی طالب علم کے دل میں اترتے ہیں جب وہ تبدیلی کے خواب دیکھتا ہے، آج بھی کسی شاعر کے قلم سے نکلتے ہیں جب وہ ظلم کے خلاف لکھنے بیٹھتا ہے۔

وہ محبت کے شاعر تھے، مگر ان کی محبت محض ایک فرد تک محدود نہیں تھی، وہ پورے سماج سے محبت کرتے تھے، اپنی دھرتی سے، اپنے لوگوں سے، اپنے خوابوں سے۔ ان کے نزدیک محبت ایک ایسی طاقت تھی جو ہر دیوار گرا سکتی تھی، ہر زنجیر توڑ سکتی تھی۔ وہ مزاحمت کے شاعر تھے، مگر ان کی مزاحمت تشدد پر نہیں بلکہ شعور پر مبنی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ اصل آزادی تب حاصل ہوتی ہے جب انسان اپنے اندر کے خوف کو مار دے، جب وہ اپنی سوچ کو زنجیروں سے آزاد کر دے۔

ان کے اشعار میں ایک عجب سچائی تھی، جو کڑوی بھی لگتی تھی، مگر جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا تھا۔ وہ دھرتی کے عاشق تھے، وہ انسانیت کے پرستار تھے، وہ روشنی کے مسافر تھے۔ ان کی شاعری میں سندھ کی دھرتی کی مہک تھی، اس کے دریاؤں کی روانی تھی، اس کے لوگوں کے خواب تھے، اس کے نوجوانوں کی امید تھی۔ وہ عام شاعروں کی طرح کسی مخصوص طبقے کے لیے نہیں لکھتے تھے، ان کے اشعار سب کے لیے تھے، مزدور کے لیے، کسان کے لیے، طالب علم کے لیے، عورت کے لیے، مرد کے لیے، ہر اس شخص کے لیے جو خواب دیکھتا تھا، جو بغاوت کرنا چاہتا تھا، جو اپنے لیے ایک بہتر دنیا چاہتا تھا۔

 یہ کتنا عجیب المیہ ہے کہ جو شخص ہمیشہ روشنی کے خواب دیکھتا تھا، آخرکار خود تاریکی کے شعلوں میں گم ہو گیا۔ مگر شاید ایسے ہی لوگ امر ہوتے ہیں، ایسے ہی لوگ مر کر بھی زندہ رہتے ہیں۔ آج بھی جب کوئی نوجوان اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتا ہے، جب کوئی خواب دیکھنے کی ہمت کرتا ہے، جب کوئی اندھیروں میں روشنی کی تلاش کرتا ہے، تو کہیں نہ کہیں آکاش انصاری کے لفظ اس کی رہنمائی کر رہے ہوتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ بڑے لوگ مرتے نہیں، وہ ایک خیال کی صورت زندہ رہتے ہیں۔ آکاش انصاری بھی ایک خیال تھے، ایک خواب تھے، ایک روشنی تھے۔ اور روشنی کبھی مرتی نہیں، وہ ہمیشہ زندہ رہتی ہے، وہ ہمیشہ راستہ دکھاتی ہے۔ آج بھی ان کی شاعری کے الفاظ ہوا میں گونجتے ہیں، آج بھی ان کا عکس ان کے اشعار میں جھلکتا ہے، اور آج بھی وہ ہر اس دل میں زندہ ہیں جو روشنی کی تلاش میں ہے، جو محبت کی زبان سمجھتا ہے، اور جو انقلاب کی دھڑکن کو محسوس کر سکتا ہے۔

جب تک کوئی خواب دیکھنے والا موجود ہے، جب تک کوئی حق کی بات کرنے والا زندہ ہے، جب تک لفظوں میں روشنی کی جوت جلتی ہے، آکاش انصاری امر رہیں گے۔

مزیدخبریں