بنت داہر: ایک ایسا ناول جس نے فاتح اور مفتوح کا تصور الٹ دیا

بن قاسم کے بارے میں ہم بچپن سے ایک ہی تصویر سنتے آئے ہیں۔ ایک بہادر نوجوان سپہ سالار، جس نے سندھ فتح کیا۔ لیکن "بنت داہر" میں وہ تصویر بدل جاتی ہے۔ یہاں وہ ایک کم عمر نوجوان ہے جسے اقتدار اور جنگ کے میدان میں دھکیل دیا گیا۔ اس کے اندر خواہشیں بھی ہیں، کمزوریاں بھی، خوف بھی اور سوال بھی۔ اس کے مقابلے میں سوریا ایک مکمل کردار بن کر سامنے آتی ہے۔

11:00 PM, 21 Jul, 2026

محمد شہزاد

صفدر زیدی کے "بنت داہر" کی پہلی خوبی اس کی رفتار ہے۔ یہ پرپل پروز، فضول منظر نگاری اور حرکات و سکنات سے پاک ہے۔ ہر جملے کے ساتھ کہانی آگے بڑھتی رہتی ہے۔

دیباچے میں ایک بات چشم کشا ہے: چاہے کالونیل ازم ہو، سرمایہ داری ہو یا کوئی اور طاقت کا نظام، حمایت آخرکار فاتح کی ہی کی جاتی ہے۔ مقامی سطح پر چاہے کتنے ہی اصولی بھاشن دیے جائیں، بڑے طاقتور کی ناراضی مول نہیں لی جاتی۔ اسی حوالے سے ادیب نے علی سردار جعفری اور فیض احمد فیض کا ذکر کیا کہ انہوں نے ہنگری اور چیکوسلواکیہ پر روسی حملے کی مذمت نہیں کی۔ اسی طرح اقبال کا ذکر بھی آتا ہے کہ انہوں نے عربوں کے سامراج کی حمایت کی۔

ناول کی زبان عام فہم ہے۔ کہیں ڈکشنری دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ آج کل بعض لوگ مشکل زبان کو بڑا ادب سمجھ لیتے ہیں، لیکن "بنت داہر" ثابت کرتا ہے کہ سادہ زبان میں بھی ایک مضبوط اور دلچسپ ناول لکھا جا سکتا ہے۔

ناول ایک بنیادی سوال اٹھاتا ہے کہ بن قاسم آخر فاتح سندھ کیسے بنا؟ مصنف کا بیان یہ ہے کہ حجاج بن یوسف نے اپنے جرنیلوں کو حکم دیا تھا کہ قاسم مستقبل کا خلیفہ ہے، اس لئے اس کی حفاظت کی جائے۔ اصل لڑائیاں دوسرے لوگ لڑتے ہیں اور قاسم اس وقت سامنے آتا ہے جب فتح کا راستہ ہموار ہو چکا ہوتا ہے۔

راجہ داہر کو مصنف نے محض ایک شکست خوردہ دشمن کے طور پر نہیں دکھایا بلکہ ایک ایسے حکمران کے طور پر پیش کیا ہے جو مختلف مذاہب کے لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر چلتا ہے۔ میرے خیال میں راجہ داہر کی موت کا منظر البتہ زیادہ توجہ کا مستحق تھا۔ اسے بہت جلدی ایک ہی تیر میں ختم کر دیا گیا۔ یہاں مصنف چاہتا تو ایک بہت طاقتور منظر تخلیق کر سکتا تھا۔

جب محل کی عورتوں کے سامنے غلامی اور خلیفہ کے حرم کا حصہ بننے کا راستہ رکھا جاتا ہے تو وہ اسے قبول نہیں کرتیں۔ رانی اور محل کی تمام عورتیں آگ کے الاؤ میں کود کر اپنی جان دے دیتی ہیں۔ یوں وہ اپنے طریقے سے خلیفہ کی فتح کو شکست میں بدل دیتی ہیں۔

راجہ داہر کی بیٹی راجکماری سوریا، یعنی بنت داہر اس ناول کی جان ہے۔ وہ صرف ایک خوبصورت راجکماری نہیں بلکہ ایک ذہین، بے خوف اور اپنی سوچ رکھنے والی عورت کے طور پر سامنے آتی ہے۔ وہ بن قاسم کے سامنے صرف حسن کے ساتھ نہیں بلکہ اپنی دلیل، اعتماد اور شخصیت کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔

ناول کا سب سے دلچسپ پہلو بن قاسم اور بنت داہر کا تعلق ہے۔ کہیں سے ایسا نہیں لگتا کہ بن قاسم فاتح ہے اور سوریا مفتوح۔ بلکہ ایسا لگتا ہے کہ سندھ تو شاید عربوں نے فتح کر لیا، لیکن بن قاسم خود بنت داہر سے شکست کھا گیا۔

بنت داہر اسے صرف محبت نہیں سکھاتی بلکہ اسے اپنے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ وہ اس کے اندر چھپے خوف، الجھنوں اور کمزوریوں کو سامنے لے آتی ہے۔ بن قاسم ایک ایسے نوجوان کے طور پر سامنے آتا ہے جس کے ہاتھ میں تلوار تو دے دی گئی ہے لیکن زندگی کو سمجھنے کا موقع نہیں دیا گیا۔

روایت کے مطابق راجکماری سوریا کو خلیفہ کے حرم کا حصہ بننے کے لئے بھیجا جانا تھا، لیکن بن قاسم اپنے جرنیلوں کو اعتماد میں لے کر ایک بڑا خطرہ مول لیتا ہے۔ وہ اصل راجکماری کے بجائے کسی دوسری لڑکی کو راجکماری بنا کر خلیفہ کے پاس روانہ کر دیتا ہے۔ یہ منظر بن قاسم کے کردار کا ایک نیا پہلو سامنے لاتا ہے۔ جو نوجوان ابتدا میں حجاج کا حکم ماننے والی ایک کٹھ پتلی نظر آتا ہے، وہ پہلی بار اپنے فیصلے سے طاقت کے مرکز کو چیلنج کرتا ہے۔ وہ ایک فاتح جرنیل سے زیادہ ایک ایسے انسان کے طور پر سامنے آتا ہے جو اقتدار، حکم اور اپنے ضمیر کے درمیان پھنس گیا ہے۔

مصنف نے بن قاسم کو ایک روایتی مجاہد یا ناقابلِ شکست فاتح کے طور پر پیش نہیں کیا۔ وہ سترہ برس کا ایک ایسا نوجوان ہے جس کا بچپن چھن گیا۔ یتیم تھا، چچا حجاج کے زیر اثر تھا اور اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا موقع اسے نہیں ملا۔ اسے شاعری کا شوق تھا، لیکن قسمت نے اسے جنگ کے میدان میں دھکیل دیا۔ وہ عورتوں، محبت اور اپنی خواہشات کے معاملے میں بھی ایک الجھا ہوا نوجوان ہے۔ حجاج اور اس کے ساتھی اسے ایک ایسے ماحول میں دھکیلتے ہیں جہاں مردانگی کو طاقت، فتح اور عورتوں پر اختیار سے ناپا جاتا ہے۔ لیکن بن قاسم اس کردار میں پوری طرح فٹ نہیں بیٹھتا۔ مصنف نے اس کے ذریعے شاید یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ ایک نوجوان کو محض اقتدار اور جنگ کا ہتھیار بنا دینا کس طرح اس کی شخصیت کو توڑ دیتا ہے۔

بنت داہر اور بن قاسم کے درمیان تعلق میں جسمانی کشش بھی ہے، لیکن یہ صرف ایک رومانوی تعلق نہیں رہتا۔ اس میں طاقت کا ایک عجیب کھیل ہے۔ بظاہر بن قاسم فاتح ہے، لیکن کئی مواقع پر وہ سوریا کے سامنے ایک ایسے شخص کی طرح کھڑا نظر آتا ہے جو خود اپنی ذات کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

سوریا کئی جگہ اس کی استاد بن جاتی ہے۔ وہ اسے زندگی، جسم، محبت اور انسان کے بارے میں ایک مختلف نظر دیتی ہے۔ اسی لئے ان دونوں کے تعلق کو صرف عشق کہنا درست نہیں ہوگا۔ یہ دو مختلف تہذیبوں، دو مختلف سوچوں اور دو مختلف طاقتوں کا ٹکراؤ بھی ہے۔

ناول میں جنسی بے باکی بہت زیادہ ہے۔ بعض جگہ یہ کرداروں کی نفسیات سمجھنے میں مدد دیتی ہے، لیکن بعض مقامات پر محسوس ہوتا ہے کہ مصنف نے حد سے زیادہ آزادی لے لی ہے۔ خاص طور پر بنت داہر کئی جگہ ایک تاریخی راجکماری سے زیادہ کاما سوترا کی ہیروئن محسوس ہونے لگتی ہے۔

یہ بھی کہنا پڑے گا کہ مصنف نے عورت کے جسم اور اختیار کے سوال کو بہت نمایاں کیا ہے۔ سوریا کسی بھی صورت میں محض ایک جنگ کی غنیمت بننے والی عورت نہیں۔ وہ اپنی خواہش، اپنی مرضی اور اپنے فیصلوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ بن قاسم کے ساتھ اس کے تعلق میں بھی یہی چیز نمایاں ہے کہ وہ خود کو کسی کی ملکیت نہیں سمجھتی۔ اسی لئے اس کا رویہ کئی جگہ جدید تصورِ آزادیِ نسواں کے قریب محسوس ہوتا ہے۔ وہ گویا یہ کہتی ہے کہ عورت اپنے جسم اور زندگی کے بارے میں فیصلہ خود کر سکتی ہے۔ ناول میں ایک جملہ بہت معنی خیز ہے:

"عرب مردوں کا دماغ عورتوں نے کوئی جنگ لڑے بغیر ہی فتح کر لیا۔"

یہ جملہ پورے ناول کی فضا کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ یہاں جنگ صرف میدان میں نہیں ہو رہی، جنگ انسان کے اندر بھی جاری ہے۔

بنت داہر بن قاسم کو بار بار ایسے سوالوں کے سامنے کھڑا کرتی ہے جن کے جواب اس کے پاس نہیں ہوتے۔ وہ اسے مجبور کرتی ہے کہ وہ صرف حجاج کا حکم ماننے والا سپاہی نہ رہے بلکہ خود سوچے۔ اسی سلسلے میں اسلام، مذہب اور اقتدار پر دونوں کے درمیان ہونے والے مکالمے ناول کے اہم ترین حصوں میں شامل ہیں۔

بنت داہر اور بن قاسم کے درمیان ہونے والے مکالمے صرف دو کرداروں کی گفتگو نہیں بلکہ دو مختلف سوچوں کا مقابلہ ہے۔ سوریا بن قاسم سے ایسے سوال کرتی ہے جن سے وہ خود بھی الجھ جاتا ہے۔ ایک مقام پر بنت داہر یہ خدشہ ظاہر کرتی ہے کہ اگر فاتح یہاں سے واپس نہ گئے تو ایک ایسا مذہبی طبقہ پیدا ہو سکتا ہے جو دین کو اپنے قبضے میں لے لے گا۔ وہ اس کا موازنہ برہمن طبقے سے کرتی ہے کہ جس طرح ایک مذہبی طبقے نے معاشرے پر اپنا اختیار قائم کیا، اسی طرح مذہب کے نام پر ایک نیا طبقہ بھی طاقت حاصل کر سکتا ہے۔

بن قاسم اور بنت داہر کے درمیان اسلام پر ہونے والی گفتگو بھی ناول کا ایک جرات مندانہ حصہ ہے۔ یہاں بن قاسم ہر وقت فاتح یا عالم کی حیثیت میں نہیں بلکہ کئی جگہ ایک ایسے نوجوان کے طور پر دکھائی دیتا ہے جو اپنے سامنے اٹھنے والے سوالوں سے پریشان ہے۔ ناول میں ایک مقام پر قرآن کی تدوین اور آیات کے حوالے سے بھی ایک ایسا مکالمہ آتا ہے جو روایتی تصورات کو چیلنج کرتا ہے۔ ظاہر ہے یہ تاریخی بحث نہیں بلکہ ناول کے اندر تخلیق کیا گیا ایک تصور ہے، لیکن اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف نے اپنے کرداروں کو صرف روایتی جملے بولنے کے لئے استعمال نہیں کیا بلکہ انہیں سوچنے اور سوال کرنے والا انسان بنایا ہے۔

حجاج بن یوسف کا کردار بھی اس ناول میں بہت اہم ہے۔ اگر بن قاسم ایک نوجوان اور الجھا ہوا کردار ہے تو حجاج اس کے بالکل برعکس ایک مکمل طور پر حساب کتاب رکھنے والا، چالاک اور اقتدار کا بھوکا شخص ہے۔ وہ لوگوں کو استعمال کرنا جانتا ہے۔ بن قاسم بھی اس کے لئے ایک مہرہ ہے۔ بظاہر قاسم کو اختیار ملا ہوا ہے، لیکن اصل اختیار حجاج کے ہاتھ میں ہے۔

ایک مقام پر بنت داہر بن قاسم کو اس مقام تک لے جاتی ہے کہ وہ حجاج کے بارے میں اعتراف کرتا ہے کہ وہ ظلم کرنے والا شخص ہے۔ ناول میں حجاج کو ایک ایسے کردار کے طور پر دکھایا گیا ہے جو مقدس زبان اور اقتدار کے پردے میں اپنی خواہشات پوری کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حجاج کا کردار ناول میں شاید بن قاسم سے بھی زیادہ طاقتور محسوس ہوتا ہے۔

مصنف نے مسلمان جرنیلوں کو بھی فرشتہ بنا کر پیش نہیں کیا۔ فتوحات کے ساتھ ساتھ مالِ غنیمت، دولت، فوج کو قابو میں رکھنے کی ضرورت اور اقتدار کی سیاست بھی دکھائی گئی ہے۔ ناول یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا ہر جنگ صرف نظریات کے لئے لڑی جاتی ہے یا اس کے پیچھے دنیاوی مفادات بھی ہوتے ہیں؟

یہاں ایک بار پھر واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ تاریخی تحقیق نہیں بلکہ ایک ناول ہے۔ ناول نگار کو اپنے کرداروں اور واقعات کو ایک خاص زاویے سے پیش کرنے کی آزادی ہوتی ہے۔ قاری اس زاویے سے اتفاق کرے یا نہ کرے، لیکن اسے ایک تخلیقی تجربے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

ناول کے آخری حصے میں حجاج، خلیفہ اور اقتدار کی کشمکش سامنے آتی ہے۔ صفدر زیدی نے حجاج کو ایک ایسے شخص کے طور پر دکھایا ہے جو اقتدار کے لئے انتہائی چالاک چالیں چلتا ہے۔ حجاج خلیفہ کو آہستہ آہستہ زہر دے کر ختم کرنے کی سازش کرتا ہے، لیکن آخرکار حقیقت سامنے آ جاتی ہے اور خلیفہ بھی حجاج کو زہر دے دیتا ہے۔ مصنف کے بیان کردہ اس تخیلاتی انجام میں حجاج زہر کا اثر برداشت نہیں کر پاتا اور آخرکار آگ میں کود کر اپنی زندگی ختم کر لیتا ہے۔

یہ سب تاریخی حقیقت ہے یا نہیں، اس پر بحث کی جا سکتی ہے، لیکن ناول کے اندر یہ انجام حجاج کے کردار کے مطابق محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا شخص جو پوری زندگی دوسروں کو قابو کرتا رہا، آخرکار اپنی ہی سازشوں کا شکار ہو جاتا ہے۔

ناول ختم ہونے کے بعد ایک عجیب احساس رہ جاتا ہے۔ ہم عام طور پر پڑھتے آئے ہیں کہ بن قاسم نے سندھ فتح کیا، لیکن صفدر زیدی کے ناول میں تصویر کچھ مختلف ہے۔ یہاں ایک نوجوان فاتح کم اور حالات کا شکار انسان زیادہ نظر آتا ہے۔ اور بنت داہر؟ وہ آخر تک اپنی طاقت برقرار رکھتی ہے۔

حجاج بن یوسف کے بعد اگر کوئی کردار ہے جو پورے ناول پر اپنا اثر چھوڑتا ہے تو وہ بنت داہر ہے۔ وہ شروع سے آخر تک ایک ایسی عورت کے طور پر موجود رہتی ہے جسے کوئی آسانی سے شکست نہیں دے سکتا۔ وہ جنگ ہار سکتی ہے، سلطنت ختم ہو سکتی ہے، حالات بدل سکتے ہیں، لیکن اس کی شخصیت کی مضبوطی قائم رہتی ہے۔

یہی شاید اس ناول کا سب سے دلچسپ پہلو ہے کہ جس کہانی کو ہم عام طور پر ایک فاتح کی کہانی سمجھتے ہیں، صفدر زیدی اسے ایک مختلف زاویے سے دیکھتے ہیں۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ کس نے کون سا علاقہ فتح کیا، بلکہ یہ ہے کہ انسان کے اندر کون غالب آیا اور کون شکست کھا گیا۔

بن قاسم کے بارے میں ہم بچپن سے ایک ہی تصویر سنتے آئے ہیں۔ ایک بہادر نوجوان سپہ سالار، جس نے سندھ فتح کیا۔ لیکن "بنت داہر" میں وہ تصویر بدل جاتی ہے۔ یہاں وہ ایک کم عمر نوجوان ہے جسے اقتدار اور جنگ کے میدان میں دھکیل دیا گیا۔ اس کے اندر خواہشیں بھی ہیں، کمزوریاں بھی، خوف بھی اور سوال بھی۔

اس کے مقابلے میں سوریا ایک مکمل کردار بن کر سامنے آتی ہے۔ وہ صرف راجہ داہر کی بیٹی نہیں، بلکہ ایک ایسی آواز ہے جو طاقت کے سامنے سوال اٹھاتی ہے۔ وہ بن قاسم کو چیلنج کرتی ہے کہ فتح صرف تلوار سے نہیں ہوتی، کبھی کبھی سوچ اور شخصیت بھی کسی کو شکست دے دیتی ہے۔ اسی لئے ناول کا عنوان بھی بہت معنی رکھتا ہے۔ "بنت داہر" صرف ایک تاریخی نسبت نہیں بلکہ اس کردار کی علامت ہے جو پورے ناول میں اپنی شناخت قائم رکھتا ہے۔

ناول کا سب سے بڑا مسئلہ میرے خیال میں اس کا اختتام ہے۔ اتنی بھرپور رفتار سے چلنے والی کہانی کا انجام کچھ جلدی میں کیا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ حجاج، بن قاسم اور بنت داہر جیسے بڑے کرداروں کے ساتھ مزید وقت گزارنے کی گنجائش تھی۔ قاری چاہتا ہے کہ کہانی کچھ دیر اور چلے۔ لیکن مجموعی طور پر "بنت داہر" ایک ایسا ناول ہے جو روایتی تاریخی ناولوں سے مختلف ہے۔ اس میں جنگیں بھی ہیں، سیاست بھی، مذہب بھی، محبت بھی، خواہشات بھی اور انسان کی کمزوریاں بھی۔

ایک اچھا ناول وہی ہوتا ہے جو سوال پیدا کرے۔ بنت داہر کے بارے میں میری آخری رائے یہی ہے کہ یہ ایک بہترین فکشن ہے۔ اسے تاریخ کا متبادل سمجھنا غلط ہوگا، لیکن ایک تخلیقی ناول کے طور پر یہ بہت کامیاب ہے۔ اگر صفدر زیدی صاحب نے حجاج بن یوسف، بن قاسم اور راجہ داہر کے بجائے فرضی کردار تخلیق کیے ہوتے تو شاید یہ ناول ایک غیر معمولی شاہکار بن جاتا، کیونکہ اس کی اصل طاقت تاریخ کے واقعات نہیں بلکہ ان کرداروں کے اندر چھپی انسانی کشمکش ہے۔ تاریخ کا بوجھ بعض جگہ اس کی تخلیقی آزادی کو محدود کرتا محسوس ہوتا ہے۔

میں اسے دس میں سے نو نمبر دوں گا۔ یہ ناول ہر اس شخص کو پڑھنا چاہیے جو روایتی کہانیوں سے ہٹ کر کچھ مختلف پڑھنا چاہتا ہے۔ اس سے اتفاق کرنا ضروری نہیں، لیکن اسے پڑھنے کے بعد خاموش رہنا مشکل ہے۔

ناول: بنت داہر
مصنف: صفدر زیدی
ناشر: فکشن ہاؤس
سال اشاعت: 2024

مزیدخبریں