غیر ملکی سرمایہ کاری اس غربت کے گڑھے سے نکلنے کا پہلا قدم ہو سکتا ہے جس میں ہم طویل عرصے سے گل سڑ رہے ہیں۔اس سرمایہ کاری کو حاصل کرنے کے 2راستے ہیں ،اول، ہم کرایہ دار ریاست بننے کا انتخاب کرتے ہیں اور دوسروں کو راغب کرتے ہیں کہ جو کچھ باقی رہ جاتا ہے وہ یہاں سے لے لیں اور ہمیں کچھ پیسے دے دیں۔دوسرا، ہم یہاں کاروبار پیدا کرتے ہیں اور دوسروں سے اس میں حصہ لینے کی توقع کرتے ہیں۔
کاروبار پیدا کرنا ایک ایسا کام ہے جس کے لئے ٹیم پر اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔میں نے مختلف منصوبوں میں ٹیموں کی قیادت کی ہے میں اعتماد سے کہ سکتا ہوں کہ جب آپ کام شروع کرتے ہیں تو سب سے پہلے اعتماد کی قربانی دینا پڑتی ہے۔مشترکہ مفادات اور ہم آہنگی کی تعمیر کے بارے میں بحث بے کار اور لامتناہی ہے اگر اس میں اعتماد کا پہلو نظر انداز کر دیا جائے۔اعتماد ایک ایسی چیز ہے جو ہمیں خاندانوں میں مل سکتی ہے وہ بھی مشکل سے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ خاندانی کاروبار دنیا بھر میں پھلتے پھولتے ہیں۔ اگر ہم غیر ملکی سرمایہ کاری کا انتخاب کرتے ہیں، تو اسے حاصل کرنے کا پائیدار طریقہ یہ ہے کہ یہاں خاندانی کاروبار چلیں ۔
بڑے خاندانوں کو اکٹھا کرنے اور مل کے چلنے کو معاشرے میں طنز کا نشانہ بنایا جاتا ہے کیونکہ ایسا کرنا میڈیا پہ پاپولر ہے۔بھٹو دور سے پہلے جب ہمارے خاندانی کاروبار تھے تو ہم خطے میں قائدانہ کردار ادا کرتے تھے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرتے تھے۔ جب بھٹو نے مقبولیت کو چنا اور کاروبار کی بلی چڑھا دی تو وہ ملک کو کرایہ دار ریاست میں تبدیل کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوسکا۔ اپنی تمام تر تقریروں کے باوجود، وہ امریکہ کو گوادر کو طویل مدتی بنیادوں پر لینے کے لئے قائل نہیں کر سکے۔
وزیر اعظم شہباز شریف سعودی عرب کے 4 روزہ دورے پر ہیں۔ان کے نائب اور رشتہ دار اسحاق ڈار، ان کی بھتیجی اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، ان کے خاندانی دوست اور وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک اور ایس آئی ایف سی کے نیشنل کوآرڈینیٹر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز احمد اور دیگر ان کے ہمراہ ہیں۔ان کے بڑے بھائی نواز شریف اور ان کا خاندان پہلے ہی مکہ میں موجود ہے ۔ وہ رمضان کے آخری دن وہیں گزارتے ہیں اور اپنے ساتھ اپنے ملازم اور خانساماں بھی لے کے جاتے ہیں۔ کبھی وہ صحافیوں کو بھی ساتھ لے جاتے ہیں جو واپس آ کے ٹی وی پہ بیٹھ کے انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ یہ شاید ان کے مقبول ہونے کی ضمانت ہے یا ان کی فطرت ہی ایسی ہے۔
اپنے فیس بک پیج پر وزیر اعظم نے کہا کہ ”دورے کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا، اقتصادی تعاون کو بڑھانا اور دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے“۔
یہ بیان ایک روایتی اسلوب پر مبنی ہے اور اس کا کوئی خاص مطلب نہیں ہے۔لیکن پھر بھی اس نے ٹرولز کی ایک اچھی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کیا ، جن کی صرف مذمت کی جاسکتی ہے۔اسی طرح اس دورے اور ولی عہد محمد بن سلمان اور شہباز شریف کے درمیان ریاض میں ہونے والی ملاقات کے حوالے سے مین اسٹریم میڈیا پر بہت زیادہ زیادہ شور مچایا جا رہا ہے۔
ہمارے پاس بہت سے خود ساختہ دفاعی تجزیہ کار، سینئر صحافی اور سیاست دان موجود ہیں جو پاک سعودی تعلقات کو اپنے روز مرہ کے شور شرابے اور گھناؤنے مباحثوں کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔مجھے یاد ہے کہ عامر ضیاء، جن کا تعلق ایڈیٹرز کے اس نایاب ترین قبیلے سے ہے، جن کے ساتھ کام کر کے آپ کچھ سیکھ سکتے ہیں، پاک سعودی تعلقات کے خاص مسئلے پر سنجیدہ بات کیا کرتے تھے ۔انہوں نے مجھے میرے سینکڑوں کالموں میں سے، جو انگلش اور اردو دونوں زبانوں میں ان کی ادارت میں چھپا کرتے تھے، صرف ایک یا دو بار ہی اپنی تحریر کا دو بارہ جائزہ لینے کیلئے کہااور ان کی تجویز ہمیشہ پاک سعودی تعلقات سے متعلق تھی۔
ہمارے فوجی اور سول رہنما ہمیشہ سب سے پہلے ریاض کے دورے پہ جاتے ہیں۔ ان دوروں کا مطلب ہمیشہ کاروبار ہوتا ہے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب کے سرکاری دورے کے دوران سعودی وزیر سرمایہ کاری خالد الفالح اور جوائنٹ ٹاسک فورس برائے اقتصادی روابط کے سربراہ محمد التویجری سے ملاقات یں کیں۔بات چیت میں اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے، سعودی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور اہم شعبوں میں مشترکہ اقدامات کو تیز کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔
شہباز شریف کا سادہ زبان میں مطلب ہے کاروبار، بات چیت میں سمجھ داری اور بات کو پورا کرنا۔ ” سعودی سرمایہ کاری“ کو راغب کرنے کے طریقوں کو سمجھنے کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ ہمیں اس کی ضرورت ہے لیکن جب تک ہم بیوروکریسی سے آزاد نہیں ہو جاتے اس وقت تک اسے حاصل نہیں کر سکتے۔ افسر شاہی نے ہماری ریاست کے پورے تانے بانے کو دیمک کی طرح کھا لیا ہے۔ ایک ریٹائرڈ بیوروکریٹ جو اپنی مدت ملازمت میں توسیع کی دوڑ میں لگا ہو اتنا ہی خطرناک ہوتا ہے جتنا کہ اگلے گریڈ کی دوڑ میں لگا ایک ادھیڑ عمر بیوروکریٹ ۔
گریڈ اور ایکسٹینشن ہی ان کے زندگی ہے،عام طور پر ریاض میں پاکستانی سفیر کی جانب سے ایک باقاعدہ تحریر سعودی اخبار ”عرب نیوز“ پہ اس وقت نشر کی جاتی ہے جب کوئی سرکاری عہدیدار مملکت کا دورہ کرتا ہے۔اس بار عرب نیوز نے یہ تکلف بھی نہیں کیا ہے۔ اگر میں وہاں ایڈیٹر ہوتا تو میں یہ کہتا کہ لچھے دار زبان میں لپٹے ہوئے ایک ہی طرح کے تجریدی تصورات کو بار بار شائع کرنے کا کیا مطلب ہے۔
سفارت کاری دنیا بھر میں اپنی اصل کی طرف واپس جا رہی ہے۔ وہ وقت تھا جب حکمرانوں کے قریبی امرا غیر ملکی سرزمین پر سفیر کے طور پر خدمات انجام دیتے تھے۔ سفارت خانے قائم کیے گئے اور سفارت کاری وقار کے ساتھ کی گئی۔ اس کے بعد وزارت خارجہ کھل گئی اور یہ سب کچھ بیوروکریٹک بن گیا۔ ملازمت کے متلاشی سفارت کار بن گئے اور تعلقات کی تعمیر سے پہلے ملازمت کا تحفظ آ گیا۔سرمایہ کاری کو راغب کرنا دراصل تعلقات کی تعمیر کرنا ہی ہے۔سعودی عرب میں کاروبار پر خاندانوں کا غلبہ ہے۔ یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے۔ فرانسس فوکویاما نے ”ٹرسٹ“ کے عنوان سے اپنی کتاب میں جاپان میں خاندانی کاروبار کی کامیابی کے راز کے بارے میں بڑے پیمانے پر لکھا ہے۔
اگر ہم عالمی پیمانے پر نظر ڈالیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ خاندانی کاروبار دنیا کے کاروبار کا تقریبا 70-80 فیصد حصہ رکھتے ہیں۔ریاست ہائے متحدہ (امریکہ) میں، خاندانی کاروبار کا حصہ 80 فیصد ہے۔اٹلی، سویڈن، جرمنی اور برطانیہ سمیت یورپی ممالک میں بھی یہی صورتحال ہے۔ خلیج تعاون ممالک (جی سی سی) میں بھی ایسا ہی ہے، جس کا مرکز سعودی عرب ہے۔
جی سی سی ریاستوں کو کرایہ دار ریاستوں کے طور پر جانا جاتا تھا کیونکہ وہ پیٹرو ڈالر پر بہت زیادہ انحصار کرتے تھے۔ لیکن اب انہوں نے پیداوار پر توجہ مرکوز کی ہے، وہ تیل کے بعد کے منظر نامے کے لئے تیاری کر رہے ہیں۔امریکہ اور یورپی ممالک ان خاندانوں کو بڑے پیمانے پر لاگت والے منصوبوں میں اپنی سرمایہ کاری کو راغب کرتے ہیں۔لیکن ابھی بھی بہت کچھ راغب کرنے کے لئے ہے۔”بڑے پیمانے پر اور بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر عمل درآمد، نئے بڑے شہروں کی منصوبہ بندی اور ریاض شہر میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (الالا ماسٹر پلان، نیوم، ٹروجینا، آکساگون، دی لائن) کی بنیاد پر میگا ڈویلپمنٹ کے سعودی عرب کے 900 ارب امریکی ڈالر کے ترقیاتی منصوبے ہیں، ”واسم جے الولو نے اپنے ایک حالیہ تحقیقی مقالے میں واضح کیا۔
وہ امام محمد بن سعودی اسلامی یونیورسٹی، ریاض، کے کالج آف اکنامکس اینڈ ایڈمنسٹریٹو سائنسز میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ پاکستانی وفد کو ان جیسے مصنفین کو ضرور پڑھنا چاہیے جو سعودی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے طریقوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان نے صنعت کو ترقی نہیں دی ، یہ شاید 25 واں موقع ہے جب پاکستان آئی ایم ایف سے قرض حاصل کر رہا ہے۔ ٹیکسوں میں اضافے کے بارے میں بہت سی باتیں ہو رہی ہیں۔ میں اس طرح باتوں کا عادی ہو چکا ہوں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ مسئلے کا حل نہیں ، ان ٹیکسوں کی وجہ سے لوگ یہاں کاروبار نہیں کرتے، نتیجتاً بلیک مارکیٹ پھلتی پھولتی ہے۔
اسلام آباد میں مون سون کی بارشوں کے بعد پراپرٹی ٹائیکون بھنگ کے پودوں کی طرح چار سو پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ بہت زیادہ دولت جمع کرتے ہیں اور خوابوں کے علاوہ کچھ پیدا نہیں کرتے ۔ شہر کی نصف سے زیادہ آبادی کرائے کے گھروں میں رہتی ہے۔ دوسرے شہروں کی بھی یہی سچائی ہے، جس میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔ غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے یہاں خاندانی کاروبار زوال پذیر ہیں۔ سعودی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ہمیں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کے مضبوط پیداواری یونٹوں کی ضرورت ہےاور صرف صنعت کار خاندان ان یونٹوں کو ڈھنگ سے چلا سکتے ہیں۔
شریف خاندان ایک کاروباری خاندان ہے، وہاں کاروبار کامیابی سے ان کی تیسری نسل میں چلا گیا ہے۔ شہباز شریف نتائج دینے اور روٹین سے ہٹ کر حل تلاش کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کے وفد میں ان کے خاندان کے لوگ بھی شامل ہیں جو ایک خوش آئند بات ہیں۔ ہم امید کر سکتے ہیں کہ وہ سعودی صنعتکار خاندانوں کو متاثر کر پائیں گے۔مجھے یقین ہے کہ وہ سعودی عرب کے کاروباری خاندانوں کے ساتھ تعلقات استوار کریں گے، خاندانی کاروبار کو راغب کرنے کا یہ پائیدار طریقہ ہے۔