Type to search

تجزیہ سیاست فيچرڈ

کاشف علی ایڈووکیٹ گھر تو آ گئے۔ لیکن کارروائی کی ضرورت کیا تھی؟

کاشف علی ایڈووکیٹ گھر واپس آ گئے ہیں، اور اطلاعات کے مطابق خیریت سے بھی ہیں۔ مسلم لیگ نواز وکلا ونگ کے نائب صدر ہونے کی حیثیت سے وہ ایک جانی پہچانی شخصیت تھے۔ اوپر سے ان کے اغوا ہونے کی ویڈیو بھی منظرِ عام پر آ گئی، جس کے بعد انہیں حبسِ بے جا میں رکھنا خاصہ پریشان کن ہو سکتا تھا۔ اللّٰہ ان کی زندگی کی حفاظت کرے۔ آمین۔

مگر نوبت یہاں تک کیوں آئی؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ ریاستی اداروں کے خلاف بلا ثبوت الزامات اور نعرے لگانا نہ صرف غیر قانونی ہے، غیر اخلاقی بھی ہے۔ لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ ملک کا بچہ بچہ یہی سمجھتا ہے کہ ریاستی ادارے سیاسی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں، اور ان کے نزدیک یہ مبینہ سیاسی کردار ایک ایسی صورتحال پیدا کر رہا ہے جس میں ان کے سیاسی حقوق متاثر ہو رہے ہیں؟

آخر ایسا کیوں ہے؟ آپ حزبِ اختلاف کی کسی جماعت کے کسی حمایتی کی رائے کو خاطر میں نہ لائیں۔ آپ جا کر تحریکِ انصاف سپورٹرز سے ہی پوچھ لیں۔ ان کا بھی یہی خیال ہے کہ ایسٹیبلشمنٹ معاملات کو چلا رہی ہے۔ وہ شاید اندر سے خوش ہوتے ہوں کہ عدلیہ، افواج، نیب سب ہمارے ساتھ ہیں، لیکن ایک بات سب جانتے ہیں کہ بہت سے فیصلے قانون کو بالائے طاق رکھ کر کیے جا رہے ہیں، اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔

آخر یہ تاثر کیوں ہے؟

بات صاف ہے۔ رانا ثنا اللہ پر کیا مقدمہ ہے؟ اس مقدمے کی کیا تُک ہے سوائے سابق صوبائی وزیرِ قانون کی لمبی زبان کے؟ شاہد خاقان عباسی نے ملک کا کون سا نقصان کیا تھا ایل این جی ٹھیکوں میں؟ اگر وہ ٹھیکے اتنے غلط تھے تو اب تک کیوں برقرار ہیں؟ محسن داؤڑ اور علی وزیر کس جرم کی پاداش میں چار ماہ جیل میں رکھے گئے؟ گلالئی اسماعیل نے کیا کیا تھا؟ تقریر ہی نا؟ غور سے دیکھا جائے تو ان سب سیاسی قیدیوں کا قصور تقریر ہی ہے۔ اور کوئی ریاست اتنی کمزور کیسے ہو سکتی ہے کہ ایک تقریر سے اس کی بنیادیں ہلنے لگیں، ریاستی اداروں کو حرکت میں آنا پڑ جائے، کمانڈو بھیجنے پڑ جائیں، گولیاں چلیں، لوگوں کو قید و بند میں ڈالنا پڑے؟

آپ نے کاشف علی کو چھوڑ دیا۔ بہت شکریہ۔ لیکن اس کو اٹھانے اور چھوڑ دینے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ کچھ ایسا کرنا ہوگا کہ تاثر تبدیل ہو۔ تاکہ کسی کو ایسا نعرہ لگانے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *