ایکسپریس ڈاٹ پی کے کے مطابق وفاقی وزیر نے کہا کہ معیشت کی گروتھ ایک مستحکم پالیسی کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے، پائیڈ نے پاکستان کی معیشت کی گروتھ کیلئے ایک فریم ورک تیار کیا، گروتھ خود بخود نہیں ہوتی، اس کے پیچھے سوچ ہوتی ہے، گروتھ کی شرح نمو کی نوعیت کیا ہے، یہ جاننا لازمی ہے، روز مرہ سرکاری امورچلانے کے لیے قرضے لینے پڑ رہے ہیں، روز مرہ اخراجات چلانے کیلئے بھی اگر قرضے درکار ہوں تو معیشت میں استحکام لانا بہت ضروری ہے، معیشت میں استحکام آنےتک آگےنہیں بڑھ سکتے، وفاق کی زیادہ ترطاقت صوبوں کےپاس چلی گئی ہے.
یاد رہے کہ سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے نئے وزیر خزانہ شوکت ترین کی ملکی معیشت سے متعلق رائے بھی مسترد کر دی تھی
اسد عمر نے کہا تھا کہ شوکت ترین نے ملکی معیشت کا جو تجزیہ پیش کیا ہے وہ اس سے بالکل اتفاق نہیں کرتے، کابینہ کے اجلاس میں وہ شوکت ترین سے بات کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ڈھائی سال میں ملکی معیشت درست سمت میں گئی ہے ، ترقی کی شرح اور سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے۔
یاد رہے کہ شوکت ترین نے وزیر بننے سے چند روز پہلے جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘ گفتگو میں کہا تھا کہ کچھ نہیں پتا معیشت کس سمت میں جارہی ہے، ہمیں اپنا گھر ٹھیک کرنا پڑے گا، جہاز کے کپتان کو مضبوط ہونا پڑے گا ورنہ کشتی آگے نہیں بڑھے گی۔