بچپن میں سنا تھا کہ اکلوتے سے لوگ بہت پیار کرتے ہیں، اسکا تجربہ اس وقت ہوا جب مہروان نے جنم لیا اور اب تو روز احساس ہوتا ہے یا احساس دلایا جاتا ہے کہ اکلوتے کی ہر زد کے آگے ہار ماننا ضروری ہے۔ پھر سوچتے سوچتے خیال آتا ہے کہ انٹرکالج پسنی بھی شہر کا اکلوتا کالج ہے ہمیں روز اسکا خیال کیوں نہیں آتا؟ یہاں بھی روز ہمارے بچے اور بچیاں آتے جاتے ہیں۔پھر اچانک سوشل میڈیا میں ایک پوسٹ دیکھ کر میں خوشی سے جھومنے لگتا ہوں اور ایک کپ مذید چائے کا مطالبہ کرتے ہوئے بار بار کھڑکی سے باہر کا نظارہ دیکھنے لگتا ہوں کہ واقعی اکلوتے سے سب محبت کرتے ہیں۔لوگ خوشی سے ناچ رہے ہوتے ہیں اور چند روز بعد کریڈٹ لینے کی ایک نئی جنگ کا بھی آغاز ہوگا کہ ہم نے الیکشن کے دوران پڑھا لکھا گوادر کا جو نعرہ لگایا تھا، پسنی بوائز انٹر کالج کو ڈگری کا درجہ ملنے کے بعد اب پسنی میں تعلیمی انقلاب برپا ہوگی۔ اب غریب کے بچے اسلام آباد، شال اور کراچی جانے کی بجائے پسنی میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کے خواب پوری کریں گے۔
یہ سوچتے سوچتے میری کمزور نظریں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی ایک نوٹیفکشن پر پڑیں کہ 2020 کے بعد دو سالہ ڈگریاں قابل قبول نہیں ہوں گے۔ایک ٹھنڈی سانس لینے کے بعد سوچنے لگتا ہوں کہ دو سالہ ڈگری ختم ہونے کے بعد اب ڈگری کالجز میں بھی چار سالہ بی ایس ڈگری لاگو ہوگی۔ بلوچستان کے یونیورسٹیز میں لیکچرار کی کمی پہلے ہی سے ہے جہاں وزیٹنگ فیکلٹی سے کام چلایا جارہا ہے۔اب ڈگری کالجز میں پڑھانے کے لئے سینکڑوں استاتذہ کو کہاں سے لایا جائے گا کیونکہ اس وقت انٹرکالج پسنی میں سائنس اور آرٹس کے مضامین کو پڑھانے کے لئے استاتذہ کی تعداد دس سے بھی کم ہے اور اہم مضامین کو پڑھانے کے لئے استاتذہ تک موجود نہیں۔
پھر خیال آتا ہے کہ کوئی مسلئہ نہیں اس بھوت نما بنگلے میں بی اے اور بی ایس اے کے کلاسز شروع ہوں گے۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے گا اور ہمارے نوجوان بغیر استاتذہ کے نقل کو اپنا جیون ساتھی بناکر ڈگریاں لیتے رہیں گے جیسا کہ ہم جیسے کم علم اور پاگلوں نے ماضی میں یہ ڈگریاں لے کر ایک بند الماری کی زینت بنادئیے ہیں۔