سندھ کے شہروں کی مصروف سڑکوں سے لے کر دور دراز دیہات تک ایک خاموش وبا تیزی سے پھیل رہی ہے۔ یہ وبا کسی وائرس یا بیماری کی طرح دکھائی نہیں دیتی، مگر اس کے اثرات خاندانوں، تعلیمی اداروں اور معاشرے کے اندر گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ بات ہے آئس، یعنی کرسٹل میتھ کے بڑھتے ہوئے استعمال کی، جس کا سب سے زیادہ شکار نوجوان نسل بنتی دکھائی دے رہی ہے۔
آئس کا نشہ صرف ایک فرد کی زندگی کو متاثر نہیں کرتا۔ یہ اس کے ساتھ جڑے پورے خاندان، دوستوں اور معاشرتی تعلقات کو بھی توڑ دیتا ہے۔ ایک نوجوان جو کبھی اپنے مستقبل کے خواب دیکھتا ہے، تعلیم حاصل کرتا ہے، نوکری یا کاروبار کے منصوبے بناتا ہے، رفتہ رفتہ اس نشے کے ہاتھوں اپنی صحت، تعلیم، روزگار، تعلقات اور خود اعتمادی کھوتا چلا جاتا ہے۔
میرے لیے یہ مسئلہ محض ایک سماجی موضوع نہیں، بلکہ ذاتی دکھ بھی ہے۔ میں نے اپنے اردگرد ایسے کئی نوجوانوں کو دیکھا ہے جو ذہین، تعلیم یافتہ اور باصلاحیت تھے، مگر نشے کی گرفت نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔
عابد سولنگی: ایک دوست جو ہم سے بچھڑ گیا
میرا دوست عابد سولنگی جامعہ سندھ کے شعبہ انگریزی سے فارغ التحصیل تھا۔ وہ ایک پڑھا لکھا نوجوان تھا، جس کے سامنے زندگی کے کئی راستے کھلے ہوئے تھے۔ لیکن وقت کے ساتھ وہ آئس کے نشے کی طرف چلا گیا۔
نشے کی لت اکثر اچانک کسی کی زندگی میں داخل نہیں ہوتی۔ ابتدا میں اسے تفریح، دوستوں کی محفل یا وقتی تجربے کے طور پر لیا جاتا ہے۔ پھر یہی تجربہ عادت بنتا ہے اور عادت آخرکار ایسی گرفت میں تبدیل ہو سکتی ہے جس سے نکلنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
عابد بھی اسی دائرے میں پھنستا چلا گیا۔ نشے نے اس کی زندگی، صحت اور سماجی تعلقات کو بری طرح متاثر کیا۔ بالآخر وہ ایڈز کا شکار ہوا اور دنیا سے رخصت ہوگیا۔ اس کی زندگی کا اختتام ہمارے لیے صرف ایک دوست کی جدائی نہیں تھا، بلکہ ایک سوال بھی تھا کہ ایک تعلیم یافتہ نوجوان اس مقام تک کیسے پہنچا اور اسے وقت پر واپس لانے کے لیے ہمارے پاس کیا نظام موجود تھا؟
اس کے انتقال کے بعد بھی یہ سوال میرے ذہن میں موجود ہے کہ اگر نشے کے عادی افراد کے لیے بروقت علاج، کونسلنگ اور بحالی کا مؤثر نظام موجود ہو تو کتنے عابد واپس زندگی کی طرف لوٹ سکتے ہیں!
عباس شیخ: پوزیشن ہولڈر سے بے سمت زندگی تک
ایک اور دوست عباس شیخ ہے، جو جامعہ سندھ کے شعبہ اکنامکس سے فارغ التحصیل اور پوزیشن ہولڈر بھی رہ چکا ہے اس کے ساتھ بہترین کالیجز میں اساتذہ کے فرائض بھی انجام دے چکا ہے ۔ ایک ایسا نوجوان جس نے تعلیمی میدان میں اپنی صلاحیت ثابت کی، مگر آئس کی لت نے اس کی زندگی بھی بدل دی۔
آج وہ اپنی زندگی کے بہترین برسوں میں ہونے کے باوجود ایک بے سمت اور دربدر زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ اس کے اندر صلاحیتیں اب بھی موجود ہیں، مگر نشے نے ان صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے راستے مشکل بنا دیے ہیں۔
عباس کی کہانی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ منشیات کا شکار صرف وہ نوجوان نہیں ہوتے جو تعلیم سے دور ہوں یا معاشی مشکلات کا شکار ہوں۔ ایک ذہین، تعلیم یافتہ اور کامیاب طالب علم بھی اس خطرے سے محفوظ نہیں۔
درسگاہوں تک رسائی:
اس مسئلے کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ آئس کی لعنت تعلیمی اداروں تک پہنچ چکی ہے۔ یونیورسٹیاں اور کالجز وہ جگہیں ہیں جہاں نوجوان اپنے مستقبل کی بنیاد رکھتے ہیں۔ اگر یہی جگہیں نشے کی ترغیب، دستیابی یا استعمال سے متاثر ہونے لگیں تو اس کے اثرات صرف چند افراد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے کے مستقبل کو متاثر کرتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیمی اداروں میں محض آگاہی لیکچر منعقد کرنے کے بجائے مستقل کونسلنگ، ذہنی صحت کی معاونت، نشے سے بچاؤ کی تعلیم اور خفیہ شکایتی نظام قائم کیئے جائیں۔ اساتذہ اور والدین کو بھی یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ نشے کی علامات کو کیسے پہچانا جائے اور متاثرہ نوجوان کو سزا یا سماجی بائیکاٹ کے بجائے علاج اور بحالی کی طرف کیسے لایا جائے۔
ایک جامع منصوبےکی ضرورت:
سندھ میں منشیات کے بڑھتے ہوئے مسئلے سے نمٹنے کے لیے صرف گرفتاری یا کارروائی کافی نہیں۔ منشیات کی سپلائی روکنا اپنی جگہ ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ نوجوانوں میں آگاہی پیدا کرنا، خاندانوں کو رہنمائی دینا اور متاثرہ افراد کی بحالی اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔
بدقسمتی سے ایک عام خاندان کے لیے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اگر اس کا کوئی فرد نشے کا شکار ہوجائے تو وہ کہاں جائے؟
سرکاری سطح پر ایسے قابلِ رسائی اور مؤثر بحالی مراکز کی ضرورت ہے جہاں نشے کے عادی افراد کو طبی علاج، نفسیاتی معاونت، کونسلنگ اور دوبارہ معاشرے کا حصہ بننے کے لیے تربیت فراہم کی جاسکے سندھ میں ایسے سرکاری ادارے نہ ہونے کے برابر ہیں۔
چند نجی ادارے بحالی کی خدمات ضرور فراہم کرتے ہیں، مگر ان کے اخراجات متوسط طبقے کے بہت سے خاندانوں کی پہنچ سے باہر ہیں۔ یوں ایک خاندان جو پہلے ہی متاثرہ فرد کو نشے سے نکالنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے، مالی بوجھ تلے مزید دب جاتا ہے۔
ساتھ ہی یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ نشے کا شکار ہر شخص مجرم نہیں ہوتا بہت سے لوگ علاج اور مدد کے محتاج ہوتے ہیں۔ اگر کسی نوجوان کو صرف سماجی طور پر مسترد کردیا جائے تو وہ مزید تنہائی اور نشے کی طرف جا سکتا ہے۔
کتنے ہی اور بھی نوجوان جو ہماری نظروں سے اوجھل ہیں
عابد سولنگی آج ہمارے درمیان نہیں۔ عباس شیخ جیسے کئی نوجوان اب بھی اپنی زندگی واپس حاصل کرنے کی جدوجہد میں ہیں۔ ان کے علاوہ نہ جانے کتنے پڑھے لکھے، باصلاحیت اور خواب دیکھنے والے نوجوان اس وبا کے باعث معاشرے سے کٹ کر زندگی گزار رہے ہیں۔
ہمیں یہ سوال ضرور پوچھنا ہوگا کہ اگر ایک پوزیشن ہولڈر طالب علم، ایک یونیورسٹی گریجویٹ اور ایک باصلاحیت نوجوان نشے کی گرفت میں آکر اپنی زندگی کا راستہ کھو سکتا ہے تو ہمارے معاشرے میں کتنے ایسے نوجوان ہیں جن کی کہانیاں ابھی ہم تک پہنچی ہی نہیں؟
آئس کے خلاف جنگ دراصل سندھ کے مستقبل کے لیے جنگ ہے۔ ہمیں نوجوانوں کو صرف یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ نشہ برا ہےہمیں انہیں ایک ایسا نظام بھی دینا ہوگا جہاں ان کی واپس ممکن ہو سکے ۔