Type to search

خبریں فيچرڈ میڈیا

”پیمرا نے کوئی حکم جاری نہیں کیا البتہ whatsapp کے احکامات کا علم نہیں“

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے حکام نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ میڈیا کوریج کو روکنے سے متعلق انٹر سروسز پبلک ریلیشن (آئی ایس پی آر) یا کسی اور کی جانب سے کوئی ہدایت نہیں کی گئیں اور نہ ہی پیمرا پر کوئی دباؤ ہے۔

تاہم سینیٹ کمیٹی نے میڈیا سینسر شپ کے معاملے پر ایک ذیلی کمیٹی بھی قائم کردی جو ایک ماہ میں رپورٹ دے گی۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اہم اجلاس سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کی صدارت میں ہوا اور میڈیا سینسر شپ کا معاملہ ایجنڈے میں شامل کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ’ہتکِ عزت پر میڈیا ٹرائبیونل بنا رہے ہیں تو 35 پنکچر کیس میں پیش کیوں نہیں ہو جاتے؟‘

اجلاس کے دوران سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر اور پیمرا حکام کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی ، سینیٹر مصطفی نواز کھوکھرکا کہنا تھا کہ پیمرا مسلسل غلط بیانی کررہا ہے۔

کمیٹی میں اینکر کاشف عباسی کا پروگرام پلے کیا گیا جس میں پیمرا حکام نے میڈیا کو مولانا فضل الرحمان کا پریس کانفرنس لائیو چلانے سے روک دیا گی جبکہ پیمرا حکام نے ایسے احکامات جاری کرنے کی نفی کی۔

پیمرا حکام کا کہنا تھا کہ پیمرا نے کوئی حکم جاری نہیں کیا البتہ whatsapp کے احکامات کا علم نہیں۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ چیئرمین پیمرا کہاں ہیں؟ پارلیمنٹ سے زیادہ کوئی اہم میٹنگ ہوتی ہے؟ چیئرمین پیمرا سے متعلق ہمارے رزرویشنس ہیں، ڈیڑھ سال سے ملک میں میڈیا کی آزادی سے متعلق سوالات اٹھ رہے ہیں، ایئرپورٹ پر صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کی تنظیم کے اسٹیون بٹلر کو  پاکستان آنے سے روک روکا گیا، ویزا ہونے کے باوجود اس شخص کو واپس کردیا گیا۔

مصطفی کھوکھر کا مزید کہنا تھا کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے،  پیمرا برائے راست میڈیا سینسرشپ میں انوالو یے، پیمرا سے متعلق سامنے آنے والی چیزیں سامنے رکھیں گے

سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے پیمرا حکام کو متنبہ کیا اگر آپ نے جھوٹ بولا تو آپ کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی,چیئرمین پیمرا نے کمیٹی سے غیر حاضر ہو کر آپ لوگوں کو پھنسا دیا.۔

اس موقع پر سینیٹر جہانزیب جمالدینی نے پیمرا حکام سے سوال کیا کہ آپ پر آئی ایس پی آر کی طرف سے دباؤ ہے؟  جس پر پیمرا حکام نے انکار کر دیا۔

سینیٹر جہانزیب جمالدینی  نے پوچھا کس طاقتور شخص نے  ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور سردار اختر مینگل کے انٹرویوز کو ٹی وی پر چلانے سے روکا؟ س سوال پر پیمرا حکام نے  لاعلمی کا اظہار کیا۔

سینیٹر عائشہ رضا نے اس موقع پر پیمرا حکام سے سوال کیا کہ ‘ہم کس منہ سے کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کریں ہم کیسے کہے کہ وہاں میڈیا کا بلیک آوٹ ہے جب کہ ہمارے ہاں حالات اس سے بدتر ہیں؟’

کمیٹی نے میڈیا سینسر شپ کے حوالے سے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھنے کا فیصلہ بھی کیا ہے، تجویز دی گئی کہ چیف جسٹس آف پاکستان کو سینٹ کی ہول کمیٹی میں دعوت دی جائے گی تاکہ اس اہم مسئلے پر بات چیت ہوسکے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *