Type to search

تجزیہ

مولانا کا آزادی مارچ، کیا خواتین بھی شریک ہونگی؟

  • 14
    Shares

میڈیا رپورٹس کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے صحافیوں کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ ہمارا احتجاج کسی ادارے کے خلاف نہیں ہے۔ 126 دن کا دھرنا دے کر عوام کو اذیت میں نہیں ڈالنا چاہتے۔ یہ دھرنا اس حکومت کے خلاف ایک تحریک کا آغاز ہے۔ ہماری جماعت کی خواتین دھرنے میں شریک نہیں ہوں گی۔ دوسری جماعتیں لانا چاہیں تو کوئی اعتراض نہیں۔

دوسری جانب ن لیگ کی خاتون رہنماء حنا پرویز بٹ نے کہا ہے کہ انکی جماعت کی خواتین دھرنے میں لازمی طور پر شرکت کریں گی۔

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ میں بھرپور شرکت کا اعلان کردیا۔ 

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ۔ ف) کے سربراہ  مولانا فضل الرحمان نے ماڈل ٹاؤن لاہور میں  شہباز شریف سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی جس میں ملکی سیاسی صورتحال اور آزادی مارچ سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔  ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ن لیگ کے صدر و قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے جے یو آئی کے آزادی مارچ میں بھرپور شرکت کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ مولانا کے آزادی مارچ سے متعلق میاں نواز شریف کی ہدایات ہمیں مل چکی ہیں، آزادی مارچ میں 31 اکتوبر کو بھرپور شرکت کریں گے اور وہیں اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان بھی کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کی تباہ کن صارتحال تحریک انصاف حکومت کی ناکامی کا ثبوت ہے، عمران خان بری طرح ناکام ہو چکے اور اپنی ناکامی کی ذمہ داری اداروں پر ڈالنا چاہتے ہیں لیکن قوم یکسو ہے کہ حکومت کو گھر جانا چاہیے اور نئے انتخابات ہونے چاہئیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ اگر (ن) لیگ کو حکومت ملی تو صرف 6 مہینے میں معیشت کو اپنے قدموں پر کھڑا کرکے دکھائیں گے۔

تضحیک اور گالیاں، مذاکرات اور سنجیدگی یہ کبھی اکٹھے نہیں چل سکتے: فضل الرحمان

اس موقع پر سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان کا صدر ن لیگ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 31 اکتوبر کو آزادی مارچ میں شامل ہونے کے فیصلے پر شہباز شریف اور ان کی پارٹی کاشکریہ ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 27 اکتوبر کو کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا دن منائیں گے اور ہم نے 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا ہے، ہم تمام قائدین اور حزب اختلاف کی جماعتوں کی مشاورت سے آگے بڑھنا چاہیں گے اور اگلے اقدامات کا فیصلہ ہم مشترکہ طور پر کریں گے۔

 مولانا فضل الرحمان نے حکومت سے مذاکرات کے امکان کو ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایک طرف مذاکرات کیلئے کمیٹیاں تشکیل دے رہی ہے اور دوسری طرف گالیاں اور تضحیک آمیز رویہ رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تضحیک اور گالیاں، مذاکرات اور سنجیدگی یہ کبھی اکٹھے نہیں چل سکتے، اگر حکومت مذاکرات کیلئے سنجیدہ ہے تو پہلے استعفیٰ دے اس کے بعد اگلے اقدامات کیلئے مذاکرات کر سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ  جمعیت علمائے اسلام (ف) نے 27 اکتوبر کو آزادی مارچ کا اعلان کررکھا ہے جس کی جماعت اسلامی کے علاوہ تمام اپوزیشن کی جماعتوں نے حمایت کی ہے جبکہ آزادی مارچ کے اعلان کے بعد سے ہی ملک میں سیاسی گرما گرمی میں اضافہ ہوگیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان  نے گزشتہ دنوں جمعیت علمائے اسلام (ف) سے مذاکرات کیلئے وزیردفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں کمیٹی بنائی تھی تاہم اس کے اگلے روز ہی وزیراعظم نے تقریب سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان کا نام لیے بغیر تنقید کا نشانہ بھی بنایا تھا۔

فضل الرحمان کیوں دھرنا دینا چاہتے ہیں؟

25 جولائی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی ، معاشی بدحالی اور حکومتی ناہلی کے خلاف جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 27 اکتوبر سے حکومت کیخلاف اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کرنے کا اعلان کررکھا ہے۔

19 اگست 2019 کو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) اسلام آباد میں ہوئی جس میں مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کے قائدین شریک ہوئے۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کمر کے درد اور پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پارٹی دورے کے باعث اے پی سی میں شریک نہیں ہوئے۔

اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمان نے حزب اختلاف کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب اس بات پر متفق ہیں ملک کو مختلف بحرانوں سے دوچار کردیا گیا ہے، اس وقت پاکستان کی سلامتی کو خطرہ ہے اور حکومت کی ایک سالہ کارکردگی کے نتیجے میں ملک کو کئی بحرانوں کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاشی صورتحال انتہائی ابتر ہے، معاشی بدحالی سے روس ٹکرے ہوگیا اور ہمیں ایسے ہی حالات کا سامنا ہے، ملک میں قومی یکجہتی کا فقدان ہے، ملک کا ہر طبقہ پریشانی میں مبتلا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کل تک ہم سوچ رہے تھے، سری نگر کیسے حاصل کرنا ہے؟ آج ہم یہ سوچ رہے ہیں کہ مظفر آباد کیسے بچانا ہے؟ عمران کہتا تھا مودی جیتے گا تو کشمیر کا مسئلہ حل ہوگا، موجودہ حکمران کشمیر فروش ہیں اور ان لوگوں نے کشمیریوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔

سربراہ جے یو آئی نے الزام عائد کیا کہ ہم عالمی سازش کا شکار ہیں اور ہمارے حکمران اس کا حصہ ہیں، جب تک میں کشمیر کمیٹی کا چیئرمین رہا تو کشمیر کو کوئی نہیں بیچ سکا لیکن میرے جانے کے بعد کشمیر کا سودا کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اے پی سی میں اتفاق کیا ہے کہ سب اکٹھے اسلام آباد آئیں گے اور رہبر کمیٹی ایک ہفتے میں چارٹر آف ڈیمانڈ دے گی تاکہ جب اسلام آباد کی طرف آئیں گے تو ہمارے پاس متفقہ چارٹر آف ڈیمانڈ ہو۔

فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن آج سے حکومت کے خلاف تحریک کی طرف بڑھ رہی ہے، ان حکمرانوں کو ہٹانے کیلئے قوم ہمارا ساتھ دے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہمارے لاک ڈاؤن میں عوام آئیں گے، انہیں کوئی نہیں اٹھا سکتا، ہمارے لوگ عیاشی کیلئے نہیں آئیں گے اور ہر سختی برداشت کرلیں گے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Next Up