Type to search

تجزیہ سیاست فيچرڈ میڈیا

پی ٹی آئی کی جانب سے ایک مرتبہ پھر آزادئ صحافت پر حملہ

حکومتِ وقت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ تنقید سے کچھ سیکھنے کو تیار ہی نہیں ہیں۔ الٹا جو تنقید کر رہا ہو، اسے لفافہ اور ’مافیا‘ جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے۔ ان کا غالباً خیال ہے کہ کوئی بھی صحافی اگر عمران خان صاحب کی مداح سرائی نہیں کر رہا تو اس کی ایک ہی وجہ ہو سکتی ہے کہ ان کے کوئی ’مفادات‘ ہیں جن کو ’ضرب لگ رہی ہے‘۔

ایسا نہیں ہے کہ سیاسی جماعتوں کے پسندیدہ صحافی نہیں ہوتے یا صحافیوں کی پسندیدہ جماعتیں نہیں ہوتیں۔ مگر کوئی سیاسی جماعت اپنے سرکاری پلیٹ فارم سے اس طرح صحافیوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کرتی جس طرح پی ٹی آئی یہ کام آئے روز کرتی پائی جاتی ہے۔

اب سے چند ماہ قبل بھی صحافیوں کے خلاف اسی طرح کا پراپیگنڈا اسی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے دیکھنے میں آیا تھا۔ اور اب ایک مرتبہ پھر آفیشل اکاؤنٹ سے حامد میر اور عاصمہ شیرازی کے خلاف ویڈیو بنا کر اپلوڈ کی گئی ہے۔ عاصمہ شیرازی کی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے مولانا کے دھرنے کی ناکامی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ازراہِ مذاق ’خدانخواستہ‘ کا لفظ استعمال کیا تھا۔ اور حامد میر نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں بات کرتے ہوئے سینسرشپ اور آزادئ صحافت پر لگنے والی قدغنوں کے خلاف مزاحمت کے لئے وکلاء، صحافتی تنظیموں، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے اکٹھے ہونے پر زور دیا تو ان کو بھی اسی ویڈیو میں رگید دیا گیا۔

حامد میر وہ صحافی ہیں جن پر مسلم لیگ کے حمایتیوں کی جانب سے اکثر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ عمران خان کے حد سے زیادہ قریب ہیں۔ لیکن ان کی طرف سے سینسرشپ کے خلاف مزاحمت کی بات بھی حکومتِ وقت کو گوارا نہیں۔

یہ فسطائیت نہیں تو کیا ہے؟ کیا صحافی سینسرشپ کے خلاف مزاحمت کرنے کی بات بھی نہیں کر سکتے؟ ایک طرف مریم نواز کی پریس کانفرنسز اور جلسے جلوسوں کی کوریج پر پابندی لگائی گئی، اور اب مولانا فضل الرحمان کی کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمی کو دکھائے جانے پر پابندی ہے، لیکن کوئی بات کرے تو اسی پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی جاتی ہے۔

تحریکِ انصاف کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے اداروں کی طرح اسے بھی اپنے image کی بجائے اپنے کام پر توجہ دینا ہوگی۔ کام ٹھیک ہوگا تو حامد میر اور عاصمہ شیرازی آپ کے خوابوں میں آ کر ڈرانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ اور کام ٹھیک نہیں ہوگا تو پھر چاہے چرند پرند بھی آپ کے گن گانے لگیں، عوام الناس جب اپنی موٹر سائیکل میں 50 روپے کا 400 ملی لیٹر پٹرول ڈلواتے ہیں تو ان کی زبان سے جو القابات آپ کے لئے نکلتے ہیں، یقین کریں آپ کتنا بھی گر جائیں، وہ الفاظ ان صحافیوں کے لئے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے نہیں لکھ سکتے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *