Type to search

تجزیہ فيچرڈ

ایک فراموش کردہ نسل

برطانیہ میں سنہ2011 میں کروای گئی مردم شماری کے مطابق جنوبی ایشیائی (بھارت، پاکستان اور بنگلادیش) نژاد شہریوں میں 16.3 فیصد افراد 65 برس یا اس سے اوپر کی عمر میں پہنچ چکے ہیں۔

باوجود آبادی کا اتنا بڑا حصہ ہونے کے، نہ تو جنوبی ایشیائی سماجی حلقوں میں اور نہ ہی صحت کے اداروں کی جانب سے اس طبقے کی صحت بارے کسی قسم کی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ نتیجتا” ان بزرگوں کو بڑھتی ہوئی تنہائی اور نفسیاتی مسائل کا سامنا ہے۔

اس صورت حال کے پیش نظر میں نے فیصلہ کیا کہ برطانیہ میں بزرگوں کی ذہنی صحت کے مسائل کا تجربہ رکھنی والے ماہرین سے کچھ راہنمائی لی جائے۔ چنانچہ میں نے اولڈ ایج کنسلٹنٹ اور ماہر نفسیاتی امراض ڈاکٹر راشدہ تبسم سے رابطہ کیا جو کہ نیشنل ہیلتھ سروس(NHS) کے توسط سے سیاہ فام، ایشیائی اور اقلیتی نسلوں سے تعلق رکھنی والے باشندوں (BAME community) کے ساتھ گذشتہ دو دہاہیوں سے عرصہ سے کام کر رہی ہیں اور اس سلسلے میں وسیع تجربہ کی حامل ہیں۔

مقصد یہ تھا کہ ڈاکٹر تبسم سے گفت وشنید کے ذریعے برطانیہ میں متذکرہ بالا اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے بزرگ باشندوں کے ذہنی امراض اور ان کے حل کے حوالے سے این ایچ ایس میں موجود سہولیات کا بہتر فہم حاصل کیا جا سکے۔

ڈاکٹر تبسم کے مطابق جنوبی ایشیائی بزرگ باشندوں کو ہر سطح پر نظرانداز کیے جانے کے رجحان کے نتیجے میں ان کی دیکھ بھال اور ذہنی امراض کے علاج کے حوالے سے مسائل میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔

ان بزرگوں کی دیکھ بھال میں غفلت کا اولین مظاہرہ ان کے اپنے متعلقہ سماجی طبقے (اہل خانہ، رشتہ دار وغیرہ) کی سطح پر دیکھنے میں آتا ہے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جنوبی ایشیائی باشندوں میں ذہنی صحت کے مسائل بارے عمومی معلومات کی کمی اور شعور کا فقدان پایا ہے،علاوہ ازیںان کے نزدیک ذہنی امراض کا کوئی وجود ہی نہی(ابھی تک جنوں بھوتوں اور بدروحوں کا تصور کافی گہرا ہے) یوں وہ اس موضوع کو زیر بحث لانے سے بھی قاصر ہیں۔

ذہنی دباو سے لیکر یادداشت کے فقدان یا نسیان جیسے امراض کو اکثروبیشتر نظر انداز کرنے کے ساتھی ہی محض”شکایت کی عادت” اور “بھول جانے کا معمول” کہہ کر در خور اعتناہی نہیں سمجھا جاتا۔ ایک اور مسئلہ خاندانی عزت وقار کا بھی ہے کیوں کہ ذہنی امراض کو قابل شرم سمجھ کر انہیں نہ صرف لوگوں سے چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے بلکہ انہیں موضوع گفتگو بنانے سے احتراز کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ ایک مسئلہ روایتی اقدار سے انحراف کا بھی ہے کیونکہ جنوبی ایشیائی لوگوں میں روایتی خاندانی نظام تیزی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے۔ پرانی نسل کے افراد کیلئے مربوط خاندانی نظام بہت اہمیت رکھتا تھا اب جب کہ مغربی انڈسٹریل معاشرے کے دباؤ کے سامنے یہ مشرقی اقدار دم توڑ رہی ہیں، بزرگ لوگ ذہنی کرب کا شکار ہونے کے نتیجے میں تیزی سے ذہنی امراض کی لپیٹ میں آ رہے ہیں کیونکہ وسیع خاندانی نظام کی جگہ مختصر واحد اکائی(nuclear)خاندانی نظام فروغ پا رہا ہی اس لیے ان بزرگوں کو نہ صرف سماجی بیگانگی کا سامنا ہے بلکہ ان کی دیکھ بھال کے حوالے سے مسائل بڑھ رہے ہیں اور ان کے حل کے لیے کوئی مربوط کوشش بھی نہیں ہو رہی۔

ان بزرگ ایشیائی لوگوں کا مسئلہ، جو کہ اب تنہائی کی زندگی گزار رہے ہیں، محض ذہنی دباؤ ہی نہیں بلکہ ان میں نسیان(الزئمر) یا حافظے کی کمزوری جیسے امراض بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں جنہیں اکثر در خور اعتناء نہیں سمجھا جاتا۔

تنہائی کی زندگی گزارنے والے ان افراد میں نسیان جیسے امراض کا واضح اظہار اکثر ان کی جسمانی صحت سے ہوتا ہے، کیوںکہ ان بزرگوں کو اکثر اپنی خوراک اور ادویات وقت پر لینا یاد نہیں رہتا اور نہ ہی اردگرد کے ماحول اور خود اپنی صحت و صفائی کا ہوش رہتا ہے اس لیے ان کی حالت روز بروز خستہ ہوتی چلی جاتی ہے۔

علاوہ ازیں اس صورت حال کے ساتھ رویوں میں آنے والی تبدیلی کے نتیجے میں ان لوگوں کو بھی ان بزرگوں کی جھنجھلاہٹ کا شکار بننا پڑ سکتا ہے جو کہ ان کی مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔

خاندان کے لوگوں کو ہوش اس وقت آتا ہے جب ان کی صحت حد سے زیادہ بگڑ چکی ہوتی ہے اور روایتی ٹوٹکے بھی کام نہیں آتے اور اس وقت پیشہ وارنہ معالج صحت سے رجوع کرنے کے سوا کو چارہ نہیں رہ جاتا۔

جیسا کہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ اکثر ایشیائی بوڑھوں میں ذہنی امراض کی علامات ان کے جسمانی مسائل کی صورت میں ظاہر ہو تی ہیں، مثلاً تھکاوٹ اور درد کے متواتر احساس کے ساتھ ہی وزن میں کمی وغیرہ جو کہ ان کے ذہنی امراض کا واضح اظہار نہیں کرتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں اس امر کی تعلیم ہی نہیں جاتی کہ وہ ذہنی امراض کا واضح طور پر ادراک کر سکیں۔

ذہنی امراض کے مسائل سے چشم پوشی کے علاوہ ان کی شدت یا پیچیدگی کا ایک اور سبب یہ ہے کہ عام معالجین میں ان امراض کے بارے میں تربیت کی کمی ہوتی ہے کہ نظر آنے والی خستہ جسمانی حالت کے پسِ پردہ ذہنی عوارض جیسے محرکات کار فرما ہو سکتے ہیں۔

بہت سے معالجین میں ذہنی عوارض کی تشخیص کے حوالے سے مختلف ثقافتوں اور سماجی رویوں میں تفریق کرنے کی اہلیت بھی موجود نہیں ہوتی۔ چنانچہ ایک معالج کے پاس جا کر معائنہ کروانے کے عمومی طور پر دو نتائج ہو سکتے ہیں، ایک تو یہ کہ مسلئے کا ادراک ہی نہ کیا جاسکے یا پھر غلط پیغام رسانی کے بعد مریض کو کسی غیر متعلقہ شعبہ صحت یا ماہر صحت کے پاس بھیج دیا جائے۔

ڈاکٹر راشدہ تبسم نے ایسے غلط طریقوں کی نشاندہی کی جن کے تحت کسی معالج کی تربیت میں کمی کا نتیجہ مریض کیلئے مسائل پیدا کرسکتا ہے۔  اس حوالے سے انہوں نے چند مثالیں پیش کیں۔ انہوں نے ایک ایسے مریض کی مثال دی جو سکیزوفرینیاschizophrenia’)میں مبتلا ہونے کی وجہ سے انجانی وسوسوں(paranoia) کا شکار رہتا تھا۔

جب اس مریض سے، جس کا تعلق سکھ برادری سے تھا، پوچھا گیا کہ وہ اپنے اہل خانہ کو خوف و ہراس کا نشانہ کیوں بنا رہا تھا تو اس نے جواب دیا” اپنے خاندان کے افراد کی نقل وحرکت پر نظر رکھنا کوئی غیر معمولی عمل نہیں” اور یہ کہ یہ عمل اس کی اس کے ثقافتی اقدار کا آئینہ دار ہے نہ کہ کسی ذہنی مرض کا۔

جب اس سے یہ پوچھا گیا کہ وہ اپنے بستر کے نیچے کرپان کیوں رکھتا ہے تو جواب ملا کہ “یہ سکھوں کی روایت ہے’۔

اس کے مرض کی اکثر علامات اس کی ثقافتی روایات کی مسخ شدہ اشکال کی صورت میں ظاہر ہوتی تھی۔ اگرچہ ذہنی مریض کا ناطہ اکثر و بیشتر ثقافت سے جوڑ دیا جاتا ہے، تاہم تشخیص اور علاج میں رکاوٹ کا عنصر عموماً معالج میں اس اہلیت کا فقدان ہوتا جس کی بدولت وہ ذہنی عوارض کا تعین کسی مخصوص ثقافت کے تناظر میں کر سکے۔

یہ ایسی بہت سی مثالوں میں سے ایک مثال ہے جو اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ ثقافتی عوامل کے ادراک کی تربیت سے محروم معالجین ثقافت اور ذہنی امراض کے مابین ربط کی نشاندھی نہ کر سکنے کی بدولت علامات کی مناسب طریقے سے تشخیص کرنے اور یوں علاج کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

ذہنی صحت کے شعبے کی یہ واحد ناکامی نہیں ہے۔ اس شعبے سے رجوع کرنے والے مریضوں کو ایک ایسی صورتحال سے دو چار ہونا پڑتا ہے جسے ڈاکٹر راشدہ تبسم “ شعبہ صحت کی اختراع کردہ تنہائی” کا عنوان دیتی ہیں۔

اس کی وضاحت کرنے کے لیے انہوں نے ایک واقعہ سنایا۔ ان کے مطابق ذہنی دباو کے شکار جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے ایک ریٹائرڈ ڈاکٹر کو ذہنی امراض کے وارڈ میں لایا گیا، جہاں ڈاکٹر تبسم فرائض انجام دے رہی تھیں۔ ذہنی دباو کے باعث وہ روانی سے انگلش بولنے سے قاصر تھا، جس کے نتیجے میں نہ صرف مریض اور کلینیکل سٹاف کے درمیان با معنی گفتگو تقریبا” ناممکن تھی، علاوہ ازیں وارڈ میں ہونے والی سرگرمیوں مثلاً بنگش”Bingo” وغیرہ میں شرکت کرنے سے وہ نہ صرف معذور بلکہ ناراض تھا کیونکہ یہ سب اس کی ثقافت سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔

اس کے علاوہ اس نے بےرنگ اور بے ذائقہ قسم کی خوراک کھانے سے بھی انکار کردیا جو اس کو ہسپتال میں مہیا کی جاتی تھی اور یوں کچھ عرصے میں وزن میں کمی کا بھی شکار ہو گیا۔ اس صورتحال کی بدولت ذہنی دباؤ سے صحتیابی کا عمل سست روی کا شکار ہو گیا۔ مالی وسائل میں کمی کی وجہ سے ہمہ وقت مترجم کی سہولت بھی دستیاب نہ تھی، جس کو اس مریض کی ضروریات کو سمجھنے کیلئے معاوضے پر رکھا جا سکتا۔

اس مشکل صورت حال کے باوجود ڈاکٹر تبسم کا یقین ہے کہ ایسے طریقے موجود ہیں جن کو بروئے کار لا کر ہم خدمات کے معیار میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ ذہنی امراض کے شکار ان تمام جنوبی ایشیائی باشندوں بلخصوص معمر افراد کیلئے بہتر مواقع فراہم کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔

اس حوالے سے اولین قدم جنوبی ایشیاء سے تعلق رکھنے والے تمام سماجی طبقات میں ذہنی صحت کے مسائل کا شعور اجاگر کرنا ہو گا۔ مثال کے طور پر چونکہ معمر افراد اپنا زیادہ تر وقت مذہبی مقامات پر گزارتے ہیں اور اپنے مذہبی رہنماؤں پر اعتماد کرتے ہیں اس لیے متعلقہ مذہبی رہنماؤں کی اس حوالے سے تعلیم و تربیت بہت اہمیت رکھتی ہے۔

اسی طرح سکولوں میں بچوں کو بھی اس حوالے سے تربیت دینا ضروری ہے تاکہ وہ اپنے والدین یا دادا/ دادی، نانا/ نانی میں ذہنی عوارض کی علامات کو شناخت کرنے کے قابل ہو سکیں جبکہ جنوبی ایشیائی کلچر میں ذہنی مرض کو باعث شرم سمجھا جاتا ہے اس لیے اس حوالے سے گفتگو کو معمول کی گفتگو کے طور پر اجاگر کرنا ایک موثر عمل ثابت ہو گا جس کی بدولت ذہنی امراض کے شکار افراد کی بہتر معاونت ہو سکے گی۔

ڈاکٹر راشدہ تبسم نے اس حوالے سے دوسری اہم تجویز بھی پیش کی، کہ برطانیہ کے رائل کالج آف سئکائٹرسٹس کو اپنے نصاب میں “نسلی اقلیتوں میں ذہنی امراض کی تشخیص “بارے تربیت شامل کرنے کے ساتھ ایسے مسائل سے نمٹنے کی اہلیت میں اضافے کے حوالے سے بھی اقدام کرنے چاہیں۔ یہ اقدامات معمر افراد کے ان حلقوں میں زیادہ مفید ثابت ہوں گے، بات چیت میں رکاوٹ سے غلط تشخیص کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں عام معالجین(GPs) کا ثقافتی معاملات کے حوالے سے تربیت یافتہ ہونا ضروری ہے، اکثر مریضوں سے پہلے ان سے رابطہ کرتے ہیں۔ ثقافتی علامات کی مہارت/ اہلیت اتنی سادہ قسم کی مہارت ہے جس کو باآسانی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

آخری بات یہ کہ ذہنی امراض کے وارڈز کا ماحول دوست ہونا ضروری ہے، معمر افراد کیلئے، جو انگریزی نہیں بول سکتے، مترجم کی ہمہ وقت موجودگی ضروری ہے، اس کے ساتھ ہی سیاہ فام، ایشیائی اور نسلی اقلیتوں (BAME) سے تعلق والے عملے کی تعداد میں اضافہ بھی تاکہ مریض ان سے بات چیت کر سکیں جو ان کی ضروریات کا ادراک کر سکیں۔

علاو ازیں ثقافتی حوالے سے زیادہ حساس خدمات کی فراہمی کی بھی ضرورت ہے تاکہ معمر ایشیائی افراد کو بیگانگی کا احساس نہ ہو اور یوں ان کی جلد صحت یابی ہو سکی۔ اس کے علاوہ مختلف ثقافتوں کی عکاسی کرنے والے کھانوں، تفریحی پروگراموں کی فراہمی اور دیگر سرگرمیوں کا فروغ بھی ضروری ہے۔

وقت آگیا ہے کہ اس فراموش کردہ نسل کو سنا اور دیکھا جائے اور ان کے ذہنی عوارض کے علاج میں معاونت کی جائے۔

مترجم: اعزاز باقر

 

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *