Type to search

تجزیہ حکومت

الله کو جان دو گے اب؟

  • 159
    Shares

انیس جنوری دو ہزار انیس کو ساہیوال کے قریب پنجاب کے انسداد دہشت گردی ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)کے اہلکاروں نے صبح سویرے ایک پرانی آلٹو کار روکی اور بغیر کسی پوچھ گچھ کے براہ راست فائرنگ کر کے تین کم سن بچوں کے سامنے انکی ماں باپ بہن اور ڈرائیور ذیشان کو موقع پر ہی بھون ڈالا اور بے یار و مددگار  بچوں کو ایک پیٹرول پمپ پر چھوڑ کر بھاگ لئے۔

سی ٹی ڈی نے ابتدائی طور پر کہا کہ ہلاک کئے جانے والے بچوں کے اغوا کار تھے، لیکن جب بچ جانے والے ایک بچے نے اپنے ویڈیو انٹرویو میں تفصیلات بتائیں تو سی ٹی ڈی والوں نے پینترا بدلہ اور بیان داغا کہ ڈرائیور ذیشان  ایک خطرناک دہشت گرد تھا اور اسکا تعلق آئی ایس آئی ایس اور داعش نامی خطرناک تنظیموں سے ہے اور وہ ایک بڑی تباہی اور خطرناک کارووائی کرنے جا رہا تھا۔

وفاقی وزرا جو آج تک ہر معاملے پر بیان بازی سے نہیں چوکتے، نے کہا کہ کارروائی سے بڑے جانی اور مالی نقصان سے بچت ہوئی۔

ہر بار ایسی ہر کاروائی پر ’’الله کو جان دینی ہے‘‘ کا پرچار کرنے والے وزیر مملکت شہریار آفریدی نے قومی اسمبلی میں تقریر کے آغاز پر قرانی آیات کی تلاوت کی  پھر آئین پاکستان میں عوام کی زندگی کو تحفظ  دینے کے حوالے دیے اور کہا کہ "اگر وہ ان بچوں کو انصاف نہ دلا سکے تو عہدہ چھوڑ دیں گے۔ کیوں کہ ’’الله کو جان دینی ہے‘‘۔

ابھی جسم میں جان باقی ہے اور اب تک شہریار آفریدی درجنوں ایسے مواقعوں پر ” الله کو جان دینی ہے ” کا منتر پڑھ چکے ہیں اور ہر بار یہی ہوا کہ ظالم بچ گیا اور مظلوم برباد اور در بدر ہو گیا۔جب یہ واقعہ ہوا تو میں نے اپنے ایک ویڈیو بلاگ میں انیس سو بانوے کے  ٹنڈو بہاول کیس کا حوالہ دیا تھا جس میں   حیدرآباد کے قریب رینجرز کے ایک افسر میجر ارشاد جمیل نے سات افراد کو ڈاکو قرار دیکر مار ڈالا تھا، اسے اس وقت اتنی بڑی کامیابی قرار دیا گیا کہ اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو حیدرآباد لیجایا گیا اور بھاری مقدار میں اسلحہ کی برآمدگی دکھائی گئی اور سندھ میں ڈاکووں کے خلاف کامیاب آپریشن کی داستان گھڑی گئی لیکن سانحے میں دو بیٹوں اور ایک داماد اور چار قریبی رشتہ داروں سے محروم ہو جانے والی ایک بوڑھی عورت مائی جندو اور اسکی دو جواں سال بیٹیاں انصاف کے حصول کے لئے کھڑی ہو گئیں، انصاف کا حصول اتنا مشکل طویل  اور جان لیوا ثابت ہوا کہ اس دوران مائی جندو کی دونوں بیٹیاں ہمت ہار گئیں اور انہوں نے حیدرآباد پریس  کلب کے باہر خود سوزی کر لی اور جان دے ڈالی۔

لیکن بوڑھی مائی جندو ہمت نہ ہاری اور انصاف کے حصول کے لئے کھڑی رہی، کیوں کہ اسے پتہ تھا کہ میجر ارشد زمین کے جھگڑے کو ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کا رنگ دیکر بااَثر افراد کا ساتھ دیا اور غریب کسانوں کو دریا کے کنارے کھڑا کر کے مر ڈالا۔ مائی جندو نے انصاف کے لئے ہر دروازہ کھٹکھٹایا ، جب انصاف ملتا دیکھائی نہ دیا تو اس نے بھی دھمکی دے ڈالی کہ یا انصاف دو یا میری لاش لو’ ، آخر ہمت، عظمت اور جرات کی پیکر مائی جندو کو انصاف ملا اور میجر ارشاد  کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔

ساہیوال کے سانحہ کے وقت بھی ایک ماں تھی جو سامنے تو ضرور آئی ڈرائیور ذیشان کی ماں، اور میرا خیال تھا کو وہ مائی جندو بن کر دکھائی گی لیکن اسے بہت جلد خاموش کروا دیا گیا، نہ جانے کیوں اور کیسے اور کس نے؟

پھر خیال تھا کہ معصوم تین بچوں کے چچا خلیل ہمت کا پیکر بن کر کھڑا رہے گا اور اپنے بھائی بھابھی، بھتیجی کے قاتلوں کو پھانسی کے تختے تک لے جا کر ہی دم لے گا، کیوں کہ وہ بار بار یہی بڑھک مار رہا تھا کہ پیسے ہم سے لے لو، ہمیں بچوں کے ماں باپ اور بہن واپس کر دولیکن مدینے کی ریاست میں اب یہ کہاں ممکن ؟

کیا مدینہ کی ریاست میں یہی ہوا کرتا تھا کہ لوگوں کی زندگیوں، عصمتوں اور عظمتوں کے رکھوالے اتنی آسانی سے لوگوں کی زندگیوں سے کھیلیں گے؟ کیا مدینہ کی ریاست میں انصاف ایسے دیا جاتا تھا کہ مظلوموں کی آنکھوں پر  پٹی باندھ دی جائے کہ وہ اپنے خاندان، اپنے پیاروں کے قاتلوں کو پہچان ہی نہ سکیں؟ وہ کونسی پٹی تھی جس نے اس بچے کی آنکھوں کو چندھیا دیا کہ جنہیں اس نے خود فائرنگ کرتے دیکھا لیکن وقت آنے پر وہ اسے پہچان نہ سکا۔

اس کے چچا خلیل کو کس نے گونگا بنا دیا کہ اب وہ نہ بولتا ہے، نہ سن سکتا اور نہ ہی اب دیکھ سکتا ہے کہ اسکے سگے بھائی کے معصوم بچے جن میں دو کم سن بچیاں بھی ہیں یتیم ہو چکے ہیں اور مجرم انسداد دہشت گردی کی عدالت سے با عزت بری ہو گئے۔

یہ کیسا انصاف کا نظام ہے کہ تمام شواہد بتا رہے تھے کہ یہ ایک خاندان کا قتل ہوا اور قتل کرنے والے ریاست کے اپنے با وردی کارندے تھے،  ساہیوال سانحہ نے ملک میں انصاف کے نظام پر ایک بار پھر سوالات اٹھا دے ہیں کہ کیا اس ملک میں جسے اب مدینےکی ریاست بنایا جا رہا ہے وہاں بھی قاتل مقتولوں کی لاشوں پر اس طرح دندناتے پھریں گے، جس طرح پچھلی حکومتوں میں ہوتا تھا جنہیں تحریک انصاف کی حکومت کرپٹ اور ناسور قرار دیتی ہے، تو کیا اب تک جو واقعات ایک سال میں ہو چکے ہیں وہ پچھلے ادوار سے مختلف ہیں؟ کیا قانون  شہادت وہی رہے گا جسکا فائدہ ہمیشہ مجرموں نے اٹھایا ؟

اور ہاں یہ الله کو جان دینے والے وزرا کبھی یہ سیکھیں گے کہ انہیں اپنی توجہ پھڑ بازی اور غیر ضروری بیان بازی کے بجائے، جرائم کے خاتمے پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے؟

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *