Type to search

بلاگ تجزیہ تعلیم جمہوریت سیاست

غیر سیاسی طلبہ کی سیاست میں دلچسپی کیوں ناگزیر ہے؟

  • 73
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    73
    Shares

میری ایک کزن (جن کا تعلق ملتان سے ہے) مجھے اکثر کہا کرتی تھیں کہ تم لوگ سڑکوں پر کیوں نکلتے ہو؟ احتجاج کرتے ہو، طلبہ سیاست کرتے ہو اور صرف مسائل پر تحریریں لکھتے اور تقریریں کرتے ہو۔ تم ہمیشہ منفی سوچتے ہو۔ تمہیں مثبت چیزیں نظر کیوں نہیں آتیں۔ پاکستان میں بہت سی خوبصورت چیزیں ہیں جن کے فضائل بیان کئے جاسکتے ہیں۔ جس پر میں کہا کرتا تھا کہ مری میں مارگلہ کی پہاڑیوں، گلگت میں قراقرم کی چوٹیوں اور کشمیر میں سرسبزو شاداب میدانوں کے سوا واقعی کچھ اچھا نہیں۔ اور اگر ہے بھی تو اسے مزید اچھا کرنے کی ضرورت ہے۔ پھر وہ روایتی مثبت کہانیاں سناتی تھیں جو کہانیاں ہمارے ڈی جی آئی ایس پی آر مثبت رپورٹنگ کے بارے میں سنایا کرتے ہیں۔

خیر میری اس کزن کا داخلہ پنجاب یونیورسٹی میں ہو گیا۔ یہاں وہ غیر سیاسی سرگرمیوں کے بغیر مثبت سوچتے ہوئے تعلیم حاصل کر رہی تھیں کہ ایک دن مجھے ان کا فون آیا کہ ہمیں داخلہ ملنے کے ڈیڑھ ماہ بعد یونیورسٹی سے نکال دیا گیا ہے۔ ہاسٹل خالی کرنے کا کہا گیا ہے اور فیسوں کی واپسی سے بھی انکار کر دیا گیا ہے۔ اس پر احتجاج کرنا ہے، دھرنا دینا ہے، میڈیا سے رابطہ کرنا ہے یا کالمز لکھنا ہے کچھ بھی کرو مگر میں واپس نہیں جانا چاہتی، مجھے تعلیم حاصل کرنی ہے۔

ایسے کون سے مسائل ہیں جنہوں نے طلبہ کو ایسا سوچنے  پر مجبور کیا وہ میں بعد میں بیان کروں گا مگر اس سے قبل ان مسائل کی وجوہات کو زیرِ بحث لانا ضروری ہے۔

حالیہ بجٹ کے بعد ایچ ای سی سمیت مجموعی تعلیمی بجٹ زیادہ کرنے کے بجائے کم کر دیا گیا۔ تعلیمی بجٹ بڑھانے کی دعویدار حکومت نے ایچ ای سی کا بجٹ ریکارڈ 17 فیصد کم کر دیا، جامعات کو اپنے فنڈز خود جنریٹ کرنے اور چندوں سے اداروں کو چلانے کی تنبہیہ کی گئی۔ بہت سی جامعات کو نجی ملکیت میں دینے کا  ظالمانہ فیصلہ کیا گیا۔ حکومت کی عدم دلچسپی نے جامعات کو کھلی چھٹی دے دی کہ وہ جیسے چاہیں ان فنڈز کو پورا کریں اور بجٹ میں کی گئی کمی کو بروئے کار لاتے ہوئے طلبہ کے مستقبل کا فیصلے کریں۔

ان بجٹ کَٹس سے براہ راست طلب کا نقصان کیا گیا جس کی بنا پر فیسوں میں 100 فیصد تک اضافہ ہوا، بہت سی ڈگریوں کو بند کر دیا گیا۔ ایم فل، پی ایچ ڈی کے داخلے سمیت بی ایس اور ایم اے کے داخلوں کی تعداد میں خاطر خواہ کمی لائی گئی۔ تحقیق اور نئے مقالہ جات کیلئے بجٹ کم کر دیا گیا۔ ساتھ ہی ساتھ ملکی اور غیر ملکی حکومتی سکالرشپس بھی ختم کر دی گئیں۔

ایسا کرنے سے بھی جب بجٹ کنٹرول نہ ہو سکا تو انتظامیہ نے مختلف بالواسطہ ہتھکنڈوں سے طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے کا فیصلہ کر لیا۔ جن کی حالیہ مثال پنجاب یونیورسٹی کے ایل ایل بی پارٹ 3 کے ایک پرچہ سی پی سی (سول پروسیجرل کوڈ) کو حدف بنا کر تقریبا 80 فیصد طلبہ کو اس میں فیل کر دیا گیا۔ جن میں وہ طلبہ بھی شامل ہیں جن کی زندگی میں کبھی سپلی نہیں آئی یا جو پاس ہونے کی امید لگائے اپنی عملی زندگی کا آغاز کر چکے تھے۔ پرائیویٹ پڑھنے والے طلبہ کو یہ ایک پرچہ فیل کرنے کی بنا پر ایک نہیں بلکہ تمام پرچوں کی فیس ادا کرنا ہوگی جبکہ سرکاری تعلیمی اداروں کے طلبہ سپلی کی فیس ادائیگی کی صورت یونیورسٹی کے بجٹ میں اضافہ کریں گے۔

یہ مسئلہ صرف فیسوں تک محدود نہیں بلکہ پرچوں کی چیکنگ اور مارکنگ پر بھی سوالات اٹھاتا ہے، یعنی پیپر کون چیک کرتا ہے؟ اس چیکنگ کا کیا پیمانہ ہے؟ اور سی ایس ایس کی طرح وکالت کے طلبہ کا بھی صرف ایک پرچہ ہی کیوں حدف بنایا جاتا ہے؟ میری تحقیق کے مطابق ایک پرچہ کی چیکنگ کے 30 سے 50 روپے دیے جاتے ہیں اور ایک پرچہ کو حل کرنے کا وقت اوسطاَ تین گھنٹے جبکہ اسے چیک کرنے کا وقت دو سے پانچ منٹ ہے۔ اسی لئے طلبہ پرچہ حل کرتے وقت کوالٹی کی بجائے کوانٹیٹی کو مد نظر رکھتے ہیں۔ کوالٹی کو ملحوظ خاطر رکھنے والے طلبہ فیل ہو جاتے ہیں۔

یہاں دوبارہ بجٹ کا مسئلہ ہے کہ یونیورسٹیوں کے پاس افرادی قوت کی کمی ہے یا پیپر چیکنگ کے عمل کو بہتر بنانے کے لئے وسائل موجود نہیں۔ علاوہ ازیں یہی سمجھا جائے کہ بجٹ کی کمی کی صورت یونیورسٹیاں اپنی سرپرستی میں ایسا کرواتی ہیں تا کہ سپلی کی مد میں ان کے پاس پیسے آ سکیں اور وہ یونیورسٹی کے امور چلا سکیں۔

ان بج کَٹس کو مد نظر رکھتے ہوئے بہت سی جامعات نے اپنے بی اے نتائج کو روکے رکھا تا کہ طلبہ کسی اور یونیورسٹی میں داخلہ نہ لے سکیں یا سیٹوں کی مجموعی کمی کے باعث وہ تعلیم چھوڑ دیں۔ ایسے میں حالیہ مثال بہاؤالدین زکریہ یونیورسٹی ملتان کی ہے جہاں بی اے کے نتائج کا اعلان پنجاب یونیورسٹی کے داخلے کی تاریخ گزرنے کے بعد کیا گیا۔ ایسے میں ان طلبہ ( جنہیں پنجاب یونیورسٹی میں پڑھنا تھا) نے بی اے کے نتیجے کا خانہ خالی چھوڑ کر اپنے داخلے کی درخواست جمع کروائی اور کئی طلبہ نے اندازے کے طور پر نمبر لکھے اور نتائج کے اعلان کے بعد حقیقی رزلٹ کارڈ  پنجاب یونیورسٹی کو ارسال کیا جس کی بنا پر ان کا میرٹ بنایا گیا۔ تقریبا پچاسی طلبہ کو پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ دے دیا گیا۔ کلاسز کے اجرا کے ڈیڑھ مہینہ بعد ان کا داخلہ کینسل کر دیا گیا اور انتظامی غلطی ماننے کی بجائے طلبہ پر غلط بیانی کرنے کے الزامات لگا کر انہیں جامعہ سے فارغ کر دیا گیا اور کسی بھی قسم کے احتجاج پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔

انتظامیہ کی غلطی طلبہ کا گناہ بنا دی گئی۔ ماضی میں اپنے حقوق کیلئے کالی پٹیاں پہن کر کلاسز کا بائیکاٹ کرنے والے اساتذہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ طلبہ اپنے حق کیلئے سیاست نہ کریں۔ طلبہ کے روحانی والدین تصور کئے جانے والے اساتذہ کیسے اپنے بچوں کو جامعہ سے نکال سکتے ہیں۔ ان داخلوں کو ختم کرنے پر جس قانون کا سہارا لیا گیا ہے اصولا اس قانون کا اطلاق طلبہ سمیت انتظامی ڈھانچے میں شامل تمام کلرکوں، شعبہ جات کے پرنسپلز اور داخلہ کمیٹی پر بھی ہوتا ہے، جن کی کوتاہی بہت سے طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھیل رہی ہے۔ اگر طلبہ کو نکالا جاسکتا ہے تو انہیں بھی نکالا جانا چاہیے جنہوں نے اپنی کوتاہی کا حل طلبہ کو جامعہ بدر کرنے میں ڈھونڈ لیا ہے۔

وہ طلبہ جو ہمیشہ غیر سیاسی رہے یا طلبہ سیاست کی مخالفت کرتے رہے انہیں بھی سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یہاں اپنے حقوق کے دفاع کیلئے کھڑے ہونے والے طلبہ کو سیاست کرنے سے تشبیہہ دی جاتی ہے۔ شاید یہ سیاست ہی ہے جو طلبہ کے مستقبل کا فیصلہ کرتی ہے۔ اگر ایسا ہے تو انہیں اس سیاسی عمل سے کاٹا نہیں جاسکتا۔

پیرائسلز کا کہنا تھا کہ “آپ سیاست میں دلچسپی نا رکھیں مگر سیاست آپ میں دلچسپی رکھتی ہے”

ایچ ای سی بجٹ کَٹس سمیت طلبہ کے تمام مسائل سیاسی ہیں تو ان کا حل غیر سیاسی کیسے ہو سکتا ہے۔ ان مسائل سے انفرادی طور پر لڑا نہیں جاسکتا۔ تمام انفرادی آوازوں کو یکجا کرنے کی ضرورت ہے اور یہی سیاسی عمل ہے۔ جہاں ہر طبقہ فکر خود پر ہونے والے استحصال کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو ملک کا حقیقی مستقبل سمجھے جانے والے طلبہ کا اپنے حق کیلئے آواز اٹھانا کسی صورت بھی غلط اقدام نہیں۔ یقینا پاکستان میں ایک بڑی طلبہ تحریک کی ضرورت ہے جو طلبہ پر ہونے والے مظالم اور محرومیوں کا ازالہ کر سکے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *