Type to search

خبریں سیاست فيچرڈ

”پولیس والے میڈیا سے بات نہیں کرنے دے رہے“

لاہور کی انسداد منشیات کی عدالت نے منشیات کیس میں گرفتار سابق وزیر قانون رانا ثنا اللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کردی۔

اسپیشل جج سنٹرل خالد بشیر نے بطور ڈیوٹی جج کیس کی سماعت کی اور رانا ثنا اللہ کو 16 نومبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔ علاوہ ازیں عدالت میں تفتیشی افسر کا کال ڈیٹا ریکارڈ عدالت میں پیش کر دیا گیا۔

سید فرہاد علی شاہ اور اعظم نذیر تارڑ عدالت میں پیش ہوئے رانا ثنا اللہ سے ملاقات کے لیے 15 منٹ کا وقت دے دیں۔جس پر عدالت نے اجازت دے دی بعدازاں رانا ثنا اللہ نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ’پولیس والے دو میگا فون لائے تھے تاکہ میری آواز کو روکا جائے سکے‘۔

اس ضمن میں عدالت کو بتایا گیا کہ ’رانا ثنا اللہ میڈیا سے گفتگو کرنے لگے تو سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکاروں نے فائر اسپیکر پر اونچا اونچا بول کر میڈیا سے گفتگو سے روکا‘۔ انہوں نے بتایا کہ ’تمام راستہ کلیئر ہونے کے باوجود سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکار اونچی اونچی آواز میں بولتے رہے‘۔

سابق وزیر قانون نے عدالت میں کہا کہ ’میں اسلام آباد آزادی مارچ کے حوالے سے گفتگو کرنا چاہتا ہوں لیکن پولیس والے میڈیا سے بات نہیں کرنے دے رہے‘۔ رانا ثنا اللہ نے نواز شریف کی صحتیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔

رانا ثنا اللہ کی کمرہ عدالت میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ہر پاکستانی اور لیگی ورکر کو کہتا ہوں کہ آزادی مارچ میں شرکت کے لیے اسلام آباد پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ اپنے مقاصد مین کامیاب ہوگیا، ہر محب وطن شہری کو آزادی مارچ میں شریک ہونا چاہیے۔

علاوہ ازیں سانحہ تیز گام کے معاملے پر رانا ثنا اللہ نے وزیر اعظم اور شیخ رشید کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 74 شہری ٹرین حادثے میں شہد ہوگئے اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔

رانا ثنا اللہ کی اہلیہ کی میڈیا سے گفتگو

رانا ثنا اللہ کی اہلیہ نے عدالت کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہیں کیونکہ وہ حق اور سچ پر نکلے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’میں سلکینڈ وزیراعظم کو کہتی ہوں آج روک سکتے ہو تو روک لو تبدیلی آگئی ہے‘۔

رانا ثنا اللہ کی اہلیہ نے کہا کہ ’سابق وزیر قانون کی صحت سب کے سامنے ہے، جب اللہ کا انصاف ہوگا ہمارے مخالفین نظر نہیں آئیں گے‘۔

رانا ثنااللہ کی گرفتاری

یاد رہے کہ یکم جولائی کو مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنااللہ کو اے این ایف نے پنجاب کے علاقے سیکھکی کے نزدیک اسلام آباد – لاہور موٹروے سے گرفتار کیا گیا تھا۔

اس گرفتاری کے بعد ترجمان اے این ایف ریاض سومرو نے بتایا تھا کہ رانا ثنا اللہ کی گاڑی سے منشیات برآمد ہوئی، جس پر انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم اس گرفتاری پر مسلم لیگ (ن) کا سخت ردعمل سامنے آیا تھا اور اس کے پیچھے وزیر اعظم عمران خان کے ہونے کا الزام لگایا تھا۔

بعد ازاں گرفتاری کے بعد رانا ثنا اللہ کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں انہیں 14 روز کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا گیا تھا، جس میں کئی بار توسیع ہو چکی ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *