Type to search

اردو کہانیاں تجزیہ سیاست فيچرڈ

لگتا ہے عمران خان بھی چاہتے ہیں اپوزیشن کی توپوں کا رخ پنڈی کی طرف ہو

مولانا فضل الرحمٰن نے جو طبلِ جنگ بجایا تھا وہ اب یُدھ میں بدلنے کو تیار ہے۔ آزادی مارچ کا جمعہ کا احتجاجی جلسہ غالباً اسلام آباد کی تاریخ کا سب سے بڑا اور سب سے منظم اجتماع تھا۔ لوگ فقط جلسہ میں تقریریں سُن کر گھر جانے نہیں آئے تھے۔ تقریباً سبھی مہینے بھر کا راشن اور رہنے سہنے کا بندوبست کر کے آئے تھے۔ یہ مدارس کے طلبہ تھے، نہ ملائوں کے عام سے معتقدین۔ مَیں نے جمعرات کی شام و شب سینکڑوں لوگوں سے گپ شپ میں گزاری۔ اس عظیم الشان سیاسی سرائے عام میں لوگ ہر موضوع پہ سیاسی گفتگو کر رہے تھے اور اپنے سیاسی اہداف اور لائحۂ عمل پہ واضح نظر آئے۔

اِن میں نوے فیصد سے زائد پختون بھائی تھے کہ ماں بہنوں کو گھروں میں بند رکھنا پختون پدر شاہی کوڈ کا تقاضا تھا(؟) کہیں پہ ختمِ نبوت کو درپیش کسی خطرے کا ذکر تھا، نہ شریعت کے نفاذ کا تقاضا۔ یہ پختون قوم پرست بھی تھے، دیوبندی روایت پسند اور قوم پرست بھی، لبرل بھی اور کچھ سوشلسٹ بھی۔ زیادہ تر نچلے متوسط طبقے، چھوٹے دُکاندار، امیر کسان اور دیہی غریب۔ ماحول ویسا ہی تھا جیسا کہ کسی بھی پختونخوا کے گائوں کا ہوتا ہے۔ مگر سب ہی کے پاس موبائل فون تھے اور سیلفیاں بنانے کا خبط۔

1973 کے اسلامی جمہوری اور وفاقی آئین کے ہر تین پہلوئوں پہ اِن میں اجماع تھا۔ اور وہ اس کی اسلامی دفعات پر قانع۔ البتہ جنرل ضیا الحق کی جانب سے آئین کے ساتھ مذہبی کھلواڑ پہ وہ بشمول 62/63 کی شقوں کے بارے میں بغلیں جھانکتے نظر آئے۔ یہ عورتوں کو جلسے میں شریک نہ کرنے پہ اُن کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہوئے اپنی خفت چھپا نہیں پا رہے تھے اور میں مردوں کو کھانا پکاتے دیکھ کر خوش ہوتا رہا اور اُن پر پھبتیاں کستا رہا۔ آگے کا کیا ارادہ ہے کے جواب میں وہ عمران خان کے استعفے کے حصول تک ڈی چوک پر دھرنا دینے کے ارادے پہ اٹل نظر آئے۔

میڈیا سے انہیں شکوہ تھا لیکن غصہ وہ ان کے خلاف نکال رہے تھے جن کے ہاتھوں میڈیا یرغمال بنا ہوا ہے۔ بہت سوں کے خیال میں اُن کا اصل مسئلہ اُن کے بقول کٹھ پتلی حکومت اور سلیکٹڈ وزیراعظم نہیں بلکہ اُن کے تئیں وہ مقتدرہ ہے جس نے تمام منتخب اداروں اور سویلین محکموں کو یرغمال بنا لیا ہے۔ انتخابی چوری اور عوامی مینڈیٹ کی تذلیل کا بوجھ وہ فقط ایک ادارے پہ ڈال رہے تھے۔ اُن کا رویہ بڑا میانہ رو اور معتدل نظر آیا۔ وہ افغان طالبان کی عسکریت پسندی کے برعکس بالعموم دہشت گردی کے خلاف تھے۔ اس میں باچا خان اور دیگر اکابرین کی عدم تشدد کی تعلیمات کی جھلک نظر آئی۔ یہ سب نیم روایتی اور نیم جدیدیت (مادی زندگی کے حوالے سے) کا ایک ملغوبہ لگے جیسا کہ ہمارا عمومی فکری چلن ہے۔

مجھے خوشگوار حیرت پختون قوم پرست، سیکولر، اشتراکی اور لبرل حضرات اور روایت پسند دیوبندیوں کی باہمی رواداری پہ ہوئی۔ جگہ جگہ سیاسی جرگے ہو رہے تھے اور عوامی نیشنل پارٹی، پختون خوا ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی اور قومی وطن پارٹی کے کیمپوں میں خوب رونق لگی ہوئی تھی۔ لگتا یوں تھا کہ سبھی پختون پارٹیاں مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ زیادہ استقامت سے کھڑی ہیں۔

جبکہ پیپلز پارٹی ان سے الگ تھلک رہتے ہوئے ساتھ چلتی اور شہباز کی مسلم لیگ شاملِ باجہ رہتی دکھائی دی۔ مجھے ان سے گھل ملنے میں ذرا دقت نہ پیش آئی۔ اندازہ نہیں تھا کہ جمعہ کے روز جلسہ اتنا فقید المثال ہجوم بن جائے گا۔ میرے اندازے کے مطابق اس میں دو سے تین لاکھ کے قریب لوگ ہوں گے۔ عمران خان کا دھرنا اس بھاری بھرکم دھرنے کے سامنے پکنک نظر آیا جبکہ یہ نظم و ضبط میں بھی بے مثال تھے۔ خیال تھا کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد مولانا کے آزادی مارچ پہ لگی سنسرشپ ختم ہو جائے گی۔ لیکن قانون کی حکمرانی کے پر جل کے رہ گئے۔

بڑے لیڈروں کی تقریروں سے پہلے صوبہ سندھ کے پارٹی لیڈر راشد سومرو صاحب نے ماحول کو گرماتے ہوئے جب لوگوں سے پوچھا کہ وہ کیا چاہتے ہیں تو لوگ ماہ و سال کے لئے دھرنے پہ بیٹھنے کو تیار نظر آئے اور وہ بھی ڈی چوک پر۔

شہباز شریف یہ گلے کرتے نظر آئے کہ اگر ادارے ہماری 10 فیصد بھی مدد کرتے تو ہم جانے کیا کیا ریکارڈ توڑ دیتے۔ اور اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ اپنی انتظامی جادوگری سے چھ ماہ میں حالات درست کر کے دکھا سکتے ہیں۔ گویا اُن کا ایجنڈا فقط ایک کٹھ پتلی کی جگہ خود کٹھ پتلی بننا ٹھہرا۔ البتہ بلاول بھٹو کی تقریر سیاسی طور پر بہت صحیح تھی۔ اُن کا زور سلیکٹڈ سے زیادہ سلیکٹرز کے آمرانہ ڈھانچے پہ تھا یا پھر عوامی مسائل پر۔ وہ ہر صورت سویلین بالادستی پہ اصرار کرتے دکھائی دیے۔ قافلے کے اصل سالار فضل الرحمن نے عمران خان اور اداروں کو وزیراعظم کے استعفے کے لئے دو روز کی مہلت دی اور اس تنبیہہ کے ساتھ کہ وہ اداروں کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں لیکن وہ غیرجانبدار بھی ہوں۔

مجھے اس التوا پہ کچھ اچنبھا بھی ہوا، لیکن یوں لگتا ہے کہ اُنہوں نے ڈی چوک پر دھرنے سے قبل مذاکرات کے ایک اور رائونڈ کا موقع فراہم کر کے ممکنہ تصادم سے اجتناب کی راہ دکھائی ہے۔ یہ فیصلہ غالباً اے پی سی کی مشاورت سے کیا گیا۔ جب حاضرین سے ڈی چوک جانے کی آواز کسی گئی تو مولانا نے کہا، ہاں یہ آصف زرداری اور نواز شریف کے علاوہ اُنہوں (اداروں) نے بھی سُن لیا ہے۔

لیکن جو بات اشاروں کنایوں میں کہی جا رہی تھی، وہ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کے بیان سے طشت از بام ہو گئی۔ مولانا کا جواب برجستہ تھا کہ جی ہاں! آپ ٹھیک کہتے ہیں کہ اشارہ آپ ہی کی جانب تھا۔ فوج کے ترجمان اور آزادی مارچ کے لیڈر کے درمیان کھلی تلخ بات چیت سے سانپ پٹاری سے باہر آ گیا ہے۔ جس ملٹری ملا الائنس کا ذکر تحقیقی مقالوں میں تواتر سے ہوتا تھا وہ اب بیچ چوراہے ٹوٹ گیا ہے۔ فوج کے ترجمان نے متعلقہ ادارے سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔ یا پھر مصالحتی کمیٹیوں کو تصفیہ کی راہ دکھا کر منتخب حکومت کے احکامات کی پاسداری کا عہد دہرایا۔

اس پر مولانا کے سخت ردّعمل سے فضا مقتدرہ اور آزادی مارچ کے درمیان خاصی مکدر ہو چکی ہے۔ مولانا کے اس ردّعمل پہ اے پی سی کی سبھی پارٹیاں اُن کے ساتھ کھڑی نظر آئیں۔ اُدھر عمران خان نے اپوزیشن کی تمام جماعتوں کو حقارت سے طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ہوئے آ بیل مجھے مار والی اشتعال انگیزی کی ہے۔ ایسے میں مصالحتی کمیٹی اے پی سی کی رہبر کمیٹی سے کیا خاک بات کرے گی؟ فیض آباد کے چھوٹے سے دھرنے سے ظاہر ہو گیا تھا کہ پاک فوج مذہبی جماعتوں سے تصادم کی راہ نہیں لے گی اور نہ ہی اسے سیاسی محاذ آرائی میں کسی فریق کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ لگتا ہے کہ عمران خان بھی چاہتے ہیں کہ اپوزیشن کی توپوں کا رُخ اسلام آباد کی بجائے راولپنڈی کی طرف ہو۔ لیکن آج رات یا کل دھرنا ڈی چوک پہ ہوگا اور اپوزیشن ریڈ زون میں داخل ہوگی، نہ تشدد کا راستہ اختیار کرے گی۔

یہ اب کھلی جنگ ہے، آئینی دائرے میں رہے تو بہتر ہے ورنہ وہی ہوگا جس کی کہ اب ویسی سکت نہیں رہی۔ دم کٹی جمہوریہ چلنے والی ہے نہ آئین سے ماورا حکمرانی۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *