Type to search

تجزیہ حکومت سیاست فيچرڈ

کیا وزیراعظم کو استعفیٰ دینا چاہیے؟

کیا وزیراعظم کو استعفیٰ دینا چاہیے؟  اس سوال کا کاش! کوئی آسان جواب ہوتا، جو کچھ عمران خان نے اس ملک کے ساتھ کیا ہے،  استعفیٰ کیا ان کو تو بہت کچھ دینا چاہیے۔

بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ جناب بہت جلد پکڑ میں آ گئے اور کیوں نہ آتے آخر انہوں نے بھی قسم کھا رکھی تھی کہ اسی راستے پہ چلنا ہے۔

وزیر اعظم کے استعفے کو لے کر  2014کے دھرنے میں بھی عوام تقسیم تھی اور آج مولانا کے دھرنے میں بھی عوام تقسیم ہے۔ اگر جمہوریت کے تناظر میں دیکھا جائے تو خان صاحب کو ہرگز استعفیٰ نہیں دینا چاہیے تاکہ سیاسی حکومتوں کو تسلسل ملے اور ایک دن اس ملک میں حقیقی جمہوریت آنے کی اُمید قائم رہے لیکن خان صاحب جس راستے سے حکومت میں آئے اور انہوں نے جس انداز سے اپنے ایک ایک وعدے کی عدولی کی اور پھر جس ڈھٹائی سے اپنے ہر اُلٹے قدم کا دفاع کیا، اب دل کہتا ہے کہ استعفیٰ دے ہی دیں تو بہتر ہے۔

جو شخص ذمہ داری  لینے کو تیار ہی نہیں اس سے کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ پاکستان میں تمام کے تمام سیاستدان بِگ باس کی پیداوار ہیں اور ان میں سے ہر ایک کا انجام بھی کچھ اچھا نہیں ہوا۔ کوئی پھانسی چڑھ گیا، کوئی مارا  یا ماری گئی، کوئی جیل میں رہا، ابھی بھی کچھ جیل میں ہیں اور کچھ ابھی ارتقائی عمل سے گزر رہے ہیں۔


اس تناظر میں دیکھا جائے تو اب شاید ہمیں کسی بھی سیاستدان کو کم از کم یہ تعنہ نہیں دینا چاہیے کہ وہ بگ باس کی پیداوار ہے۔”جب ڈگری دینے کا اختیار ہے ہی ان کے پاس تو مجبوراً داخلہ تو لینا پڑے گا، جب داخلہ لینا پڑے گا تو فیس بھی دینی پڑے گی جو کہ ضروری نہیں کہ رقم ہی کی صورت میں ادا کی جائے۔“

”خوامخواہ استادوں کی خدمت بھی کرنی پڑے گی اور سبق بھی یاد کرنا ہو گا۔ سبق یاد نہ کرنے کی صورت میں سزا بھی بھگتنی ہو گی۔ اس لئے خان صاحب کو محض اس بات پر کہ وہ بگ باس کی پیداوار ہیں استعفیٰ نہیں دینا چاہیے۔“

جس تسلسل کی ہمیں ضرورت ہے اس کی تو ابھی شروعات ہی نہیں ہوئی۔ ہم عوام تو چابی سے چلنے والے کھلونوں کی طرح ہیں، جس کو پیش کیا جائے اس کے ہو جاتے ہیں۔ ہمیں تو اس تسلسل کی ضرورت ہے کہ جس میں ہم خود اپنی مرضی سے کسی رہنما کو چنیں اور ایسے رہنمائوں کی حکومتوں کو تسلسل ملے۔

خان صاحب کو دو وجوہات کی وجہ سے آج نہیں تو کل جانا پڑے گا۔ ایک یہ کہ ان کو اپنی زبان پر بلکل ہی اختیار حاصل نہیں ہے اور جو منہ میں آئے بول دیتے ہیں۔ ان کے ایسے رویے کی وجہ ان کی خودپسندانہ شخصیت ہے جس پر کوئی بھی حرف اٹھائے، یہ ان کو برداشت نہیں۔


یہی وجہ ہے کہ ان کی پارٹی کے سب ارکان خان صاحب کی لاکھ نااہلیوں کے باوجود جب ان کا ذکر آتا ہے تو ایسے انداز سے خان صاحب کی تصویرکشی کرتے ہیں جیسے گاندھی،  لیڈی ڈیانا یا ایدھی صاحب( مرحوم) کا ذکر ہو رہا ہو۔ یہ سب کچھ عوام برداشت کرتی ہے لیکن تب تک جب تک اس کو عزت سے دو وقت کی روٹی ملے۔ جب روٹی اور عزت دونوں داؤ پہ لگ جائیں تو یہ بادشاہ کے درباریوں کا ٹولا لوگوں کو سخت ناگوار گزرتا ہے۔

مینوں شاہی نئیں چاہیدی ربّ میرے
میں تے عزت دا ٹکّر منگناں ہاں!

دوسری اہم وجہ جس کی بنا پر خان صاحب کو اپنی ٹیم سمیت جانا ہو گا وہ یہ ہے کہ وہ ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہیں۔

انگریزی کے مشہور مصنف William Shakespeare  کے ایک ڈرامے کی مشہور لائن ہے کہ”وہ سر جو تاج پہنے وہ بے سکون ہوتا ہے“۔ مطلب یہ کہ بادشاہ کے سر پہ ہزاروں مصیبتیں ہوتی ہے اور اس کے اوپر ذمہ داریوں کا اتنا بوجھ ہوتا ہے کہ وہ ہر وقت بے سکون ہوتا ہے۔

خان صاحب نے ابھی تک یہ تاج نہیں پہنا۔ انہوں نے اپنے آپ کو پرسکون رکھنے کے لئے کچھ کہانیاں گھڑ رکھی ہیں جو ہم ٹی-وی پر سن سن کے بور بھی ہو گئے ہیں۔ چاہے ٹرین اُلٹ جائے، پولیس کی تحویل میں کوئی مارا جائے، کشمیر کو انڈیا زبردستی اپنے اندر سمو لے، پولیس کا ایس ایس پی دارالحکومت سے اغواء ہو جائے اور اس کی لاش پڑوسی ملک سے ملے، زرتاج گل کی سفارش پر ان کی بہن کو NACTA کا چیئرمین لگا دیا جائے، ساہیوال میں سرِعام بچوں کے سامنے ان کے والدین کو چھلنی کر دیا جائے، جب پوچھا جائے کہ اس سب کا ذمہ دار کون؟  تو کہتے ہیں پچھلے دس سال کی حکومتیں۔ یہ سب اس بات کا نتیجہ ہے کہ حکومت ابھی تک تاج پہننے سے گریزاں ہے۔ نا ہی یہ تاج بگ باس پہننا چاہتے ہیں۔ اسی لئے انہوں نے خان صاحب جیسے لیڈر کا انتخاب کیا کہ ملبہ آسانی سے ان پہ پھینکا جا سکے۔


خان صاحب استعفیٰ دیں یا نہ دیں ان کی حکومت کو اب چلے جانا چاہیے اس کے باوجود کے حکومت کے گرنے سے جمہوری روایات کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اگر یہ حکومت رہی، جو کسی بھی معاملے میں ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں تو کہیں ایسا نہ ہو کہ حالات اتنے خراب ہو جائیں کہ پھر وہ کوئی بھی ٹھیک نہ کر سکے۔

ایک نہ ایک دن تو بگ باس کو یہ اختیار ہمیں دینا ہو گا یا پھر کم از کم اپنے لائے ہوئے لاڈلوں کی ناکامیوں کا حساب تو دینا چاہیے۔ آخر کب تک 10 لاکھ لوگوں کی دلچسپیاں کروڑوں لوگوں کی ضرورتوں پر حاوی رہیں گی۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *