Type to search

بلاگ تجزیہ جمہوریت حکومت

اور مولانا آ گئے

  • 34
    Shares

‘پنڈی’ والوں کے چہیتے وزیر با تدبیر جناب شیخ رشید احمد حکومت اور اپنے حامیوں کو تسلیاں دیتے رہے کہ فکر کی کوئی بات نہیں جن کی بات سنی جاتی ہے وہ مولانا سے بات کر رہے ہیں اور مولانا کو فیس سیونگ کی ضرورت ہے جو حکومت کو انہیں دے دینی چاہیے۔

اس حکومت کے وزیر داخلہ جن کی زندگی ‘پنڈی’ والوں کے ساتھ ہی گزری ہے وہ کہتے رہے کہ مولانا نہیں آئیں گے۔ لیکن، مولانا اسلام آباد پہنچ گئے، الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا۔ اس درمیان شاید ہی کوئی وزیر ہو جس نے مولانا پر طبرہ بھیج کر انہیں مزید مشتعل کرنے میں کوئی کسر چھوڑی ہو۔

اس وقت بظاہر مولانا کا ٹارگٹ عمران خان ہیں لیکن ہم شروع سے ہی کہہ رہے ہیں کہ مولانا کا بھی اصل ٹارگٹ وہی ہے، سابق وزیراعظم نواز شریف جس کے گھائل ہیں۔ اپنے پچھلے کالم ‘ملک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا’ میں راقم نے جو عرض کیا تھا قارئین کی سہولت کیلئے ذیل میں دوبارہ رقم کر رہا ہوں۔

‘اب ذرا آتے ہیں لانگ مارچ کی طرف تو مولانا یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ انہیں اسمبلی سے دور رکھنے میں کن قوتوں کا ہاتھ ہے۔ مولانا کا کہنا ہے کہ 2013 میں بھی انہی قوتوں نے ان کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال کر انہیں صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت سازی سے باہر کر دیا تھا۔’

مضمون کے آخر میں عرض کیا تھا کہ

‘یہ جنگ اس ’آسیب‘ کے خلاف ہے جو پچھلے 72 سال سے اس ملک پر قابض ہے اور نظر بھی نہیں آتا۔ ہم اس قسم کا احتجاج ماضی قریب میں ترکی میں دیکھ چکے ہیں۔ ملک فیصلہ کن مرحلہ میں داخل ہو چکا ہے کہ اب نہیں تو کبھی نہیں اور فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہے۔’

کل خود حالات کا جائزہ لینے جب پشاور موڑ پر جلسہ گاہ پہنچا، تو اس وقت تک دھرنے میں شامل سیاسی جماعتوں کے قائدین تشریف نہیں لائے تھے۔ لہذا، وہاں موجود مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے بات چیت کا موقع ملا۔ ایک تو اتنا بڑا اجتماع جسے بجا طور پر انسانوں کا سمندر کہا جا سکتا ہے اور پھر دھرنے میں شامل لوگوں کے اندر بھرا غصہ دیکھ کر جھرجھری سی محسوس ہوئی۔ معلوم ہوا کہ وہ اپنے قائد مولانا کے حکم پر ‘کچھ بھی’ کرنے کیلئے تن من سے تیار ہیں۔ جماعتی اختلاف سے ہٹ کر لوگ مہنگائی اور بے روزگاری سے بھی تنگ آئے ہوئے ہیں اور اس حکومت کو فارغ کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔

نماز جمعہ کیلئے اذان ہوئی تو اتنے بڑے مجمع کا نظم دیکھ کر ان کی تربیت کا قائل ہو گیا۔ نماز کے بعد تقاریر کا سلسلہ شروع ہوا تو تمام لوگوں کو ہی مولانا کی تقریر کا شدت سے منتظر پایا اور جب مولانا نے تقریر کی تو تقریر کا حاصل وہ حصہ تھا جس میں انہوں نے بظاہر عمران خان کو مستعفی ہونے کیلئے دو دن کی مہلت دینے کا اعلان کیا لیکن اہل دانش سمجھ رہے تھے کہ یہ اشارہ کس طرف ہے۔ خود مولانا صاحب نے بھی مسکرا کر نام لئے بغیر کہا کہ ‘ان تک’ بھی میری بات پہنچ رہی ہے۔

افواج پاکستان کے ترجمان نے اس پر اپنا ردعمل دے کر اپنی غیر جانبداری پر سوال اٹھا دیا۔ ہمارے خیال میں افواج پاکستان کے ترجمان کو اس پر اتنی سرعت کیساتھ اپنا رد عمل نہیں دینا چاہیے تھا۔ بہرحال رات کو رہبر کمیٹی کی بیٹھک کے بعد مولانا نے کہا کہ آئی ایس پی آر کو اس میں نہیں پڑنا چاہیے تھا کیونکہ میں نے تو کسی کا نام نہیں لیا تھا۔ مولانا کے ایک ساتھی نے آج اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تیر نشانے پر لگا جو کہ رد عمل سے ظاہر ہو گیا۔

مولانا اور ان کے ساتھی ٹھیک نشانے پر تیر لگا رہے ہیں اسلئے ‘وہاں’ بھی بہت تشویش پائی جاتی ہے۔ مولانا صاحب کیساتھ اتنے لوگ ہیں کہ جہاں تک نظر جاتی ہے سر ہی سر نظر آتے ہیں لہذا حکومت اور اداروں کو بہت زیادہ صبر وتحمل  سے کام لینا ہو گا کیونکہ اگر کوئی سانحہ رونما ہوا تو حالات کسی کے بھی قابو میں نہیں رہیں گے۔ 1971 کے زخم آج تک مندمل نہیں ہو سکے، اب مہلت بھی ختم لگتی ہے۔ بہتر ہے تمام دارے اپنی آئینی حدود میں رہیں اور سیاسی معاملات سیاستدانوں پر چھوڑ دیں۔

یہ گھڑی محشر کی ہے، تو عرصہ محشر میں ہے
پیش کر غافل، عمل کوئی اگر دفتر میں ہے

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *