Type to search

خبریں سیاست فيچرڈ

’مولانا کے اسٹیبلشمنٹ پر الزامات عمران خان کی تبدیلی کے لئے راستہ ہموار کر رہے ہیں‘

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کے آزادی مارچ کا آج نواں روز ہے اور دھرنے کے شرکاء سرد موسم کے باوجود ایچ نائن گراؤنڈ میں موجود ہیں۔

اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے وزیراعظم کے استعفے، قبل از وقت انتخابات سمیت دیگر مطالبات کررکھے ہیں تاہم حکومت وزیراعظم کے استعفے اور نئے انتخابات کے مطالبات ماننے سے انکاری ہے۔

معروف تجزیہ نگار اور صحافی نجم سیٹھی نے فرائیڈے ٹائمز میں لکھا” مولانا کو دھرنا دینے کے لیے یہی وقت کیوں موزوں لگا؟ جبکہ ملک میں اس وقت کوئی سیاسی تحریک نہیں چل رہی جبکہ انکی ساتھی اپوزیشن جماعتوں نے بھی انہیں آزادی مارچ مؤخر کرنے کی بارہا تائید کی، یہ بات بھی اہم ہے کہ مولانا نہیں بتا رہے کہ وہ کس طرح سے اپنے مقاصد حاصل کریں گے؟

نجم سیٹھی نے لکھا ‘کہ ملک کی ترقی پسند قوتیں  بھی اب مولانا سے دوری بڑھا رہی ہیں کیونکہ وہ سیاست میں مذہب کا استعمال کر رہے ہیں۔

نجم سیٹھی نے لکھا ‘مولانا کے ماضی پر نظر ڈالی جائے تو ایسا کم ہی ہوا ہےکہ مولانا اسٹیبلشمنٹ سے دور رہے ہیں، مولانا لمبے عرصے تک کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے ہیں یعنی انہیں مقتدر قوتوں کی حمایت حاصل رہی ہے تاہم اب کو اسٹیبلشمنٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگا رہے کہ الیکشن 2018 میں عمران خان کو نوازا گیا۔

مولانا کے مقاصد کے حوالے سے کئی افواہیں گردش کر رہی ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ مولانا کے دھرنے کو بھارتی خفیہ ایجنسی راء کی حمایت حاصل ہے۔

دوسری سازشی تھیوری  یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے کچھ عناصر جو عمران خان کی بے انتہا حمایت کی وجہ سے ناراض ہیں، سمجھتے ہیں کہ عمران خان کی حد سے زیادہ سپورٹ کی وجہ سے انکا ادارہ بدنام ہوا ہے۔  شاید اسی حصے نے  مولانا کو بھیجا ہے تاکہ وہ عمران خان کی حمایت کرنے والی قوتوں کا حدف تنقید بنائیں۔

اس حوالے سے دیگر کئی سازشی تھیوریز بھی گردش کر رہی ہیں تاہم ان افوہوں کے جواب مولانا کے دھرنے کی ٹائمنگ سب سے اہم ہے۔

سازشی افواہوں کا ایک جواب یہ بھی ہے کہ مولانا عمران خان کے پیچھے موجود سپورٹ کو ہٹانا چاہتے ہیں، تاکہ دوسرے مرحلے میں عمران خان کے تنہا ہونے کے بعد انکی حکومت کو گرانا آسان ہو جائے، مولانا کے اسٹیبلشمنٹ پر الزامات عمران خان کی تبدیلی کے لئے راستہ ہموار کر رہے ہیں۔

 

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *