Type to search

فيچرڈ ویڈیو کہانی

ویڈیو کہانی: ختمِ نبوت کا قانون، گنڈاپور کی بڑھکیں، اور عمران خان بمقابلہ عمران خان

لبرل و انٹلیکچوئل ونگ، کیوں تھک رہے ہو؟

’پوری دنیا سونے کا بنا دو، ختمِ نبوتؐ کے قانون میں تبدیلی نہیں کریں گے‘۔ تو کس نے کہا ہے تبدیل کرنے کو؟ پتہ نہیں یہ ہمارے سیاستدانوں کو ہر وقت کیوں اس قانون کی طرف سے خطرہ لگا رہتا ہے۔ 45 سال ہو گئے، کسی نے اس قانون میں تبدیلی کی کوشش نہیں کی۔ پھر بھی بیٹھے بیٹھے یہ بات کرنے کھڑے ہو جاتے ہیں ہمارے ’منتخب‘ نمائندے۔ سارا دن انصافیوں کا بیچارہ ’لبرل و انٹلیکچوئل ونگ‘ عوام کو سمجھانے میں صرف کر دیتا ہے کہ مولانا فضل الرحمان سے دور رہنا، یہ مذہب کے نام پر سیاست کر رہے ہیں۔ اور پھر کوئی بھی کھڑا ہو کر سارے کیتے کرائے پر پانی پھیر دیتا ہے۔ گزارش ان نمائندگان سے نہیں ہے۔ گزارش صرف اس بیچارے ’لبرل و انٹلیکچوئل ونگ‘ سے ہے کہ ’کیوں تھک رہے ہو؟‘ ہم آپ کو بھی جانتے ہیں، اور ان کو بھی جن کی آپ وکالت کر رہے ہیں۔

**************************************

’’استعفا دو‘‘

علی امین گنڈاپور صاحب نے پچھلے دو ہفتے سے شور ڈالا ہوا ہے کہ اگر دھاندلی ہوئی ہے تو مولانا فضل الرحمان میرے مقابلے میں پھر سے الیکشن لڑ لیں، انہیں پھر سے ہرا کر دکھاؤں گا۔ لیکن آج جب قومی اسمبلی کے اجلاس میں موصوف کو استعفا دے کر الیکشن لڑنے کا چیلنج ملا تو جواباً استعفا دینے کے بجائے اپنا پچھلا چیلنج دوبارہ دہرا کر کرسی پر بیٹھ گئے۔ بھئی لڑیں نا الیکشن۔ کوئی کھڑاک ہو۔ کوئی میلہ لگے۔ ہم بھی چیزا لیں۔ ایسے دور دور سے بڑھکیں مارتے رہیں گے تو قوم کو کیا فائدہ؟

**************************************

عمران خان اور عمران خان آمنے سامنے

پیپلز پارٹی رہنما شرجیل میمن کی جانب سے ٹوئیٹ کی گئی ایک ویڈیو نے سوشل میڈیا پر آج خوب دھوم مچا رکھی ہے۔ اس ویڈیو میں ایک طرف وزیر اعظم عمران خان کے بیانات ہیں، اور دوسری جانب بغیر وزیر اعظم والے عمران خان کے۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ دو لوگ اگر ایک دوسرے کو کہیں دیکھ لیں تو ایک کی تو وہیں ’شلوار گیلی ہو جائے گی‘ اور دوسرا اسے ’گریبان سے پکڑ کر گھسیٹتا ہوا‘ کہیں لے جائے گا۔ عجیب سی بات لگتی ہے۔ بھلا کوئی شخص پٹرول کی قیمت بڑھا کر خود اپنا ہی گریبان پکڑ کر خود کو ہی کیسے گھسیٹے گا؟ یا اپنا بجلی کا بل جلانے کے بعد بل جلانے کی پاداش میں ریاستی مشینری کو کیسے حکم دے گا کہ مینوں پھڑ لؤ؟ چھوڑیے صاحب، یہ افسانوی باتیں ہیں۔ آپ کو بھی جب کر کے کھانی پڑے گی تو آٹے دال کا بھاؤ خود ہی معلوم ہو جائے گا۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *