Type to search

خبریں سیاست فيچرڈ

”عمران نیازی کو بہت بڑی بھول ہے، نا این آر او دے سکتے ہیں اور نا این آر او لے سکتے ہیں“

قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا ہے کہ نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکلوانے کے لیے گزشتہ رات ہی فیصلہ کرلیا تھا کہ عدالت سے رجوع کریں گے تاہم آج لیگل ٹیم لاہور ہائی کورٹ میں موجود ہے جو میری طرف سے پٹیش دائر کرچکی ہے۔

لاہور میں میں صحافیوں سے بات کرتےہوئےانہوں نے کہا کہ امید ہے کہ عدالت میں جلد کیس لگ جائےگا۔

لاہور میں پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عمران خان نے نواز شریف کی صحت سے متعلق سنگ دلی کا مظاہرہ کیا، عمران نیازی کو بہت بڑی بھول ہے، نا این آر او دے سکتے ہیں اور نا این آر او لے سکتے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ حکومت شیورٹی بانڈ کی آڑ میں نواز شریف سے تاوان لینا چاہتی ہے لیکن مسلم لیگ نے حکومت کے اس فیصلے کو مسترد کر دیا ہے، شیورٹی بانڈ کی شرط ہمیں کسی صورت قبول نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالت نے نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی ہے لیکن اس کے باوجود حکومت نواز شریف کی صحت پر سیاست کر رہی ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف صبر، جرات و بہادری سے اس صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں اور پوری قوم ان کی صحت کے حوالے سے پریشان ہے لیکن حکومت سیاست کے لیے پریشان ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ حکومت اس شخص سے شیورٹی بانڈ مانگ رہی ہے جس نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا اور جو 13 جولائی کو اپنی بیٹی کے ہمراہ لندن سے پاکستان آیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے نامور وکلاء اور قانون دانوں نے بھی حکومتی فیصلے کو غلط قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب عمران خان زخمی ہوئے تھے تو نواز شریف خود ان کی عیادت کے لیے گئے تھے، حکومتی ڈاکٹرز نے کہا کہ نواز شریف کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں ہے لیکن اس کے باوجود انسانی مسئلے کو سیاسی رنگ دیا گیا۔ باتیں کی جا رہی ہیں کہ نواز شریف کو گھر میں کیوں رکھا گیا ہے، نواز شریف کے علاج کے لیے گھر میں آئی سی یو بنایا گیا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ عمران نیازی اور ان کی جماعت نے عوام کے دل و دماغ میں زہر گھول دیا ہے، خدانخواستہ نواز شریف کو کچھ ہوا تو قوم اسے برداشت نہیں کرے گی۔

 

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *