Type to search

تجزیہ فيچرڈ معاشرہ

کہیں سہیل ایاز آپکے بچے کے کمرے میں تو نہیں؟

اگر آپ کا بچہ ہم جنس پرست ہے تو کیا ہوا؟ سُن کر شرم مت کھائیے بلکہ ہوش کے ناخن لیں۔ یہ بات کم از کم کسی حد تک تو قابل قبول ہے،  آپ کے لیے یہ چیز ایک خوشگوار بات ہونی چاہیے بجائے اس کے کہ کل کو آپ ہی کا بچہ آپ سے چھُپ کر کسی سہیل ایاز کے ہاتھوں استعمال ہو رہا ہو اور آپ کو جب اس بات کا علم ہو تو بہت دیر ہوچکی ہو۔ اب آپ پوچھیں گے کہ یہ سہیل  ایاز کس بلا کا نام ہے؟ آپ کا سوال بالکل بجا اور بروقت ہے۔ سہیل ایاز کو فی الحال انسان کے طور پر نفرت کا نشانہ نا بنائیں بلکہ ایک بُرائی کا نام رکھ لیجیے۔  اب آپ کو اپنے گھروں میں، گلی محلوں میں سہیل ایاز جیسی برائی کو ڈھونڈنا آسان ہوجائے گا۔

آپ نے پچھلے دنوں ایک خبر دیکھ رکھی ہو گی کہ بچوں سے زیادتی کی فلمیں ریکارڈ کر کے ڈارک ویب پر بیچنے والا انٹرنیشنل گینگ کا سرغنہ راولپنڈی سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اسی کا نام  سہیل ایاز ہے، تبھی سے میں نے اس جرم کو سہیل ایاز کا نام دیا ہوا ہے۔  مطلب کہ بچوں کے ساتھ سیکس کرنا جُرم ہے یا ان کی ویڈیوز بنا کر بیچنا جُرم ہوا؟ دونوں ہی اپنی نوعیت کے بڑے جُرم ہیں، جس کی سزا ضرور ہونی چاہیے، لیکن مستقل بنیادوں پر اس کا کوئی حل ڈھونڈنا وقت کی اشد ضرورت بن چکی ہے۔

چلیں سب کچھ چھوڑیئے، اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ آپ نے اپنے گھروں میں سہیل ایاز کو کیسے ڈھونڈنا ہے۔ ایک سہیل ایاز میرے گھر میں بھی تھا۔ ” یہ بالکل اس دور کی بات ہے جب میں دس یا بارہ برس کا تھا اور اسلام آباد میں اپنی خالہ کے ہاں مقیم تھا۔ اس عمر میں کچھ بچوں کو خاص طرح کے خیال اور خاص توجہ کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ والدین دوسری پریشانیوں میں یکسر نظر انداز کردیتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب میرے اسکول جانے کا وقت ہوجاتا تھا، تو ایک وقت میں تو مجھے اس بات کی عادت ہوگئی تھی کہ گھڑی پر سوئی ان ہندسوں پر کھڑی ہو گی تو میرے والدین نے اس بات پر لڑنا ہے اور مجھے ڈر کے پلنگ کے نیچے گھس جانا ہے۔ اسی چکر میں نقصان معلوم ہے کیا ہوتا ہے؟ بتاتا ہوں۔

اسی چکر میں بچے کی نفسیات اس کو بھاگنے کے راستے دکھاتی ہے، اس کو پیار ڈھونڈنے کے نئے نئے راستوں سے متعارف کرواتی ہے۔ وہی پیار کیوں نا اس کو اپنے کزن کی باہوں میں بیٹھ کر ہی مل رہا ہو۔ سہیل ایاز تک پہنچ گئے؟ مزید آگے بڑھیئے، وہی چوبیس پچیس سالا کزن ایک روز اس بچے کا ریپ کرتا ہے اور اس کو منہ بند رکھنے کی تلقین کرتا ہے، اور پھر اسی کو اپنا معمول بنا لیتا ہے.” بطور صحافی میں ناموں اور کرداروں کو مبہم رکھنے پر مجبور ہوں، یہ کہانی مجھے دو سال قبل پتہ چلتی ہے اور بس نقش ہو جاتی ہے۔ وہ بچہ آج زندگی کی پیچیدگیوں سے خود لڑنے کی کوشش میں ہے اور معاشرے کو یہ سمجھانا چاہتا ہے کہ ہم جنس پرست ہونا اور ان حالات سے گزرنا اس کی غلطی نا تھی، ہاں مگر سہیل ایاز جیسے کرداروں کا بے نقاب ہونا خوش آئند بات ہے۔ وہ اس روز کے انتظار میں ہے کہ اس کے والدین سمیت ایسے بچوں کے والدین ان بچوں کو خوشی خوشی تسلیم کریں اور ان کی شناخت کو ان کا جرم نا بننے دیں، اس کے لیے والدین کو پہلا قدم لینا ہوگ۔ بچوں کو نہیں، سہیل ایازوں کے ہاتھ باندھنا ہونگے۔

یہی بنیاد زینب بیٹی کے ریپ اور قتل کے کیس میں رکھی جانی چاہیئے تھی مگر افسوس کہ ہمیں معاملے کی بنیاد تک پہنچنے سے زیادہ عمران کو پھانسی دلوانا اہم لگ۔
میری اس میں تب بھی اور اب بھی یہی رائے ہے کہ یہ ایک نفسیاتی مرض ہے جس کے حل تک پہنچنے کی کوششوں پر توجہ مصر ہونی چاہیے۔ میں ریاست امریکہ اور یورپی ریاستوں کی پولیس کے اداروں کو اس سلسلے میں آئیڈیل رکھتا ہوں کہ وہاں پر کیس کی ہینڈلنگ میں صرف پولیس نہیں، بلکہ تمام شراکت دار شامل ہوتے ہیں۔

 پاکستان میں بھی، میری رائے میں، ایسے کیسز کو سائینسی بنیادوں پر زیادہ دیکھنا چاہیے، اسی طرح ہم ایسے جرائم کی جڑ تک پہنچ سکیں گے اور اس طرح کے مجرموں کے مرض تک پہنچ کر، ان کے قید کے دورانیے میں ان کا علاج کر سکیں گے۔ یا یہ نہیں تو بچوں کے لیئے احتیاطی تدابیر اور والدین کے فرائض، معاشرے کو ایسے کیسز کو لے کر ذمہ داریوں کے حوالے سے آگاہی کی مہم تو چلائی ہی جاسکتی ہے۔

جب میں اپنے ملک کی طرف نگاہ کرتا ہوں تو افسوس کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتا، کیونکہ پچھلے ہی دنوں کی خبر ہے، یا کہیں مذاق ہے کہ پختونخواہ میں بچوں کے ساتھ جنسی ہراسگی اور زیادتی کے کیسز میں بچوں اور بچیوں کی تعداد تقریباً ایک ہی ہے۔

اب اس کے حل کی بات آئی تو بچیوں کے لیے برقع لازم کر کے بات کو دبانے کی کوشش کی گئی، معاملہ دبتا کہاں تھا، سوشل میڈیا نے پختونخواہ حکومت کے اس فیصلے پر خوب دھول اڑائی، کم از کم یہ بات تو طے ہے کہ اب عام فہم بھی سائنسی اور عملی اقدامات کی طرف مائل ہے، عام ذہن سوچتا ہے، اس کو سمجھ آتی ہے کہ اس معاملے کا حل صرف بچیوں کو برقع پہنا دینے میں نہیں ہے بلکہ   سائنسی اور انتظامی بنیادوں پر حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے ٹھوس حل کرنے کی  ضرورت ہے۔  یہ معاملہ بچوں کے ساتھ جنسی ہوس پوری کرنے والوں، جن کو انگریزی میں پیڈوفائل کہتے ہیں سے متعلق ذہنی پیچیدگیوں کو حل کرنے سے متعلق ہے۔ ان کو سزا دے دینے سے معاملہ حل نہیں ہونا، ہونا ہوتا تو زینب بیٹی کے قاقل عمران کو پھانسی ہوچکی، اس سلسلے کو تو رُک جانا چاہیے تھا نا؟ نہیں رکا، تو معاملہ سمجھنے کی کوشش کریں۔

میں نے صرف خیبر پختونخواہ کا ذکر کیا، غلط ہے. میرے ایک ساتھی نے چار برس پہلے ایک کالم لکھا تھا جس کا عنوان تھا “ریپ گڑھ” یہ دراصل مظفر گڑھ کے علاقے میں بچوں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتیوں کے حوالے سے کہانیوں پر مشتمل تھا۔ یہ بات آج بھی ہر زبان پر ہے کہ وہاں سے تعلق رکھنے والا ہر دوسرا یا تیسرا بچہ اس گندے عمل سے گزر چکا ہے۔ اب تو اس بات کو اتنا نارمل سمجھا جانے لگا ہے کہ وہاں کے لوگوں سے آپ چائے کی میز پر بیٹھ کر ہی کئی کہانیاں نکلوا سکتے ہیں۔ سو یہ معاملات کسی ایک علاقے کے لوگوں کے ساتھ نہیں بلکہ کہیں بھی ہوسکتے ہیں مگر بات صرف فوکس کی ہے۔ یا پھر اس کو اس طرح سے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ کچھ تو ایک عرصے سے ہورہا ہے، آہستہ آہستہ منظر عام پر آرہا ہے اور ایکسپوژ ہورہا ہے اور ہونا بھی چاہیے۔

یہ بات صرف پاکستان سے متعلق جُڑی برائیوں تک محدود نہیں ہے۔ پیڈوفائل ایک ایسی سوچ بنتی جا رہی ہے جس کو ہم جنس پرستی کے درخت تلے لانے اور نیچرل ہونے تک کو قبولیت دینے کی عالمی کوششیں بھی قابل ذکر ہیں. پاکستان میں بھی ایسے بہت سے اذہان اس مقصد کے لیئے کام کر رہے ہیں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ اس عمل کو ہم ایک نارمل عمل سمجھیں اور سوال نا اٹھائیں. مطلب یہ کہ یہ عمل عین انسانی حقوق کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔  معذرت کے ساتھ، ایسی بیمار سوچوں کو پاکستان تو کیا کہیں بھی قبولیت نہیں ملنی چاہیے، چاہے وہ خود کو انسانی حقوق کا کتنا ہی بڑا علمبردار کیوں نا گردانیں۔ بچوں کے ساتھ زیادتی، اس کی ویڈیوز بنانا، یا کسی اور طرح سے ان کے ساتھ جنسی تعلق قائم رکھنے کے سلسلے میں سوشل میڈیا پر ان کو ہراساں کرنا، ان کو ڈرانا یا دھمکانا، پاکستان میں قانوناً جُرم ہے جس میں ایف آئی اے جیسے ادارے آپ کی مدد کرسکتے ہیں.

کچھ معاملات پر قوانین کی پیچیدگیاں ضرور آتی ہیں، کیسز کو سمجھتے ہوئے قوانین ویسے کارآمد ثابت نہیں بھی ہوتے، اس کے لیئے ہمارے ہاں بہت سی این جی اوز کام کرتی ہیں جن میں ڈیجٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی سفارشات اور قوانین میں ترامیم کے لیئے مثبت کام قابل ذکر ہے. میرے خیال میں ،والدین، اور معاشرے کے عام اذہان، جذباتی نا ہوا کریں، ایسے معاملات کو صحیح طور ڈیل کرنے کی طرف اپنی سوچ اور ارد گرد کے لوگوں کو آگاہی دے کر اپنا فرض ادا کریں. اور اس بات کو کبھی نا بھولیے گا، آپ کے گھر میں ایک عدد سہیل ایاز ضرور ہو گا، اپنے بچے کو ہر طرح سے قبول کریں اور ایسے کرداروں سے بچا کر رکھیں۔

اسی موضوع سے متعلق ایک خاتون نے کچھ ہی عرصہ پہلے ہم سب ویب سائٹ پر کالم لکھا تھا۔ شاید ان کی اپنی کہانی تھی یا کہ کسی اور کی، مگر کہانی یہ تھی کہ ایک خاتون جو اپنےسسرال میں اپنے بچوں کو دوسرے بڑے لڑکوں سے بچانے کی کوشش کرتی ہے تو سسرال والے اس کے خلاف ہوجاتے ہیں اور الٹا اسی عورت پر الزام لگا دیئے جاتے ہیں۔ یہاں ان خاتون نے بہت ہی سنجیدہ مسئلے پر آواز بلند کی تھی اور وہ یہ تھی کہ اس بات کو تسلیم کیوں نہیں کیا جاتا؟ تسلیم نا کریں تو معاملہ زینب قتل جیسے کیسز تک پہنچتا ہے، اور یہ ہماری معاشرتی بے حسی ہے کہ ہم اس کو پھر بھی قبول نہیں کرتے کہ ایسے کردار آپ اور میں یا ہم میں سے ہی ہیں جو بعد میں سہیل ایاز بھی بن سکتے ہیں . پہلا قدم قبول کرنا ہی ہے، پھر آئیں گے کہ اس کا حل بھی خود ہی کرنا ہے.

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *