Type to search

انسانی حقوق تعلیم خبریں فيچرڈ

فیض فیسٹیول: جوشیلے نعرے لگانے والی عروج اورنگزیب کون ہیں؟

  • 551
    Shares

ٹوئٹر اور فیس بک پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں چمڑے کی سیاہ جیکٹ میں ملبوس ایک لڑکی بھرے مجمعے کے سامنے انتہائی پرجوش انداز میں ڈھول کی تھاپ پر گا رہی ہے اور مجمع میں جیسے ایک برقی لہر دوڑ جاتی ہے جو ان کا تالیوں اور نعروں سے بھرپور ساتھ دے رہا ہے۔

ویڈیو میں موجود لڑکی عروج اورنگزیب ہیں اور وہ لاہور میں منعقد ہونے والے فیض فیسٹول کے موقع پر معروف ہندوستانی شاعر بسمل عزیز آبادی کی نظم ’سرفروشی کی تمنا‘ گا رہی ہیں۔

عروج اورنگزیب کون ہیں؟ 

عروج اورنگزیب پنجاب یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد پروگریسو سٹوڈنٹس کلیکٹو، فیمینسٹ کلیکٹو اور حقوقِ خلق تحریک کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ وہ پنجابی تھیٹر میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں ایک عام متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے گھرانے سے ہوں اور اپنی محنت کے بل بوتے پر ایک دو سکالر شپس بھی لی ہیں۔‘

پروگریسو سٹوڈنٹس کلیکٹو کا حصہ بننے کے بارے میں وہ بتاتی ہیں کہ ’جب گورنمنٹ کالج لاہور (جی سی یو) کے ہاسٹل سے کچھ طالب علموں کو نکالا جا رہا تھا تو اس پر کچھ لوگ اکٹھے ہوئے کہ یہ غلط ہو رہا ہے۔ میں اس وقت فیمینسٹ کلیکٹو کا حصہ تھی اور اس حیثیت میں اُس احتجاج کا بھی حصہ بنی۔‘

عروج نے بتایا کہ وہ اور ان کے ساتھی 29 نومبر کو ہونے والے سٹوڈنٹس مارچ میں طالب علموں کو دعوت دینے کے لیے فیض فیسٹیول میں نعرے بازی کر رہے تھے۔

ویڈیو میں موجود لڑکی عروج اورنگزیب ہیں اور وہ لاہور میں منعقد ہونے والے فیض فیسٹول کے موقع پر معروف ہندوستانی شاعر بسمل عزیز آبادی کی نظم ’سرفروشی کی تمنا‘ گا رہی ہیں۔

’ہمارا اس میں کوئی اور مقصد نہیں ہے۔ لوگوں کو اتنا ابہام ہے کہ پتا نہیں کیا مقصد ہے یا این جی او نے پیسے دیے ہوئے ہیں۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ ’ہم صرف عام سے انسان ہیں جو اپنی زندگیوں سے تنگ ہیں، خود کشیاں نہیں کرنا چاہتے بس نظام کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔‘

برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے عروج کا کہنا تھا کہ  ’ہم غیر طبقاتی معاشرے اور غیر طبقاتی تعلیمی نظام کا قیام چاہتے ہیں۔ سب کے لیے تعلیم ایک جیسی ہوگی تو ہی ہم ایک جیسے بن سکتے ہیں۔ ہم کوئی غلط بات تو نہیں کر رہے نا۔‘

عروج جس انداز میں لوگوں کو اس مارچ کی دعوت دے رہی ہیں اس انداز پر بہت سے سوال اٹھ رہے ہیں کہ یہ احتجاج کا کون سا طریقہ ہے؟

ساتھ ہی سوشل میڈیا پر کچھ لوگ ان پر تنقید کرتے ہوئے انھیں ایک ’برگر بچی‘ بلا رہے ہیں جو اپنی اے سی والی کار میں اپنے بڑے سے گھر واپس لوٹ جائے گی۔ کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ایک امیر گھرانے کی لڑکی کو عام لوگوں کے مسائل کا کیا پتا؟

عروج کہتی ہیں ’یہ کوئی سٹریٹ انٹرٹینمنٹ یا ڈرامے بازی نہیں تھی۔ ہمیں پتا تھا یہاں آج فیسٹول میں کافی لوگوں نے آنا ہے۔ یہ ہمارا لائحہ عمل تھا کہ یہاں آنے والوں کو ایسے ہی مارچ میں شامل ہونے کی دعوت دیں گے۔‘

’ہم نے صرف نعرے بازی نہیں کی، ہم نے سٹڈی سرکل بھی منعقد کیا، پمفلٹ بھی بانٹے۔ ہاں اس سب کی تصویریں وائرل نہیں ہوئیں۔‘

عروج کہتی ہیں ’صرف میری شکل اور حلیے پر نہ جائیں۔ ہمارا کوئی مقصد بھی ہے، آپ اس پر بات کریں نا۔‘ ’پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں کوئی عورت بول پڑے تو وہ زیادہ مسئلہ بن جاتا ہے کہ ہائے اللہ عورت نے کیسے بول دیا، بجائے اس کے کہ اُس عورت نے بولا کیا ہے۔‘

یاد رہے کہ 29 نومبر کو ہونے والے سٹوڈنٹس مارچ کے مطالبات میں یونین سازی، فیصلوں میں نمائندگی کا حق، کیمپیسس میں ہراس روکنے کے لیے کمیٹیوں کا قیام، چھوٹے علاقوں سے آنے والے طالبعلموں سے امتیازی سلوک کا خاتمہ، اور اس حلف نامے کا خاتمہ شامل ہے جو ہر یونیورسٹی میں داخلے کے وقت ایک طالبِ علم سے پُر کرایا جاتا ہے کہ وہ کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا۔

Tags:

You Might also Like

2 Comments

  1. khobaib hayat نومبر 21, 2019

    رام پرشاد بسمل انقلابی جوان تھے۔انکو ریل گاڑی جس میں سرکاری خزانہ لدا تھا۔اسکو لوٹنے کے جرم میں برٹش سامراج نے موت کی سزا سنائی۔19دسمبر1927کو انہیں پھانسی دی گئ۔عمر صرف تیس سال تھی۔ا

    جواب دیں
  2. khobaib hayat نومبر 21, 2019

    سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے،جو فیض میلے میں گائی گئی اس نظم کے اصل شاعر رام پرشاد بسمل تھے

    جواب دیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *