کراچی کی ایک خوشگوار صبح میری ملاقات ذوالفقار علی بھٹو جونیئر سے ہوئی۔ وہ پرسکون اور قابلِ رسائی ہیں، اور نفاست سے سفید شلوار قمیض (جو جنوبی اور وسطی ایشیا کا روایتی لباس ہے) میں ملبوس ہیں۔ اُن کے دفتر، فتح پوائنٹ آرکائیوز، 71 کلفٹن میں، وہ بھٹو خاندان کی نایاب تصاویر اور مختلف موضوعات پر مشتمل کتابوں کے درمیان بیٹھے ہیں۔ اُن کی پھوپھی، بینظیر بھٹو کی خودنوشت “ڈوٹر آف دی ایسٹ” ایک طرف نظر آتی ہے، جبکہ دوسری طرف آرنلڈ شوارزنیگر کی نیو انسائیکلوپیڈیا آف اڈرن باڈی بلڈنگ رکھی ہے۔ (ذوالفقار نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ وہ باڈی بلڈنگ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔)
علامتوں اور جدوجہد کا گھر
بھٹو خاندان کی مشہور رہائش گاہ تک جانے والی سڑک کے کنارے بھٹو جونیئر کے والد، مرحوم میر مرتضیٰ بھٹو، کا ایک بڑا پوسٹر لگا ہوا ہے۔ یہ سیاستدان 1996 میں اِسی رہائش گاہ کے قریب پولیس کے ساتھ تصادم کے بعد قتل کر دئے گئے تھے۔ گھر کے باہر کی دیواریں شناخت اور مزاحمت کی علامتوں سے مزین ہیں: سندھی زبان کے حروف تہجی، سندھ کا نقشہ جس میں دریائے سندھ بہتا دکھایا گیا ہے، فلسطین کا نقشہ اور جھنڈا، یروشلم میں واقع مسجد الاقصیٰ کی تصویر، اور مرکزی دروازے پر بنی ہوئی ایک ننگی تلوار کے اوپر اٹھا ہوا مکا۔ پیغام واضح ہے: یہ وہ جگہ ہے جہاں تاریخ اور مزاحمت ایک دوسرے سے جُڑتے ہیں۔
ایک فنکار، ماہرِ ماحولیات اور کارکن، بھٹو جونیئر کا نام ان کے دادا، سابق پاکستانی صدر اور اس وقت کے وزیر اعظم، ذوالفقار علی بھٹو کے نام پر رکھا گیا ہے۔ اپنی ماحولیاتی تنظیم بلھن بچاؤ کے ذریعے، وہ دریائے سندھ اور اِس میں پائی جانے والی خطرے سے دوچار اور نابینا بلھن کے لیے (دریائے سندھ کی ڈولفن) کے تحفظ کے لئے کام کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ “ہم بے حد خوش نصیب ہیں کہ ایک ایسا نایاب میٹھے پانی کا سمندری جانور ایک ایسے دریا میں زندہ ہے جو شدید دباؤ اور حد سے زیادہ استحصال کی وجہ سے مر رہا ہے”
بلھن سے اُن کی وابستگی محض علامتی نہیں ہے۔ وہ فخر سے اِس جانور کا ایک ٹیٹو (گودا ہوا نقش)دکھاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ “یہ خوبصورت، نازک، شرمیلا مگر توجہ سے محروم اپنی بقا کے لیے برسرِ پیکار ایک جاندار ہے۔ میرے لئے یہ مزاحمت کی علامت ہے۔ اِس کے بقا کے لئے جدوجہد کرنا میرے ایمان کا ایک لازمی حصہ ہے۔ یہ سندھی عوام کی جدوجہد کی عکاسی کرتا ہے۔ دونوں اپنے وجود کے لئے دریائے سندھ پر منحصر ہیں۔
حال ہی میں، ذوالفقار متنازعہ چھ کینالز پروجیکٹ کے خلاف احتجاج کا حصہ رہے ہیں۔ وہ اِس ترقیاتی منصوبے کی سخت مخالفت کرتے ہیں اور اِسے سندھ کے پہلے ہی کم ہوتے پانی کے وسائل کے لئے ایک ممکنہ تباہی قرار دیتے ہیں۔ ذوالفقار نے اپنی وارننگ دہراتے ہوئے مجھ سے کہا کہ “یہ بھوک اور ممکنہ قحط کا سبب بنے گا۔ موسمیاتی تبدیلی پہلے ہی پانی کی دستیابی کو کم کر رہی ہے، اور ہم باقی ماندہ تھوڑے سے پانی پر پہلے سے زیادہ انحصار کر رہے ہیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ پانی کی قلت میں اضافہ کرے گا، زرعی معاش کو خطرے میں ڈالے گا اور ماحولیاتی تباہی کا باعث بنے گا۔ اُن کے بیانات زیریں سندھ کے بہت سے لوگوں کے جذبات کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ صوبے کے پانی کے حقوق کو بالائی پنجاب کے حق میں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ سندھ میں حکمران اور اپوزیشن دونوں جماعتوں نے اِس منصوبے کے طویل مُدّتی اثرات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
وفاقی حکومت صوبے کے جنوب میں صحرائے چولستان کو سیراب کرنے کے لئے پنجاب میں دریائے سندھ پر نہریں تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تاہم، سندھ کے لوگ، جو پہلے ہی شدید پانی کی قلت کا شکار ہیں، خدشہ رکھتے ہیں کہ اس منصوبے سے اُن کے حصے کا پانی مزید کم ہو جائے گا۔ یہ خدشہ بے بنیاد نہیں ہے۔ پاکستان کے محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق ستمبر 2024 سے جنوری 2025 کے وسط تک سندھ میں بارشوں میں 52 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ دریائے سندھ پاکستان کا 90 فیصد زرعی پانی فراہم کرتا ہے۔
پاکستان میں پہلے ہی بے شمار ڈیم موجود ہیں جن کی تعداد 150 ہے، یہ تعداد بیشتر ترقی یافتہ ممالک سے زیادہ ہے۔ یہ خیال کہ ڈیموں کی تعمیر ترقی کے مترادف ہے محض ایک مفروضہ ہے
جب دیامر بھاشا ڈیم کے بارے میں سوال کیا گیا تو ذوالفقار نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ اگرچہ اِس کے کچھ مثبت اثرات ہو سکتے ہیں، لیکن وہ کہتے ہیں کہ ملک میں پہلے ہی کافی تعداد میں ڈیم موجود ہیں۔ “پاکستان میں پہلے ہی 150 ڈیم ہیں جو کہ تعداد میں بیشتر ترقی یافتہ ممالک سے زیادہ ہے۔ یہ خیال کہ ڈیموں کی تعمیر ترقی کے مترادف ہے محض ایک مفروضہ ہے۔ اگرچہ ڈیم توانائی اور بڑے پیمانے پر ہائیڈرو پاور فراہم کر سکتا ہیں، لیکن وقت کے ساتھ یہ مٹی سِے بھر جاتے ہیں۔” وہ سکھر کو ایک مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں، جہاں دریا کا فرش اتنا بلند ہو چکا ہے کہ اب وہاں اکثر سیلاب آتے ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ “ایک وقت تھا جب آپ سادھ بیلو مندر کی سیڑھیاں واضح طور پر دیکھ سکتے تھے لیکن اب پانی اِن سیڑھیوں کے بالکل اوپر تک پہنچ چُکا ہے۔”
ذوالفقار کہتے ہیں، “ڈیم بنانا محض دکھاوے کا عمل ہے۔ یہ پیسے کو تیزی سے خرچ کرنے کا وہ طریقہ ہے جہاں اس کی کوئی ضرورت نہیں۔” وہ لمحہ بھر کو رک کر گہری سوچ میں ڈوب جاتے ہیں، پھر اِن پالیسی سازوں کی محدود سوچ پر سخت تنقید کرتے ہیں جو بڑے ترقیاتی منصوبوں کو ہی پانی کے انتظام کا واحد حل سمجھتے ہیں۔”ہمیں زیادہ تخلیقی انداز میں سوچنے کی ضرورت ہے۔ آخر ہم بحیثیت قوم فکری طور پر اتنے محدود کیوں ہیں کہ صرف ایک ہی حل ڈیم کے بارے میں سوچتے ہیں؟ سندھ کے ساتھ یہی ناانصافی ہوتی آئی ہے۔ ہمارا پانی ہم سے چھینا گیا ہے۔ اِسے مسلسل ایک دباؤ کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے، اور پاکستان کے قیام سے لے کر آج تک ہمیں پانی کی قلت کی دھمکی دی جاتی رہی ہے۔
کم زمین، زیادہ ڈیم
ذوالفقار کے نزدیک زمین کی اصلاحات پاکستان کی سب سے اہم ضروریات میں سے ایک ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ “یہ سوچ کر ہی دل پر بوجھ محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے جیسے غریب ملک میں اربوں روپے ایسے منصوبے پر خرچ کئے جا رہے ہیں جس کا فائدہ ایک فیصد سے بھی کم (صفر اعشاریہ پانچ) آبادی کو ہوگا۔ اگر اتنی بڑی رقم خرچ کرنی ہے تو اِسے غریب عوام کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال ہونا چاہیے۔ مگر یہاں ہمیشہ کی طرح غریبوں سے یہی توقع رکھی جائے گی کہ وہ بے لوث ہو کر اُن لوگوں کے لئے محنت کرتے رہیں جو اِن کی بھلائی کے بارے میں سوچنا بھی ضروری نہیں سمجھتے۔” اُن کے لہجے میں گہری مایوسی اور طنز کی تلخی نمایاں تھی۔
ذوالفقار کا کہنا ہے کہ اُن کے ہاری (کاشتکار) بھی زمین کے مالک بننے کے حق دار ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ “کسان کو یہ اطمینان ہونا چاہیے کہ جس زمین پر وہ محنت کرتا ہے، وہ واقعی اُس کی اپنی ہے، اُس کے نام پر، اُس کے بچوں کے نام پر – اور کوئی اِس سے چھیننے نہیں آئے گا۔ ایسی اصلاحات کی ضرورت ہے جو اِس بات کی ضمانت دیں کہ کسانوں کو انسان سمجھا جائے، انہیں مالک تسلیم کیا جائے، محض نوکر نہیں۔” وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ “میرے دادا نے سندھ میں اپنے ہاریوں کو اپنی زمین کا بڑا حصہ دے دیا تھا۔”
پاکستان کے ممتاز سیاسی خاندان کے رکن ہونے کے ناطے، ذوالفقار کو بخوبی اندازہ ہے کہ اُن کے الفاظ کی کیا اہمیت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ “جب میں بولتا ہوں تو اس کا اثر الگ ہوتا ہے۔ میں اس حقیقت کو نہیں بدل سکتا، اور میں اس سے بے خبر بھی نہیں ہوں۔ میں اپنی آواز صرف اُن باتوں کے لئے بلند کرتا ہوں جو واقعی معنی رکھتی ہیں۔”
ذوالفقار کے نزدیک زمین کی اصلاحات پاکستان کی سب سے اہم ضروریات میں سے ایک ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ “یہ سوچ کر ہی دل پر بوجھ محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے جیسے غریب ملک میں اربوں روپے ایسے منصوبے پر خرچ کئے جا رہے ہیں جس کا فائدہ ایک فیصد سے بھی کم (صفر اعشاریہ پانچ) آبادی کو ہوگا۔ اگر اتنی بڑی رقم خرچ کرنی ہے تو اِسے غریب عوام کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال ہونا چاہیے۔ مگر یہاں ہمیشہ کی طرح غریبوں سے یہی توقع رکھی جائے گی کہ وہ بے لوث ہو کر اُن لوگوں کے لئے محنت کرتے رہیں جو اِن کی بھلائی کے بارے میں سوچنا بھی ضروری نہیں سمجھتے۔” اُن کے لہجے میں گہری مایوسی اور طنز کی تلخی نمایاں تھی۔
ذوالفقار کا کہنا ہے کہ اُن کے ہاری (کاشتکار) بھی زمین کے مالک بننے کے حق دار ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ “کسان کو یہ اطمینان ہونا چاہیے کہ جس زمین پر وہ محنت کرتا ہے، وہ واقعی اُس کی اپنی ہے، اُس کے نام پر، اُس کے بچوں کے نام پر اور کوئی اِس سے چھیننے نہیں آئے گا۔ ایسی اصلاحات کی ضرورت ہے جو اِس بات کی ضمانت دیں کہ کسانوں کو انسان سمجھا جائے، انہیں مالک تسلیم کیا جائے، محض نوکر نہیں۔” وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ “میرے دادا نے سندھ میں اپنے ہاریوں کو اپنی زمین کا بڑا حصہ دے دیا تھا۔”
پاکستان کے ممتاز سیاسی خاندان کے رکن ہونے کے ناطے، ذوالفقار کو بخوبی اندازہ ہے کہ اُن کے الفاظ کی کیا اہمیت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ “جب میں بولتا ہوں تو اس کا اثر الگ ہوتا ہے۔ میں اس حقیقت کو نہیں بدل سکتا، اور میں اس سے بے خبر بھی نہیں ہوں۔ میں اپنی آواز صرف اُن باتوں کے لئے بلند کرتا ہوں جو واقعی معنی رکھتی ہیں۔”
بھٹو پاکستان کی ماحولیاتی پالیسی پر بے باک رائے رکھتے ہیں۔ اُنہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ دنیا کے بیشتر ممالک کی طرح پاکستان بھی سوائے زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں کررہا۔ “کوپ 27 (کانفرنس آف پارٹیز 27) کے نقصان اور تباہی فنڈ ہی کو لے لیں۔ دو سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن 2022 کے سیلاب سے متاثر ہونے والے افراد آج بھی بے گھر ہیں۔”
پاکستان اور دیگر ممالک کو کیا کرنا چاہیے؟ بھٹو اِس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ امیر ممالک “کاربن کے زیادہ اخراج کے ذمہ دار” ہیں لیکن وہ مقامی سطح پر عملی اقدامات پر بھی زور دیتے ہیں۔ خاص طور پر دریائے سندھ کے قدرتی بہاؤ کی بحالی پر، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اِس کا پانی سندھ کی گرم اور خشک زمینوں تک پہنچ سکے۔ وہ کہتے ہیں کہ ”دریا کو سمندر کی طرف بہنے دو۔