جوڈیشل کمیشن کے رکن اختر حسین عدالتی تقرریوں میں تنازعات پر مستعفی

اختر حسین نے استعفے میں موقف اپنایا ہے کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی رکنیت سےاستعفیٰ دیتا ہوں، پاکستان بار کونسل نےمجھے 3مرتبہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا رکن نامزد کیا،اپنی ذمہ داریاں اپنی بہترین صلاحیتوں کےمطابق انجام دیتا رہا،اخترحسین پاکستان بارکونسل کی جانب سےجوڈیشل کمیشن کےنامزدرکن تھے

02:09 PM, 24 Feb, 2025

نیوز ڈیسک

جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے رکن ایڈووکیٹ اختر حسین نے حالیہ عدالتی تقرریوں میں تنازعات کو جواز بناتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، اخترحسین پاکستان بارکونسل کی جانب سےجوڈیشل کمیشن کےنامزدرکن تھے۔

نیا دور کے مطابق جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے رکن ایڈووکیٹ اختر حسین نے چیئرمین جوڈیشل کمیشن جسٹس یحییٰ آفریدی کو بھجوادیا۔

اختر حسین نے استعفے میں موقف اپنایا ہے کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی رکنیت سےاستعفیٰ دیتا ہوں، پاکستان بار کونسل نےمجھے 3مرتبہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا رکن نامزد کیا،اپنی ذمہ داریاں اپنی بہترین صلاحیتوں کےمطابق انجام دیتا رہا۔

انہوں نے اپنے فیصلے کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھا کہ حالیہ عدالتی تقرریوں سےمتعلق تنازعات کی بنا پر مزیدکام جاری نہیں رکھ سکتا، جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی رکنیت سے مستعفی ہوتا ہوں۔  عدلیہ کی ترقی،خودمختاری کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھوں گا،چیئرمین پاکستان بار کونسل کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

پاکستان بار کونسل کا اجلاس طلب، احسن بھون کو نامزد کیے جانے کا امکان
ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن میں نئے ممبر کے تقرر کےلیے پاکستان بار کونسل نے اہم اجلاس بدھ کو طلب کرلیا، ممبر جوڈیشل کمیشن کے لیے سینئر وکیل احسن بھون کو نامزد کیے جانے کا امکان ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے 26 ویں آئینی ترمیم کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی تشکیل کے لیے حکومت اور اپوزیشن سے نام طلب کیے تھے۔

سپریم کورٹ کے ججز کی تعیناتی کے لیے 13 رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے گا جس کے سربراہ چیف جسٹس ہوں گے۔

26 ویں آئینی ترمیم کے مطابق 13 رکنی جوڈیشل کمیشن کے سربراہ چیف جسٹس پاکستان ہوں گے، جب کہ عدالت عظمیٰ کے 3 سینیئر ترین ججز بھی کمیشن کا حصہ ہوں گے اور آئینی بینچ کا سینیر ترین جج بھی جوڈیشل کمیشن کا رکن ہوگا۔

کمیشن کے ارکان میں وزیر قانون، اٹارنی جنرل اور کم از کم 15 سالہ تجربے کا حامل پاکستان بار کونسل کا ایک نمائندہ بھی شامل ہوگا۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ سے 2 حکومتی اور 2 اپوزیشن ارکان بھی رکن ہوں گے، جب کہ سینیٹ میں ٹیکنوکریٹ الیکشن لڑنے کے لیے اہل خاتون یا غیر مسلم کو بھی 2 سال کے لیے جوڈیشل کمیشن کاحصہ بنایا جائے گا، اس رکن کا تقرر چیئرمین سینیٹ کریں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا انتخاب کیا گیا ہے، اس سے قبل الجہاد ٹرسٹ کیس کے فیصلے کی روشنی میں سپریم کورٹ کا سب سے سینیئر جج ہی ملک کا چیف جسٹس ہوتا تھا۔

26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے قبل جسٹس منصور علی شاہ کو سنیارٹی اصول کے تحت اگلا چیف جسٹس پاکستان بننا تھے تاہم 22 اکتوبر کو چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی اکثریت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کردیا تھا۔

مزیدخبریں