امجد حسین کون ہیں؟ گلگت بلتستان کے نئے وزیرِ اعلیٰ کی سیاسی کہانی

امجد حسین کو "حقِ حکومت" اور "حقِ ملکیت" کی تحریکوں کے حوالے سے بھی خاص شہرت حاصل ہے۔ ان تحریکوں کا مقصد گلگت بلتستان کے عوام کو زیادہ سیاسی اختیارات اور زمینوں پر مالکانہ حقوق دلانا تھا۔ بعد ازاں یہی نکات پیپلز پارٹی کے سیاسی منشور کا اہم حصہ بن گئے۔

12:00 AM, 24 Jun, 2026

سرور حسین سکندر

پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صدر، سینئر قانون دان اور تجربہ کار سیاستدان، ایڈووکیٹ امجد حسین گلگت بلتستان کے نئے وزیرِ اعلیٰ منتخب ہو گئے ہیں۔ نو منتخب اسمبلی میں انہیں مختلف سیاسی جماعتوں اور آزاد اراکین کی وسیع حمایت حاصل ہوئی، جو خطے کی سیاست میں ایک غیر معمولی اتفاقِ رائے کی عکاسی کرتی ہے۔

ان کی کامیابی میں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن)، استحکام پاکستان پارٹی، مجلس وحدت المسلمین اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد اراکین نے کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں وہ گلگت بلتستان کے اعلیٰ ترین منتخب منصب تک پہنچے۔

امجد حسین 1975 میں گلگت کے علاقے امپھری میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک معروف سیاسی خاندان سے ہے۔ ان کے والد، مرحوم آذر خان، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق چیئرمین ضلع گلگت تھے۔ سیاسی اور عوامی خدمت کے ماحول میں پرورش پانے والے امجد حسین نے کم عمری ہی میں سیاست، قانون اور عوامی خدمت میں دلچسپی لینا شروع کر دی تھی۔

انہوں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی اسکول نمبر 1 گلگت سے حاصل کی، جبکہ ایف ایس سی پبلک اسکول اینڈ کالج جوتیال سے مکمل کی۔ بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کر کے عملی وکالت کا آغاز کیا اور جلد ہی گلگت بلتستان کے ممتاز وکلا میں شمار ہونے لگے۔

قانونی میدان میں انہوں نے گلگت بلتستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور پیپلز لائرز فورم کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کے سینئر وکیل کی حیثیت سے انہیں آئینی، انتظامی اور عوامی مفاد کے مقدمات میں نمایاں شہرت حاصل ہوئی۔

ان کی سیاسی جدوجہد کا آغاز طالب علمی کے دور میں ہوا، جب 1996 میں وہ پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے ضلعی صدر منتخب ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی میں مختلف تنظیمی ذمہ داریاں سنبھالیں اور بتدریج پارٹی کی اہم قیادت میں شامل ہو گئے۔

 2009 سے 2014 تک وہ گلگت بلتستان کونسل کے رکن رہے، جہاں انہوں نے آئینی اصلاحات، قانون سازی اور طرزِ حکمرانی سے متعلق امور میں فعال کردار ادا کیا۔ 2015 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے انہیں گلگت بلتستان کا صدر مقرر کیا اور پارٹی کو ازسرِ نو منظم کرنے کی ذمہ داری سونپی۔

ان کی سیاسی زندگی کا ایک اہم سنگِ میل 2020 کے انتخابات تھے، جب انہوں نے GBA-1 گلگت-1 اور GBA-4 نگر-1، دونوں نشستوں سے کامیابی حاصل کی۔ وہ گلگت بلتستان کی انتخابی تاریخ کے پہلے سیاستدان بنے جنہوں نے ایک ہی انتخاب میں دو حلقوں سے کامیابی حاصل کی۔ بعد میں انہوں نے گلگت کی نشست برقرار رکھتے ہوئے نگر کی نشست چھوڑ دی۔

2020 کے انتخابات کے بعد وہ 2023 تک گلگت بلتستان اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف رہے۔ اس دوران انہوں نے آئینی حقوق، جمہوری طرزِ حکمرانی اور خطے کے سیاسی اختیارات کے حوالے سے بھرپور آواز اٹھائی۔

امجد حسین کو "حقِ حکومت" اور "حقِ ملکیت" کی تحریکوں کے حوالے سے بھی خاص شہرت حاصل ہے۔ ان تحریکوں کا مقصد گلگت بلتستان کے عوام کو زیادہ سیاسی اختیارات اور زمینوں پر مالکانہ حقوق دلانا تھا۔ بعد ازاں یہی نکات پیپلز پارٹی کے سیاسی منشور کا اہم حصہ بن گئے۔

2026 کے عام انتخابات میں انہوں نے دوبارہ GBA-1 گلگت-1 سے کامیابی حاصل کی اور پاکستان پیپلز پارٹی کو اسمبلی کی سب سے بڑی جماعت بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ بعد ازاں مختلف جماعتوں اور آزاد اراکین کی حمایت سے وزیرِ اعلیٰ منتخب ہونا ان کی سیاسی بصیرت اور وسیع قبولیت کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔

سیاست اور وکالت کے علاوہ، وہ کاروباری اور سماجی سرگرمیوں سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ فٹ بال، ماہی گیری اور مطالعہ ان کے پسندیدہ مشاغل میں شامل ہیں۔

تقریباً تین دہائیوں پر محیط سیاسی، قانونی اور عوامی خدمات کے تجربے کے ساتھ، امجد حسین ایک ایسے وقت میں گلگت بلتستان کی قیادت سنبھال رہے ہیں، جب عوام کو سیاسی استحکام، ادارہ جاتی اصلاحات اور تیز رفتار سماجی و معاشی ترقی کی امیدیں وابستہ ہیں۔

مزیدخبریں